Code : 1021 18 Hit

انسانی تعمیر اور سجدہ

خدا کی قسم نماز آرام و سکون کا ایسا مرکز ہے کہ اگر دنیا کی تمام یونیورسٹیز سے نفسیات کے ماہرین جمع ہوکر بھی تمام عمر مطمئن رہنے اور پر سکون رہنے کی تعلیم دیں تو وہ کبھی یہ کام نہیں کرسکتے جو آرام و اطمئنان ایک سجدہ سے حاصل ہوجاتا ہے۔مصلیٰ و سجدہ گاہ اطمئنان و سکون کا وہ مرکز ہے کہ جہاں تمام روحانی اضطراب و پریشانی صرف ’’ھو الشافی‘‘ سے دور ہو جاتے ہیں سجدہ گاہ ایک ایسا گھر ہے کہ جہاں نسیم رحمت پروردگار چلتی ہے جس کے بعد زندگی میں سکون ہی سکون نظر آتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! انسان کے وجود کی زمین بہت ہی پُر نشیب و فراز ہوتی ہے لہذا اسے زرخیز اور حاصلخیز بنانے کے لئے ان سب نشیب و فراز کو ہموار کرنے کے لئے ہمت کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔اور روح و مقصد عبادت سے جو چیز سمجھ میں آتی ہے اور جو چیز عبادت کے اصلی فلسفہ کو تشکیل دیتی ہے وہ یہی ان سب کمیوں و خامیوں سے جنگ اور مقابلہ کرنا ہے چنانچہ انسان کے وجود میں کچھ کمیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں جیسا کہ حسد،تکبر، جھوٹ،لالچ و طمع،غیر ذمہ دارانہ رویہ،شہوت پرستی،منصب پرستی،مال دوستی وغیرہ وغیرہ اور یہ سب ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ آسانی کے ساتھ جن سے دامن بچایا جاسکے یا ان سے منھ موڑتے گذرا جاسکے۔
اگر دقیق و عمیق طور پر اور اللہ تعالٰی سے مدد طلب کرتے ہوئے ان سب برائیوں سے مقابلہ نہ کیا جائے تو انسان کی تمام انسانیت خطرہ میں پڑ سکتی ہے اور پھر اس کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں بچتی کہ جو انسان کا سہارا بن جائے۔
اللہ تعالٰی نے ان خطرناک بیماریوں اور عیوب سے مقابلہ کے لئے کچھ منطقی و عقلی طریقہ بیان کئے ہیں تاکہ انسان اپنے داخلی و خارجی دشمنوں سے  مسلسل جنگ کرکے انہیں پچھاڑتا ہوا آگے بڑھتا رہے۔
پس عبادت یعنی انسانی وجود میں موجود کمیوں،خامیوں اور برائیوں کو دور کرنا اور وجود انسانی کے نشیب و فراز کو پاٹتے ہوئے ایک ہموار و مسطح زمین میں تبدیل کرنا۔چنانچہ جہاں عبادت کے بہت سی انواع و اقسام ہے ان میں سب سے اہم عبادت نماز اور نماز کا سب سے افضل و اعلٰی جزء’’سجدہ‘‘ کہلاتا ہے۔
چنانچہ سجدہ ایک بلند عبادت ہے تمام عبادتی اقدار کو سجدہ سے گذرنا پڑتا ہے تب جاکر انہیں معراج نصیب ہوتی ہے۔قارئین کرام! سجدہ کی دو صورتیں ہیں ایک اس کی ظاہری صورت اور دوسری اس کی باطنی اور ملکوتی صورت اور ہر ایک صورت کے اپنے کچھ مخصوص آداب و آثار ہیں اور جب دونوں صورتیں آپس میں مل جاتی ہیں تب جاکر وہ حقیقی سجدہ محقق ہوتا ہے جس کا مطالبہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندے سے کیا ہے۔
سجدہ کی ظاہری صورت
1۔ سجدہ کے معنٰی
سر اور پیشانی کو خصوع و ذلت کے ساتھ زمین پر رکھنا۔(1)شکر کرنا،ذلت کا اظہار کرنا ،ٹھوڑی کو زمین پر رکھنا،منھ کے بل زمین پر گرجانا۔(2)
مذکورہ تمام معانی ایک مطلب اور مقصد کی طرف پلٹتے ہیں اور وہ یہ کہ ایک نہایت حقیر و پست بندہ اپنے عظیم اور لا متناہی خدا کے حضور پیش ہوا ہے ۔پس سجدہ گاہ انسان کی پستی اور حقارت کے اظہار کی مشق کا میدان ہے۔
چونکہ خاک پر گرجانا بھی اسی وقت زیب دیتا ہے جب واحدہ لاشریک کے سامنے گرے درحقیقت سجدہ گاہ ایک ایسا ممنوع الورود(No Entrye) علاقہ ہے کہ جس میں کوئی اجنبی قدم نہیں رکھ سکتا۔
سجدہ گاہ اور مصلٰی اس مرکز و محور کا نام ہے جہاں عرش مزاج لوگ خاک پر بیٹھ کر افلاک و ملکوت کی طرف پرواز بھرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔
2۔سجدہ کا ظاہری موقع و محل
نماز کی ہر رکعت میں(چاہے وہ مستحبی نماز ہو یا واجب) دو سجدے ضروری ہیں۔ اور دونوں سجدے ملا کر نماز کا رکن شمار ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اگر دونوں سجدوں کو عمداً اور جان بوجھ کر یا بھولے سے بھی چھوڑ دیا یا تو دو سجدوں کے لئے چار سجدے(نماز احتیاط وغیرہ میں) کرنا پڑیں گے  ورنہ نماز باطل ہے۔
3۔سجدہ کی کیفیت
سجدہ کرتے وقت صرف سر کا زمین پر رکھنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ پیشانی کے ساتھ ساتھ دیگر چھ چیزوں کو بھی زمین پر ٹیکنا پڑتا ہے: دونوں ہتھیلیاں،دونوں گھٹنے،پیروں کے دونوں انگوٹھوں کے سر۔
4۔ذکر سجدہ
سجدہ میں ذکر کرنا واجب ہے اور احتیاط یہ ہے کہ کم سے کم 3 مرتبہ’’ سُبْحانَ الله‘‘ یا 1 مرتبہ ’’ سُبْحانَ رَبِّيَ الْاعْلي وَ بِحمدِهِ‘‘ کہا جائے۔البتہ زیادہ کے لئے کوئی مقدار معین نہیں ہے۔
سجدہ کرتے وقت ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ اس میں بدن ساکن رہے(نہ ہلے) اور دوسرے پیشانی ان چیزوں پر رکھی جائے جن پر سجدہ کرنا صحیح ہو یعنی ان کا تعلق کھانے اور پہننے والی چیزوں سے نہ ہو۔
سجدہ کی باطنی و حقیقی صورت
سجدہ کی آواز اور فلسفہ تکبر ،گھمنڈ اور غرور کا گلا گھونٹنا ہے جس کے سبب انسان کے اندر پرچم توحید کے سائے میں ایک اندرونی انقلاب رونما ہوجاتا ہے۔
حقیقی سجدہ گذار وہی ہوتے ہیں جو  لا محدود و نا متناہی پروردگار کے حضور دین و زندگی  کی تمام تھیوری  کو عملی پیرائے میں ڈھال دیتے ہیں۔حقیقی سجدہ گذار تمام ہستی کو کثرتوں کے باوجود وحدت میں غرق پاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آیت اللہ بہجت نماز کی کے بارے میں فرماتے تھے:
نماز کعبہ کی مانند ہے کہ جس میں داخل ہونے کے لئے تکبیرۃ الاحرام کہی جاتی ہے اور جس کے سبب بندہ، خدا کے علاوہ تمام چیزوں کو پیچھے چھوڑ کر حرم الہی میں آکر کھڑا ہوجاتا ہے اور نماز میں قیام،بالکل ویسے ہیں جیسے دو دوست آپس میں کھڑے ہوکر ایک دوسرے سے باتیں کررہے ہوں۔رکوع اپنے معبود کے آگے جھکنے اور اس کا احترام کرنے کے مساوی ہے جبکہ سجدہ اس کے مقابل نہایت خضوع و خشوع کے اظہار کا ذریعہ ہے۔اور جب بندہ نماز پڑھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ سے واپس پلٹتا ہے تو سب سے پہلی چیز جو اسے تحفہ میں ملتی ہے وہ اللہ کی طرف سے سلامتی اور سکون کی سوغات ہوتی ہے۔
سجدہ کے دو حصے ہوتے ہیں:
1۔ظاہری حصہ
2۔باطنی اور حقیقی حصہ
سجدہ کی ظاہری صورت جسم کی زینت ہے اور باطنی صورت نفس اور جان کی زینت ہے۔
سجدہ کی باطنی صورت میں سیر و سلوک عملی پوشیدہ ہے حقیقی سجدہ سے انسان کو سکون ملتا ہے جسے قرآن کی زبان میں’’تطمئن القلوب‘‘ اور اس کا عظیم ثمرہ قرب پروردگار ہے جسے قرآنی اصطلاح میں’’ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ‘‘۔(سجدہ کر اور اپنے رب سے قریب ہوجا) کہا جاتا ہے۔(3)
پس یہ ہے عظیم اور اللہ والوں کے لئے عظیم ثمرہ۔یہی وجہ ہے کہ امام حسین(ع) وقت آخر خون میں لت پت ہونے کے باوجود بھی سجدہ کرتے ہیں اور اپنے جد امجد کے دین کی بنیاد کو مستحکم بنا دیتے ہیں۔
خدا کی قسم نماز آرام و سکون کا ایسا مرکز ہے کہ اگر دنیا کی تمام یونیورسٹیز سے نفسیات کے ماہرین جمع ہوکر بھی تمام عمر مطمئن رہنے اور پر سکون رہنے کی تعلیم دیں تو وہ کبھی یہ کام نہیں کرسکتے جو آرام و اطمئنان ایک سجدہ سے حاصل ہوجاتا ہے۔
مصلیٰ و سجدہ گاہ اطمئنان و سکون کا وہ مرکز ہے کہ جہاں تمام روحانی اضطراب و پریشانی صرف ’’ھو الشافی‘‘ سے دور ہو جاتے ہیں سجدہ گاہ ایک ایسا گھر ہے کہ جہاں نسیم رحمت پروردگار چلتی ہے جس کے بعد زندگی میں سکون ہی سکون نظر آتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:
1۔لغت‌نامه دهخدا، ج 25۔
2۔ تفسير الميزان، ج ،ص 185۔
3۔سورة علق: 96 / 19۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम