Code : 3156 17 Hit

سعودی عرب فلسطین کی حمایت کرنے کے بجائے مزاحمتی تحریک کے حامیوں پر مقدمے دائر کرتا ہے:حماس

حماس کے ترجمان نے سعودی حکومت کی جانب سے اس ملک میں مقیم فلسطینیوں اور اردن کی شخصیات پر مسئلۂ فلسطین کی حمایت کرنے کے جرم میں مقدمات دائر کرنےکی مذمت کی ہے۔

ولایت پورٹل:سعودی فوجداری عدالت نے اتوار کے روز سعودی عرب میں مقیم متعدد اردنی اور فلسطینی شہریوں کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا۔
تقریبا نو ماہ قبل گرفتار کیے جانے والے یہ افراد ماہر تعلیم ، ڈاکٹر  اور انجینئر ہیں ، جن پر غیر مجاز اداروں کے قیام کے ذریعے غیر قانونی طور پر جائیداد کے حصول کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
غزہ کے رہائشی عبد المجید الخضری نے تصدیق کی ہے کہ ، حماس کا ایک سینئر عہدیدار ان کے 81 سالہ بھائی اور ان کےبیٹے ہانی اپریل 2019 میں گرفتار ہونے کے بعد پہلی بار سعودی عرب کی فوجداری عدالت میں حاضر ہوئے۔
الخضری نے کہا کہ عدالت نے ان پر ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے اور جائیداد جمع کرنے کے دو معاملوں کا الزام عائد کیا ہے۔
یادرہے کہ حماس نے 9 ستمبر 2019 کو ، الخضری اور ان کے بیٹے کی سعودی عرب میں گرفتاری کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ الخضری قریب دو دہائیوں تک  حماس کے تعلقات عامہ کے سربراہ رہنے کے علاوہ اس تنظیم کے اہم عہددوں پر بھی فائز رہے ہیں  جنہیں  دیگر متعدد فلسطینی شہریوں کے ساتھ سعودی حکام نے  گرفتار کرلیا ہے۔
تاہم سعودی حکام نے ان کی گرفتاری کے بعد سے اب تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اتوار کے روز سعودی جیلوں سے فلسطینی شخصیات کو رہا نہ کرنے پر  اس ملک کے حکام کی کڑی  مذمت کی۔
حماس کے عہدیدار نے مزید کہا کہ سعودی عرب کا قومی اور عربی فریضہ ہے کہ وہ ان لوگوں کا احترام کرے نہ کہ ان کو اس طرح سےعدالتوں میں پیش کرے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम