روس اور ازبکستان کی افغانستان کی سرحد پرمشترکہ جنگی مشقیں

افغانستان میں طالبان کی پیشرفت نے روس اور ازبکستان کو اس ملک کی سرحد پر مشترکہ فوجی مشقیں کرنے پر آمادہ کیا ہے۔

ولایت پورٹل:انٹرفیکس کی رپورٹ کے مطابق  روسی وزارت دفاع نے افغانستان کی سرحد کے قریب ازبکستان کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے انعقاد کا اعلان کیا،یہ مشقیں 30 جولائی سے 10 اگست تک جاری رہیں گی،یہ مشقیں ازبکستان کے جنوبی حصےکے صوبہ سرکسندریو میں ہو رہی ہیں اور اس میں تقریبا 1500 فوجی اور 200 کے قریب فوجی گاڑیاں شریک ہیں۔
دریں اثنا ، روس ، ازبکستان اور تاجکستان 5 سے 10 اگست تک تاجکستان - افغانستان سرحد سے 20 کلومیٹر دور مشقیں کریں گے،واضح رہے کہ اس سے قبل روس نے متنبہ کیا تھا کہ وہ طالبان کی طرف سے خطرہ کی صورت میں تاجکستان میں اپنا فوجی اڈہ استعمال کرے گا۔
 اسی اثنا میں  ماسکو کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیاء میں اس کا کوئی اتحادی امریکی فوجیوں کی افغانستان سے نکلنے کی میزبانی نہیں کر رہا ہےاور نہ ہی کوئی ایسا کرنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نےافغانستا ن میں بیس سال کی ا پنی بے سود موجودگی کے بعد ایسے وقت میں اس ملک سےنکلنے کا اعلان کیا ہے جبکہ طالبان اور افغان فورسز کے درمیان شدید جھرپیں جاری ہیں اور آئے دن طالبان اس ملک کے متعدد حصوں پر قبضہ کرتے جارہے ہیں یہی وجہ سے کہ دنیا بھر کے متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ بھی امریکہ کی کوچال ہو اوروہ طالبان کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے اس لیے کہ وہ انھیں ہی بھگانے کے لیے اس ملک میں آیا تھا اوراب ملک کو انھیں کے حوالے کر کے جارہا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین