سعودی عرب کی افغانستان میں نیا رول ادا کرنے کی کوشش

افغانستان میں طالبان کی تحریک کے دوبارہ ظہور کے بعد سعودی سفارتی اور سیاسی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاض  20 سال کی علیحدگی کے بعدطالبان کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ ایک اس ملک کے مستقبل میں نیا کردار ادا کرے۔

ولایت پورٹل:خطے میں قطر کی پالیسیوں کے قریب الخلیج آن لائن نیوز ویب سائٹ  نے اپنے آج کےشمارے میں اعلان کیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب افغانستان میں ایک نیا کردار ڈھونڈ رہا ہےجس کے لیے اس نے مدد کے لیے پاکستان کی طرف رجوع کیا ہے،یادرہے کہ اگست کے وسط میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد  سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گزشتہ ہفتے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو ٹیلی فون کیا اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
مشرق وسطیٰ کے واقعات پر رپورٹنگ کرنے والے برطانوی نیوز پورٹل  میڈل ایسٹ آئی نے لکھا کہ سعودی عرب نے اپنے علاقائی حلیف پاکستان کو طالبان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور تحریک میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے، ویب سائٹ نے مڈل ایسٹ ریسرچ سینٹر کے ماہر اور ریٹائرڈ امریکی سفیر جیرالڈ ویرسٹن کے حوالے سے بتایا کہ ہمیشہ کی طرح اسلام آباد اور ریاض کے درمیان فالو اپ رابطے جاری ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان غیر متوقع طور پر گزشتہ جولائی میں پاکستان روانہ آئے اور  اسی مہینے امریکی افواج نے افغانستان کے بگرام ایئر بیس کو خفیہ طور پر چھوڑ دیا جبکہ گزشتہ اگست میں بھی سعودی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے سربراہ فیاض بن حامد الرویلی اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے درمیان ایک ملاقات ہوئی۔
یادرہے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے اعلان کیا کہ  یہ تنظیم حکومتوں کو تسلیم کرنے کے معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین