Code : 4075 12 Hit

لبنان کے زخموں پر صیہونی نواز سعودی چینلوں کی نمک پاشی

سعودی چینل بیروت کی بندرگاہ میں ہونے والے دھماکے کا الزام حزب اللہ پر لگا کر کیچڑ والے پانی سے مچھلی پکڑنےکی کوشش کررہے ہیں۔

ولایت پورٹل:آئی آر این اے کی رپورٹ کے مطابق ، بیروت کی بندرگاہ میں واقع ایک گودام میں ہونے والے دھماکے کے ابتدائی لمحات ہی میں سعودی چینل، جو ہمیشہ صہیونی چینلوں اور پالیسیوں کی سمت آگے بڑھ رہے ہیں ، کو ایک بار پھر مزاحمت پر الزام کرنے کا موقع مل گیا،اسی دوران العربیہ اور الحدث چینلز نے پہلے ہی لمحوں میں دعویٰ کیا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ دھماکہ بیروت کی بندرگاہ میں حزب اللہ کے اسلحہ اور گولہ بارود ڈپو میں ہوا جب کہ دنیا کے بہت سارے نیوزچینل اس واقعے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے منتظر تھے ، سعودی چینلز کے  ذریعہ لبنان کی اسلامی مزاحمت کے خلاف فوری الزامات سے سب حیران ہوئے۔
لبنان کے حکام کی جانب سے اس واقعے کی وجوہ کا سرکاری طور پر اعلان کرنے کے بعد بھی دونوں چینل اپنے دعوؤں سے پیچھے نہیں ہٹے  اور حزب اللہ کے خلاف الزام ابھی بھی ان دونوں چینلز کے صفحہ اول کی شہ سرخیوں میں سے ایک ہے،واضح رہے کہ جہاں ایک طرف بہت سارے ممالک کے عہدیدار لبنانی قوم اور حکومت کی مدد کے لئے اپنی تیاری کا اعلان کر رہے ہیں وہیں سعودی چینل اپنے صہیونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے گدلے پانی میں مچھلی پکڑ نے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس بار ان کا تیر نشانے پر نہیں لگا اور یہاں تک کہ صہیونی میڈیا  جو ہمیشہ سعودیوں کے مطابق رہتا ہے اس نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔
العربیہ نے سانحہ کے ایک گھنٹہ بعد اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھاکہ دھماکے کے بعد بیروت کی بندرگاہ میں حزب اللہ کی ایک فورس کو تعینات کیا گیا  تاکہ  اس طرح وہ حزب اللہ کے خلاف الزام تراشی کو قابل اعتبار بناسکے،یہ کہانی جاری رہی یہاں تک کہ  عرب ٹویٹر صارفین نے بیروت واقعے میں سعودیوں کے بیانیے پر سوال اٹھائے  اور اس کو مردہ خوری قرار دیا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین