Code : 3219 38 Hit

سعودی اتحاد کے ہاتھوں یمنی تاجروں کا بھاری نقصان

یمن کے کچھ کاروباری ذرائع نے بتایا کہ عدن کی بندرگاہ پر سعودی اتحاد کے اقدامات نے یمنی تاجروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔

ولایت پورٹل:عربی21ویب سائٹ نے یمنی تجارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدن کی بندرگاہ میں سعودی اتحاد کے اقدامات کے سبب بندرگاہ میں مال بردار بحری جہازوں سے سامان اتارنے میں تاخیر ہوئی  جس سے یمنی تاجروں کو  وسیع پیمانہ پر نقصان پہنچا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے ترکی سے لوہے لانے والا مال بردار بحری جہاز بیس دن قبل المعلا بندرگاہ پر پہنچی لیکن سعودی اتحاد نے اس کو خالی کرنے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے یمنی تاجروں کو  وسیع پیمانہ پر نقصان پہنچا ہے۔
مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مال بردار بحری جہاز میں ترکی سے آنے والا اکتالیس ہزار ٹن لوہا ہے جس کو سعودی اتحاد اتارنے کی اجازت نہیں دے رہے اور مختلف بہانے بنا رہے ہیں جس سے تاجروں کو نقصان ہورہا ہے۔
یمنی تجار یونین کا کہنا ہے کہ جب یمن کی مستعفی حکومت کے وزیر ٹرانسپورٹ  کے دفتر سے یہ لوہا اتارنے کی اجازت نہ دیے جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تا انھوں نے کہا کہ اس کی اجازت سعودی اتحاد کے ہاتھ میں ہے۔
سعودی اتحاد کے ان اقدامات نے یمنی تاجروں پر بھاری اخراجات عائد کردیئے ہیں  اس لیے کہ انھیں  روزانہ  کی بنیاد پر مال بردار بحری جہازوں کو کرایہ ادا کرنا پڑرہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات سے شہریوں پر بھی منفی اثر پڑتا ہے کیونکہ تاجر نقصان کی بھرپائی کے لیےاجناس کی قیمتوں میں اضافے کا سہارا لیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق  سعودی اتحاد نے کہا ہے کہ چونکہ یہ  جہاز ترکی سے آیا ہے اس لیے اس لیے اس سے سامان اتارنے کی اجازت دینے میں تاخیر ہورہی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम