S400 میزائل ترکی کے لیے پریشانی کا باعث

اردگان اور کاوش اوغلو کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ یوکرین کو S400 کی ممکنہ منتقلی کے بارے میں امریکی میڈیا کی رپورٹوں نے ترک حکام کو روسی ردعمل کے بارے میں فکر مند کر دیا ہے۔

ولایت پورٹل:ترکی یوکرین کے معاملے میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے، یہ واضح ہے کہ اردگان اور ان کی ٹیم کے لیے ایسی صورتحال کو برقرار رکھنا مشکل ہے کیونکہ نیٹو کی رکنیت، روس کے ساتھ گرمجوشی اور جامع تعلقات رکھنے نیز یوکرین کے ساتھ اہم دفاعی اور اسلحہ سازی کے تعلقات کے قیام نے عملی طور پر ترکی کے سفارتی آلات کو ایک متضاد صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اسی تناظر میں بعض امریکی میڈیا میں ترکی سے S-400 میزائلوں کی یوکرین کو ممکنہ منتقلی کی خبروں نے حالات کو تہہ و بالا کر دیا ہے اور ماسکو حکام نے پس پردہ ترکی سے وضاحت طلب کر لی ہے، نتیجے کے طور پر اردگان اور ان کی کابینہ کے وزیر خارجہ دونوں نے اس کی سختی سے تردید کی۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے گزشتہ روز برسلز میں نیٹو کے غیر معمولی سربراہی اجلاس کے بعد ہوائی جہاز میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے،تاہم ترکی کے بہت سے سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ترکی کا روس سے S400 میزائل سسٹم خریدنے کا اقدام ایک واضح غلطی سے، جس کی وجہ سے ترکی کی خارجہ پالیسی میں ڈی فیکٹو لاک ڈاؤن اور مغرب سے شدید دوری  ہوئی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین