سعودی عرب کی ریپڈ ایکشن فورس یا بن سلمان کا قاتل ہتھیار

سعودی  عرب کی ریپڈ ایکشن یونٹ یا ولی عہد بن سلمان کی مرڈر یونٹ جس نے اب تک حزب اختلاف کے خلاف درجنوں قتل و غارت گری آپریشن کئے ہیں کہ جمال خاشقجی کا المناک قتل ان میں سے ایک ہے۔

ولایت پورٹل:سعودی عرب کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی انٹلی جنس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سعودی رائل گارڈ کی ریپڈ ایکشن یونٹ یا ٹائیگر یونٹ نام سرخیوں میں آ گیا ہے،رپورٹ کے مطابق  خاشقجی کو قتل کرنے کے لئے استنبول بھیجے گئے ڈیتھ اسکواڈ کے 7 ارکان کا تعلق اسی فوجی یونٹ سے تھا،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پیر کو بتایا کہ واشنگٹن نے ریاض سے سعودی عرب کی ریپڈ ایکشن فورس کو ختم کرنے کے لئے کہا تھا جو براہ راست سعودی ولی عہد شہزادہ کی سربراہی میں کام کرتی ہے لیکن ہم اس یونٹ کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ مڈل ایسٹ آئی کی ویب سائٹ (لندن میں مقیم) پہلی ویب سائٹ تھی جس نے جمال خاشقجی کے قتل کے کچھ دن بعد اکتوبر 2018 میں اس قاتل یونٹ کا نام لیا تھا اور بے نام ذرائع کا حوالہ دیا۔ اس کے بعد بی بی سی نے سعودی عرب کے اندر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے مڈل ایسٹ آئی کی اس رپورٹ کی تصدیق کی ۔
 اسی اثنا میں  میڈیا نے اطلاع دی کہ قاتلانہ ٹیم میں سعودی سکیورٹی فورسز کے 15 ارکان شامل تھے ، اس کے سال بعد سخت سکیورٹی میں کینیڈا میں مقیم سعودی انٹیلی جنس کے عہدہ دار سعد الجبری نے اگست 2020 میں واشنگٹن کی ایک عدالت میں محمد بن سلمان پر مقدمہ دائر کیاجس میں ان پر یہ الزام لگایا تھا کہ انھوں نے انھیں قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، الجبری وہ شخص ہیں جو محمد بن نائف کے دور میں سعودی انٹیلی جنس کے قریب ترین تھے، میڈیا کے مطابق ان کے پاس ایسی دستاویزات ہیں جو بن سلمان کے لئے خطرناک ہوسکتی ہیں،ان کی شکایت میں ریپڈ ایکشن یونٹ کے نام کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ ان کا قتل اسی ٹیم کے ذمہ ہے ۔
 الجبری کے مطابق  یہ یونٹ  جسے اب قاتل یونٹ کہا جاتا ہے  2017 میں اس وقت تشکیل پائی تھی  جب محمد بن سلمان کو سعودی عرب کے ولی عہد کی حیثیت سے منتخب کیا گیا تھا  اورانھوں نے فوج اور سکیورٹی اداروں کے بھروسہ مند ممبروں میں سے اس  کا انتخاب کیا ،بن سلمان نے اس یونٹ کو مکمل اختیار دیا کہ وہ خفیہ آپریشن کرے اور سعودی عرب کے اندر اور باہر مخالفین کو قتل کرے، تاہم خاشقجی کا قتل اس انداز سے کیا گیا جس سے سعودیوں  خاص طور پر محمد بن سلمان کی ساکھ کو نقصان پہنچا  اور اس قتل کی رازداری باقی نہیں رہ گئی۔
سعودی وکی لیکس کی ویب سائٹ نے بھی اس یونٹ سے متعلق اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ "النمر" یونٹ کے ممبران 50 سے زیادہ افراد نہیں ہیں جنہیں بن سلمان نے مختلف سکیورٹی اداروں سے چنا ہے نیز ستمبر 2018 میں  سی آئی اے نے بھی ، اس یونٹ کی خبر دی تھی  جوسعودی خفیہ ادارے کے نائب سربراہ احمد عسیری کی سربراہی میں حزب اختلاف کو دبانے کاکام کرتی ہے، سعودی مخالفین کے مطابق  یہ یونٹ جعلی حادثات سے لے کر گھروں میں آگ اور زہر آلودگی تک متعدد طریقوں کا استعمال کرتی ہے، الجزیرہ کی ویب سائٹ نے 28 اکتوبر کو اطلاع دی تھی کہ النمر یونٹ کا پہلا آپریشن منصور بن مقرن کا جعلی ہیلی کاپٹر حادثہ تھا جو عسیر خطے کے نائب امیر اور سابق سعودی ولی عہد شہزادہ کا بیٹا تھا۔
نیو یارک ٹائمز نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ جمال خاشقجی کا قتل ریپڈ ایکشن یونٹ کا واحد خفیہ آپریشن نہیں تھا بلکہ انھوں نے اب تک درجنوں آپریشن کیے ہیں،رپورٹ کے مطابق دوسرے کاموں کے  علاوہ  اس گروپ کو دوسرے ممالک سے زبردستی سعودی شہریوں کو واپس لا نا اور انھیں جیل میں ڈالنا ہے،نیز لجین الہذلول سمیت متعدد انسانی حقوق کے کارکنوں کی نظربندی بھی اسی یونٹ کا کام ہے،اخبار نے لکھا ہے کہ اس گروپ کے ممبروں کےجانب سے نفسیاتی اذیت کے باعث 2018 میں ایک سعودی خاتون نے خودکشی بھی کی۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین