روس یوکرین جنگ اور امریکی سائبر مہم جوئی

مائیکروسافٹ کے سربراہ نے اپنے حالیہ بیان میں ماسکو-کیف تنازعہ کے درمیان یوکرین کے لیے امریکی سائبر اسپورٹ کا انکشاف کیا۔

ولایت پورٹل:معلوماتی انقلاب کے ساتھ ابھرتی سائبر وارفیئر یا سائبر جنگ ، ایک ایسی جنگ ہے جس میں فریقین کمپیوٹر اور کمپیوٹر نیٹ ورک کو بطور اوزار استعمال کرتے ہیں اور سائبر اسپیس میں ایک دوسرے کے خلاف حملے کرتے ہیں، ماہرین کے مطابق اس جنگ کی درست تعریف ممکن نہیں تاہم بعض ممالک کے خلاف سائبر حملوں اور ان کی جہتوں اور مشترکات کا جائزہ لینے سے نسبتاً جامع تعریف حاصل کی جا سکتی ہے،ان کے مطابق سائبر جنگ کو تکنیکوں کے ایک سیٹ کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں جمع کرنا، ترسیل، تحفظ، رسائی سے روکنا اور معلومات کے معیار کا نقصان شامل ہے۔
واضح رہے کہ یوکرین میں تنازع شروع ہوتے ہی سائبر جنگ کا معاملہ ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گیا ہے، ایک حالیہ بیان میں، مائیکروسافٹ کے سی ای او بریڈ فورڈ لی اسمتھ نے روس-یوکرین جنگ کو دنیا کی پہلی بڑی مشترکہ جنگ قرار دیا جس نے عالمی میدان جنگ کو ورچوئل دائرے میں دھکیل دیا۔
ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی کے صدر کے چند الفاظ اس مسئلے کے بارے میں سوچنے  کے لیے کافی ہیں؛سائبر وارفیئر کی تعریف، اس کے مقاصد اور سیاسی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے ورچوئل ٹولز کا استعمال ہمیں اس سلسلہ میں مزید غور کرنے پر مجبور کرتا ہے، مائیکروسافٹ کے سی ای او بریڈ اسمتھ، جنہوں نے حال ہی میں ماسکو-کیف تنازعہ پر ایک سائبر میٹنگ سے خطاب کیا، یوکرین کے تنازع کو عالمی سطح پر تبدیلی کی علامت قرار دیا۔
اسمتھ نے اس جنگ کو دنیا کی پہلی بڑی مشترکہ جنگ بھی قرار دیا، مائیکروسافٹ کے سی ای او نے روس-یوکرین تنازعہ میں اپنی کمپنی کے اہم کردار پر بات کی، سمتھ کے مطابق مائیکروسافٹ کمپنی نے یوکرین کی حکومت کو تیزی سے کلاؤڈ پر منتقل کرنے میں مدد کی۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین