Code : 4010 5 Hit

آل سعود کو عراق میں شیعہ حکومت کا قیام برداشت نہیں:نوری المالکی

عراق کے سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں بغداد اور ریاض کے درمیان مذہبی اور سیاسی تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن سعودی عرب بغداد کو عباسی خلافت کا مرکز سمجھتا ہے اور اس ملک میں شیعہ حکومت کو برداشت نہیں کرسکتا۔

ولایت پورٹل:سابق عراقی وزیر اعظم  نوری المالکی نے عراقی ٹیلی ویژن کو دیے جانے والے اپنے ایک  انٹرویو میں عراق کے بارے میں سعودی نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے ، عراق کے قومی مفادات پر مبنی صیہونی حکومت کے علاوہ بغداد کے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی ضرورت کا حوالہ دیا، انہوں نے کہا ، "جب میں نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تو ، پہلا ملک جس میں میں نے سفر کیا وہ سعودی عرب تھا جس کے بعد مجھے توقع تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی اور سیاسی کشمکش کو ختم کردوں گا لیکن میں  اس میں کامیاب نہیں ہوسکا،المالکی نے کہا کہ  سعودیوں کو ہمارے ساتھ مذہبی مسئلہ ہے،سعودی حکام کا خیال ہے کہ بغداد عباسی خلافت کا دارالحکومت ہے اور شیعہ اس پر حکومت نہیں کرسکتے ہیں۔
سابق عراقی وزیر اعظم نے کہاکہ سعودی عرب کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ جمال عبد الناصر کی طرح عرب فیصلہ سازی کااجارہ دار بننا چاہتا ہے جبکہ اس کے پاس اس کی صلاحیت نہیں ہے اس کی وجہ سے اس کےعراق ، قطر ، ترکی اور دیگر ممالک کے ساتھ مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔
المالکی نے کہا کہ سعودی عرب خطے کے امور میں مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے جیسا کہ ہم یمن ، شام ، لبنان اور خطے کے دوسرے ممالک میں دیکھ رہے ہیں،عربی فیصلہ سازی آج اس سے کہیں بالاتر ہے کہ سعودی عرب اکیلا اس کو اپنے ہاتھ میں لے، آج عرب ممالک خود مختار ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین