آل سعود نے مسجد حرام میں ہزاروں افراد کے قتل کو چھپایا:حرمین شریفین پر سعودی حکام کے انتظام پر نگرانی کرنے والی بین الاقوامی کمیٹی

مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات پر سعودی حکام کے انتظام کو رصد کرنے والی بین الاقوامی کمیٹی نے مکہ بغاوت اور مسجد الحرام کے قبضے کے خلاف کریک ڈاؤن میں سعودی حکومت کی جانب سے ہزاروں حاجیوں کی ہلاکت کو چھپانے پر اس حکومت مذمت کی ہے۔

ولایت پورٹل:حرمین شریفین پر سعودی  حکام کے انتظام پر  نگرانی کرنے والی بین الاقوامی کمیٹی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں سعودی حکومت کے ہاتھوں 1979 میں  مکہ بغاوت کے مسئلہ میں ہزاروں حاجیوں کے قتل عام کو چھپانے کے سلسلہ میں اس ملک کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے  کہ کہا ہے کہ حکومت نے حاجیوں کے ساتھ خونریز جھڑپ کی جس سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ سعودی حکومت حرمین شریفین پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اس لیے کہ اس نے اپنی طاقت کو بچانے کی خاطر بیرونی طاقتوں کی  مدد سے دونوں حرموں کی بے حرمتی کی۔
واضح رہے کہ ’’جو چھپایا جاتا ہے وہ بڑا ہوتا ہے ‘‘ کے نام سے دو دن سے نشر ہونے والے پروگرام میں  مکہ کی بغاوت کو خونریز جھڑپوں کے ذریعہ کچلنے کی تفصیلات پیش کی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکام کے دعووں کے برخلاف اس حادثہ میں غیر ملکی طاقتوں نے مسجد الحرام کی بے حرمتی کی۔
الجزیرہ ٹیلیویژن نے بغاوت کو کچلنے میں شامل فرانسیسی افواج کو کمانڈنگ کرنے والے فرانسیسی افسر کے حوالے سے کہا کہ سعودی دعووں کے برخلاف ، اس واقعے کے نتیجے میں تین ہزار حاجیوں سمیت 5000 افراد جاں بحق ہوئے۔
یادرہے کہ ریاض نے نومبر 2019 میں پہلی مرتبہ مسجد حرام کے آپریشن کی تصاویر جاری کیں ، لیکن انھوں  نے اس آپریشن میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی تردید کی ہے۔


 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین