Code : 2596 94 Hit

سعودی عرب ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لے مجبور ہے: وال اسٹریٹ جرنل

امریکہ سےخاطر خواہ مدد فراہم نہ ہونے کی وجہ سے سعودی عہدے داروں نے ایران اور دیگر علاقائی حریفوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے کوششیں شروع کردی ہیں ۔

ولایت پورٹل:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی تیل پر مبنی معیشت پر کشیدگی کے تشویشناک اثرات نےسعودی حکام کو خاموشی کے ساتھ ایران اور دیگر علاقائی حریفوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سوچنے پر مجبور کردیا ہے،سعودی عرب کےخطہ کے ممالک کے ساتھ روبط بہتر کرنے کے لیے کوشش کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ انھیں امریکہ  اور اس کے اتحادیوں کی طرف  سےخاطر خواہ مدد فراہم نہیں ہورہی ہے،قابل ذکر ہے کہ سعودی تیل کمپنی آرامکو پر یمنیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے وقتی طور پر اس ملک کی خام تیل پیدا کرنے صلاحیت ہی ختم ہوگئی تھی،اس چیز نے سعودیوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے،آرامکوحملوں کے بعد امریکی حکومت نے حملوں کا الزام تو ایران پر عائد کیا لیکن خود کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا صرف سعودی  عرب کے دفاع کو فروغ دینے کے دعوے کے مقصد کے ساتھ چند ایک  فوجی بھیجنے ہی پر اکتفاء کی،ایک سینئر سعودی عہدیدار کا کہنا ہے کہ 9ستمبر کے حملہ کھیل کا پانسہ ہی پلٹ کررکھ دیا،وال اسٹریٹ جرنل نے سعودی ، یوروپی اور امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے نمائندوں نے حالیہ مہینوں میں عمان ، کویت اور پاکستان میں براہ راست اور ثالثی چینلوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا ہے،حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رد بدل ہونے والے پیغامات میں  اصل توجہ سعودی عرب اور ایران کے مابین تناؤ کو کم کرنے پر دی گئی ہے،ایرانی عہدے دار پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ تہران نے ریاض کو ایک امن منصوبہ پیش کیا ہے جس میں دو طرفہ عدم جارحیت اور تعاون  کا معاہدہ شامل ہے۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین