Code : 2285 51 Hit

سعودی عرب خطہ کا بیمار ملک ہے : مغربی میڈیا

سعودی عرب اس وقت ،فوجی، سیاسی اور ڈپلومیٹک تینوں میدانوں میں شکست کھا چکا اور آج، طاقت کا پانسہ ایران کے حق میں پلٹ چکا ہے۔

ولایت پورٹل:فرانسیسی جریدے فگارو نےاپنی ایک رپورٹ  میں لکھا ہے کہ موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہاجاسکتا ہے کہ سعودی عرب کی حالت  اس  بیمار انسان کی طرح جو ہر طرح سے امید ہار چکا ہو،ریاض کی سیاسی، سفارتی اور فوجی تینوں محاذ پر شکست ہوچکی ہے ہے فگارو نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اس وقت ،فوجی، سیاسی اور ڈپلومیٹک تینوں میدانوں میں شکست کھا چکے ہیں اور آج، طاقت کا پانسا ایران کے حق میں پلٹ چکا ہے ،فگارو کے تجزیہ نگار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ آج سے ڈھائی سال پہلے دنیا کے سب سے طاقتور ملک   امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اپنا پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب کا کیا تو وہاں کے بادشاہ اپنے اتحادیوں اور طاقت کے بل بوتے پر خود کو عظیم قدرت سمجھنے لگے کہ جو مشرق وسطہ کی تقدیر بدل سکتی ہے، اس وقت کہا جارہا تھا کہ سعودی تیل کمپنی آرامکو کو پرائیویٹ سیکٹر میں دینے کی وجہ سے ملکی معیشت میں دو ٹریلین ڈالر کی آمدنی کا اضافہ ہوگا جس سے مختلف میدانوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی ،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اورسعودی وزیر دفاع نے دعوی کیا کہ ہمارے پاس تمام مسائل پر موجود ہیں کہ ہم ایران کے اندر جاکر جنگ کرسکتے ہیں  لیکن  آج حالات بدل چکے ہیں ،یہ ملک خطہ میں ایک بیمار انسان کی طرح دکھائی دیتا ہے جو ہر میدان میں کمزور ہو چکا ہے ،انھوں نے  مزید لکھا ہے ہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کو ناقابل تلافی  نقصان پہنچا ہے جس میں آرامکوتیل کمپنی کی تنصیبات پر ہونے والے  ڈرون حملہ کی وجہ سے اس کمپنی کی ایک دن میں پچاس فیصد برآمد میں کمی واقع ہوگئی،یمنی تنظیم انصار اللہ نے اس حملہ کی  ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بمباری کا جواب ہے جو سعودی عرب یمن کے بیگناہ عوام پر کرتا ہے ، یاد رہے کہ حوثی شمالی یمن  کے پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں  جن کے خلاف ن2015 سے بن سلمان جنگ چھیڑ رکھی ہے ،سعودی عرب کے تمام تر جنگی سازوسامان کے باوجود ان مٹھی بھر مسلح افراد کو شکست دینے میں ناکام رہا ہے ،ابھی کچھ دن پہلےانھوں نے  سعودی عرب کی ایک پوری بٹالین کو گرفتارکرلیا ہے جس کے باعث سعودی  فوج میں ہلچل مچ گئی ہے،تجزیہ نگار نے مزید لکھا ہے کہ سعودی عرب نے چند ملکوں کے ساتھ مل کر یمن پر حملے کے لئے ایک اتحاد بنایا جس نے آگے چل کر اس ملک کے ہسپتالوں، اسکولوں، کالجوں یہاں تک کہ  جیل کو بھی نہیں بخشا،اس طرح سعودی عرب نے اپنے ملک میں بھی شیخ محمد باقر نمر کو شہید جس کی وجہ سے سعودی  شیعہ آبادی ان سے دور ہوگئی  اس لئے کہ یہ لوگ اپنے رہنما کے قاتل کو کسی صورت میں نہیں معاف نہیں کر سکتے ،کہا جاتا ہے کہ ٹھیک ہے شیخ سعودی بادشاہت کا احترام نہیں کرتے تھے لیکن انھوں نے کوئی ایسا  جرم نہیں کیا تھا  جس کیوجہ  سے انھیں قتل کیا جاتا،فگارو کے من تجزیہ نگار نے لکھا ہے کہ بن سلمان اب یہ نہیں کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ لڑیں گے  ،وہ تواب اپنے ملک کا دفاع کرنے کے بھی قابل نہیں رہے ہیں  اور کہہ رہے کہ اگر ایران  اور سعودی عرب کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس سے بین الاقوامی برادری کو سخت جھٹکا لگے گا۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम