Code : 3208 17 Hit

آل سعود کے پاس فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا کوئی جواز نہیں:حماس کا ریاض کے خلاف احتجاج

حماس پولیٹیکل بیورو کے ایک ممبر نے کہا کہ اس تحریک اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں تبدیلی ان کی طرف سے ہوئی ہے اور حماس کو ریاض میں فلسطینیوں کی نظربندی اور مقدمے کی سماعت کا کوئی جواز نہیں مل سکاہے۔

ولایت پورٹل:قطر کی الشرق نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حماس پولیٹیکل بیورو کے ایک رکن  حسام بدارن نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ حماس فلسطین کے اندر ایک سیاسی اور فوجی میدا ن میں موجود تنظیم  ہے اور بیرون ملک  میں بھی ایک بڑی سیاسی اور مضبوط طاقت  کی حیثیت سے بہت سے ممالک کے ساتھ اس تنظیم کے دیرینہ تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حماس اپنے جزوی مفادات کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ سے فلسطینی عوام کے مفادات اور غزہ کی پٹی میں ناکہ بندی کی ناکامی کے لئے کوشش کرتی آئی ہے۔
بدرن نے سعودی عرب کے ساتھ حماس کے تعلقات کا ذکر کرتے  ہوئے مزید کہ ہماری طرف سے ان تعلقات کو تبدیل کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوا ہےبلکہ  دوسری طرف سے تبدیلی آئی ہے اور ہمیں فلسطینیوں کی نظربندی کا کوئی جواز نظر نہیں آتا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے فلسطینیوں کی مدد کرنے کے جرم میں ساٹھ سے زیادہ فلسطینیوں اور اردنی باشندوں کو گرفتار کیا تھا اور عدالت میں  اور ان پر ایک دہشت گرد گروہ کی مدد اور مالی اعانت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے گرفتار کیے جانے والے فلسطینیوں پر زیتون کا تیل ضبط کرنے ، حج میں دی جانے والی قربانی کے گوشت کو غزہ بھیجنے اور فلسطینی تاریخ پر ایک کتاب رکھنے جیسے مضحکہ خیز الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
بدرن نے فلسطینیوں کی داخلی مفاہمت کے بارے میں کہا کہ فتح تحریک اس معاملے کو التوا میں لےجا رہی ہے اور وہ کسی اور فلسطینی گروپ کی موجودگی کے بغیر فتح اور حماس کے مابین صرف ملاقات ہی چاہتے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम