نجف اشرف میں صدام کے زمانے کی اجتماعی قبر دریافت

عراق کے شہر نجف اشرف کی شہداء فاؤنڈیشن کے عہدیداروں نے 1991 کے شعبانیہ انتفاضہ سے متعلق ایک اجتماعی قبر کی دریافت کا اعلان کیا۔

ولایت پورٹل:الفرات چینل کی رپورٹ کے مطابق نجف اشرف شہداء فاؤنڈیشن کے عہدیداروں نے 1991 کے شعبانیہ انتفاضہ سے متعلق ایک اجتماعی قبر کی دریافت کا اعلان کیا،نجف اشرف شہداء فاؤنڈیشن کے شعبہ اجتماعی قبروں کے سربراہ حیدر خضیر خطار نے کہا کہ اجتماعی قبر میں بیس لاشیں ملی ہیں، جو ان لوگوں کی ہیں جنہیں 1991 میں شبانیہ انتفاضہ کے واقعات کے دوران بعثی حکومت نے زندہ دفن کر دیا تھا،ان میں سے زیادہ تر لاشیں نوجوانوں کی ہیں جن کے ساتھ کوئی ثبوت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجتماعی قبر میں ملنے والی لاشوں کے جسموں میں گولیوں کے نشانات نہیں ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غالباً انہیں صدام کے کرائے کے فوجیوں نے زندہ دفن کر دیا تھا نیز ان لاشوں کے قریب بکھری ہوئی ہڈیاں بھی پائی گئی ہیں ۔
انہوں نے تاکید کی کہ دریافت ہونے والی اس قبر میں تلاشی کا عمل مکمل کر کے حتمی رپورٹ بھیج دی گئی ہے اور لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے فرانزک میڈیسن کے لیے بھیج دیا گیا تاکہ اہل خانہ سے نمونے لینے کے ذریعے ان کی شناخت ہو سکے۔
نجف شہداء فاؤنڈیشن کے شعبہ اجتماعی قبروں کے سربراہ نے مزید کہا کہ نجف میں 8 یا 9 اجتماعی قبریں ہیں جن میں سے 3 نجف کے شمال میں دریافت ہوئی ہیں جو تمام اجتماعی قبریں 1991 کے شبانیہ انتفاضہ کی ہیں، پہلی قبر 2012 میں 48 لاشوں کے ساتھ، دوسری قبر 2019 میں 8 لاشوں کے ساتھ اور تیسری قبر 50-60 لاشوں کے ساتھ اب دریافت ہوئی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین