Code : 3778 29 Hit

قناعت، آج کی سب سے اہم ضرورت

وہ افراد جنہیں اللہ نے دیا ہے وہ ایسے لوگوں کی مدد ضرور کریں چونکہ یہ وبا(کرونا) اس وقت انسان کا امتحان لے رہی ہے لہذا بھوکی مرتی ہوئی انسانیت کو بچانے کا وقت ہے۔ہم اپنے کو اسراف سے بچاتے ہوئے اور قناعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان مستضعف افراد کی طرف بھی دیکھیں جن کے پاس اس وقت کچھ نہیں ہے۔یہی انبیائے کرام(ع) کی تعلیم ہے اور یہی آئمہ معصومین(ع) کی سیرت کا اتباع کرنے کا تقاضا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! دنیا اس وقت ایک ایسی منزل تک پہونچ چکی ہے کہ جہاں پر مال جمع کرنے کی اس کی عادت مزید بڑھتی ہی جارہی ہے۔ انسان پوری زندگی مال جمع کرنے، اسے طرح طرح کی چیزوں میں اسراف کرنے میں گذار دیتا ہے اور اسے ان افراد کے بارے میں کوئی خیال تک بھی نہیں آتا جو مجبور ہیں اور جنہیں حالات نے مزید ابتر سے ابتر حالت میں پہونچا دیا ہے۔ہمیں یہ جان لینا چاہیئے کہ انسان طبیعی طور پر بڑی طولانی آروزؤں کا دلدادہ ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ ان ختم نہ ہونے والی خواہشات کا سلسلہ انسان کے مرنے تک جاری و ساری رہتا ہے اور آخر کار اسے وہ سب کچھ نہیں مل پاتا جس کے خواب اس نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے۔
انسان کی خواہش اور اس کی طویل آرزؤں کے متعلق امام صادق (ع) کی عجیب تعبیر ہے آپ نے ارشاد فرمایا:’’اگر آدم کے بیٹوں کے لئے سونے اور چاندی سے بھرا ہوا ایک صحرا بھی ہو تب بھی انہیں یہ خواہش رہے گی کہ اے کاش! اس کے مانند دوسرا صحرا بھی انہیں مل جاتا ! اے انسانوں! جان لو کہ تمہارا پیٹ کسی دریا اور صحرا کی مانند ہے( جو کبھی نہیں بھرتا) اور قبر کی مٹی کے علاوہ اسے کوئی دسری چیز سیر نہیں کرسکتی۔(۱)
قارئین کرام! جبکہ دنیا آج ایک عالمی و ہمہ گیر وبا(کرونا) سے دست بگریباں ہے اور جہاں ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام غریب و ناداروں کو کچلنے پر لگا ہوا ہے اور جہاں اب حالات یہ بن گئے ہیں کہ جو بے چارے غریب تھے ان کا تو کیا ذکر ! وہ تو کل بھی مزدور تھے اور آج بھی مزدور ہیں!نہ ان کے پاس کل کچھ تھا اور نہ کچھ ہے۔بس کل تک یہ تھا کہ وہ جو روز کماکے لاتے اپنے بچوں کو کھلا دیتے اور آج ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے بھوک کے ساتھ ساتھ  بے روزگاری مزید مقدر بن گئی ہے۔
لیکن افسوس سماج کے ان متوسط (میڈل کلاس) لوگوں کے حالات پر زیادہ ہے کہ جو کل ایک آبرو مندانہ زندگی گذار رہے تھے اور معاشرے میں انہیں اچھی نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور جو وقت ضرورت پر دوسروں کے کام بھی آجایا کرتے تھے لیکن اب حالات یہ بن گئے ہیں کہ ان کے پاس تمام پیسہ اور سرمایہ ختم ہوچکا ہے اور نوبت فاقوں تک جا پہونچی ہے ۔یہ کسی سے اپنی بات کہہ بھی نہیں سکتے مطالبہ تو دور کی بات ہے۔
لہذا وہ افراد جنہیں اللہ نے دیا ہے وہ ایسے لوگوں کی مدد ضرور کریں چونکہ یہ وبا(کرونا) اس وقت انسان کا امتحان لے رہی ہے لہذا بھوکی مرتی ہوئی انسانیت کو بچانے کا وقت ہے۔ہم اپنے کو اسراف سے بچاتے ہوئے اور قناعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان مستضعف افراد کی طرف بھی دیکھیں جن کے پاس اس وقت کچھ نہیں ہے۔یہی انبیائے کرام(ع) کی تعلیم ہے اور یہی آئمہ معصومین(ع) کی سیرت کا اتباع کرنے کا تقاضا ہے۔
قارئین کرام! قناعت کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے چند ایک کا تذکرہ ہم یہاں کررہے ہیں:
قناعت چین و سکون کا سبب ہے
چین و سکون اور اطمئنان ایک عظیم الہی نعمت ہے کہ جس کے بغیر ہر زندگی ادھوری ہے اور قناعت کے ذریعہ انسان اس اطمئنان تک پہونچ سکتا ہے۔سارے کے سارے انسان دولت مند نہیں ہوسکتے، نہ سب کے پاس ایک بڑا سا اچھے علاقہ میں گھر ہوسکتا۔ لیکن سارے کے سارے انسان ایک ساتھ مطمئن ہوسکتے ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ نے دیا اس پر قناعت کریں تاکہ ان کی زندگی میں چین و سکون کی ہوائیں چلیں، اطمئنان کی نسیم بہاری کی لہریں ان کے وجود کو خنکی عطا کرے چنانچہ امام علی علیہ السلام کا ارشاد ہے: جو شخص بھی اپنے ضرورت بھر مال پر قناعت کرلے اسے سکون نصیب ہوتا ہے اور مستقبل میں اس کے لئے گشایش و فرج کا سامان مہیا ہوتا ہے۔(۲)
امیرالمؤمنین(ع) کی اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی پوری کوشش ،محنت اور ایمانداری سے جو کچھ ملے اس پر راضی رہے اور زیادہ مال و منال کے حصول کی خاطر اپنے کو ہرج و مرج، اور مشکلات کے تھپیڑے کھانے کے لئے نہ چھوڑے۔
نہج البلاغہ میں حضرت امیر علیہ السلام نے متعدد مقامات پر  قناعت پر گفتگو فرمائی ہے جن میں ایک آپ کا ارشاد یہ بھی ہے: ’’ قناعت ایسا مال و سرمایہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا‘‘۔(۳)
اگر ہم اس چیز پر قناعت نہ کریں جو ہمارے پاس ہے بلکہ ہم ہر آن ’’ ھل من مزید‘‘ کے خواہاں ہوں تو ظاہر ہے ایک دن ہماری یہ بری عادت ہمیں دوسروں کے دروازے پر لے جاکر کھڑی کردے گی اور جب کوئی چیز عادت کا روپ اختیار کرلیتی ہے تو پھر ہمارے پاس، چاہے دوجہاں کی دولت ہی کیوں نہ آجائے ہماری نظریں پھر بھی دوسروں کی طرف لگی رہتی ہیں۔ لہذا قناعت اختیار کرنا وقت کی ضرورت وقت ہے اور ساتھ ساتھ یہ ہمیں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز کرتی ہے۔چنانچہ امیرالمؤمنین علی(ع) نے ارشاد فرمایا:’’ قناعت کرنے والا، سب سے مال دار اور بے نیاز ہے چاہے وہ اپنے گھر میں بھوکا اور ننگا ہی کیوں نہ رہے۔(۴)
قناعت بے نیاز بناتی ہے
مذکورہ حدیث سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ ہم اپنی نظروں کو متمرکز کریں اور کبھی مال داروں کے مال پر نظریں نہ جمائیں۔اپنی محنت اور اللہ کی عطا و رحمت سے جو کچھ ملے اس پر قناعت کریں اور اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو ہمیں کبھی سکون نہیں ملے گا۔چنانچہ کچھ اہل معرفت نے لوگوں کو قناعت کی تعلیم اس طرح دی ہے: آپ کبھی اپنے آپ کا موازنہ سرمایہ داروں سے نہ کریں چونکہ یہ آپ کی بے چینی میں اضافہ کا سبب ہوگا لیکن اگر آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو آپ سے بھی کم سامان زندگی رکھتے ہیں تو آپ کو اپنے پاس جو کچھ ہے اس پر راضی رہنے کا حوصلہ ملے گا ۔ایک حدیث میں امام جعفر صادق(ع) نے ارشاد فرمایا:’’ تم اپنے سے نادار لوگوں کی طرف دیکھو اور کبھی اپنے سے مالدار لوگوں کو حسرت سے نہ دیکھو! چونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو تم ہمیشہ خوش رہو گے ‘‘۔(۵)
کیسے قناعت کریں؟
اب ہوسکتا ہے کہ ہمارے کسی بھائی، بہن کے دل میں یہ خیال آئے کہ قناعت ایک اچھا اخلاق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اس کا حصول کیسے ممکن ہوگا؟
ہم اس سوال کے جواب میں بس یہ کہیں گے کہ انسان اللہ کی سب سے بلند و بالا و اعلیٰ مخلوق ہے اور اسے اللہ نے ایک آفاقی شئی سے نوازہ ہے جس کا نام ہے ارادہ۔ اگر آدم(ع) کا بیٹا کوئی ارادہ کرلے تو مجال نہیں کہ کوئی اس کے پائے ثبات میں لغزش پیدا کرسکے۔ بس اس کے لئے ایک قوی ارادے کی ضرورت ہے اور یہ عزم کرنے کی ضرورت ہے کہ آج سے ہم ہر اس چیز پر قناعت کریں گے جو ہمارے پاس ہے اور کبھی دوسروں کے مال پر نظریں نہیں جمائیں گے۔ ابتداء میں ظاہر ہے اس کے لئے بہت سی مشکلات آئیں گی لیکن اگر ہم اپنے کو قناعت کی تلقین کرتے رہیں تو پھر یہ مرحلہ آسانی کے ساتھ سر ہوسکتا ہے۔چنانچہ قناعت جیسے سرمایہ کو ہم کیسے حاصل کریں،خود امیرالمؤمنین(ع) نے ہمیں بتلایا ہے:’’تم اپنے نفس کو قناعت اختیار کرنے کی مسلسل تلقین کرتے رہو‘‘۔(۶)۔
چونکہ نفسیاتی طور پر انسان جس چیز کی مسلسل تلقین کرتا ہے اس کے مقابل وہ کبھی زیادہ مقاومت نہیں کرسکتا اور ایک وقت وہ آتا ہے کہ انسان کے سامنے اس کی زبان پر جاری ہونے والے جملے اور دل و دماغ میں آنے والے خیال ایک باندھ کی صورت اختیار کرلیتے ہیں کہ جن سے عبور کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتا اور ایسا کرنے سے اس کام کے تئیں انسان کی قوت ارادی کو مضبوطی و استحکام نصیب ہوتا ہے۔
قناعت الہی نمائندوں کی خاص صفت
اللہ کے تمام انبیاء(ع) اور اولیا(ع) نے ہمیشہ سادگی کو پسند کیا ہے اور کبھی دنیا کی زرق برق زندگی پر توجہ نہیں دی ہے۔ظاہر ہے ان حضرات کی زندگی ہمارے لئے ہر دور میں نمونہ عمل ہے اب ہمیں دین کی تعلیمات سے یہ سکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ افراد کس طرح اس صفت کو حاصل کرپائے چنانچہ امام علی(ع) ارشاد فرماتے ہیں:’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے نمائندوں کو مستحکم و مضبوط ارادوں کا حامل قرار دیا جبکہ ظاہری زندگی میں ان کے پاس مال و منال کی ہمیشہ قلت رہی لیکن انہوں نے قناعت کے ذریعہ اپنے کو دوسروں(اللہ کے سوا) کی عطا سے بے نیاز بنا لیا اگرچہ فقر و ناداری ان کی پوری زندگی پر محیط تھی۔(۷)
قناعت اور لالچ میں فرق؟
جب انسان کو قناعت کی دولت نصیب ہوجاتی ہے تو پھر وہ صرف اس مقدار پر اکتفاء کرتا ہے جو اس کی ضرورت ہو اور فزوں طلبی سے ہمیشہ دامن بچاتا ہے۔جبکہ لالچ ایک ایسی صفت ہے جس کے سبب انسان ہر چیز کو ضرورت سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ یاد رکھئے کہ لالج کی اصل وجہ دنیا کی محبت ہے کہ جو انسان کو اپنے میں مشغول کرکے آخرت اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جس کے مقابل قناعت انسان کو ضرورت پر قانع اور کم پر بھی راضی رکھتی ہے اور انسان کو اپنی آخرت سنوارنے اور عزت نفس کے حصول کا ہنر سکھاتی ہے۔(۸)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔من لایحضره الفقیہ، ج 4، ص 418، ح 5912۔
۲۔اصول کافی(ط-الاسلامیه)ج 8،ص 19 نہج البلاغہ (صبحی صالح) ص 540 ،حکمت 371۔
۳۔نہج البلاغہ،حکمت 371۔
۴۔غرر الحکم : ۱۴۰۵ ۔
۵۔اصول الکافی: ج 8،ص 344۔
۶۔بحار الأنوار : ۷۸/۹/۶۴۔
۷۔نہج البلاغہ: الخطبة ۱۹۲۔
۸۔احمدبن‌محمدمهدی نراقی، جامع‌السعادات، مترجم: کریم فیضی،قم: قائم آل محمد (ص)ج2، ص 100-101۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین