Code : 4425 19 Hit

صیہونیوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں سعودی عرب اور وہابیت کا اہم کردار

لبنان کے سابق وزیر نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف عرب ممالک کی رغبت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات کو معمول پر لانے میں سعودی عرب اور وہابیت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ولایت پورٹل:بحرین ، متحدہ عرب امارات ، صیہونی حکومت اور امریکہ کے عہدیداروں نے گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران "ابراہام امن معاہدہ" نامی سمجھوتے پر دستخط کیے تھے، اس معاہدے پر دستخط کرنے کا مقصد ابوظہبی اور تل ابیب کے مابین دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لاناہے، اس تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور متحدہ عرب امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ بھی موجود تھے۔
صیہونی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کے معاہدے پر دستخط کرنے سے خطے میں متعدد رد عمل پیدا ہوئے، اس سلسلے میں لبنان کے سابق وزیر محنت ، طراد حماده نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصری صدر انور سادات کی حکومت کے تحت مصر اور صیہونی حکومت کے مابین کیمپ ڈیوڈ معاہدوں پر دستخط ہونے کے بعد سے ریاستہائے متحدہ اور یورپی ممالک سے وابستہ کچھ آمرانہ حکومتوں نے صہیونی دشمن کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی مہم  شروع کررکھی ہے جس کے تحت تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال عرب حکومتوں نے تل ابیب سے خفیہ تعلقات رکھے ہیں جنہیں بعض اوقات اعلانیہ بھی انجام دیتے رہتے ہیں، اس دوران سعودی عرب اور وہابیت نے اس سلسلے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔
دوسری طرف ، کچھ عرب ممالک نے ایران کو ایک دشمن سمجھنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے صہیونی دشمن کی طرف رجوع کیا ہے جسے ایرانوفوبیا کہا جاتا ہے، صیہونی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ فلسطینی کاز سے دھوکہ ہےجو عرب دنیا کی دولت اور وسائل کی لوٹ مار اور ظلم وجبر کی شدت کا باعث بنتا ہے، اس سے تکفیری گروہوں کی نشوونما اور اسلامی اور عرب ممالک پر ان کے حملوں  میں بھی شدت  آئے گی۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین