Code : 1375 57 Hit

تھائیلنڈ کی رہنے والی رویامیال؛امام رضا(ع) کے حرم میں حلقہ بگوش اسلام ہوکر بنی مریم

رویامیال نے اپنے انٹریو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: کہ میں حلقہ بگوش اسلام ہوکر یہ محسوس کررہی ہوں جیسے میں ابھی ابھی پیدا ہوئی ہوں اور ظاہر ہے انسان کی ولادت کے لئے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہوسکتی ہے کہ بہترین مکان اور بہترین زمانے میں پیدا ہو لہذا میرے مشرف بہ اسلام ہونے کا مکان،اعلٰی و ارفع ہے یعنی امام رضا علیہ السلام کی مقدس بارگاہ اور زمانے کے اعتبار سے ماہ مبارک کے یہ سعادت بھرے لمحات اور مجھے حقیقی خوشی تو اس وقت نصیب ہوگی جب میں اس دین کے حقائق کو حاصل کرکے کمال اور سعادت تک پہونچوں۔

ولایت پورٹل: فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مشہد مقدس میں واقع آٹھویں امام حضرت علی رضا علیہ السلام کے روضہ اقدس میں غیر ملکی زائرین سے متلعق روابط عامہ کے دفتر میں ایک اعزازی پروگرام منعقد ہوا جس میں تھائیلینڈ کی رہنے والی ایک ۳۲ سالہ بدھسٹ خاتون تحقیق و مطالعہ کے بعد مذہب حقہ اہل بیت(ع) سے مشرف ہوئی۔
اس تازہ مسلمان ہونے والی خاتون نے پروگرام کے بعد گفتگو میں حاضرین کو بتلایا کہ میں ۱۱ برس پہلے اپنے دفتر میں موجود ایک مسلمان سے آشنا ہوئی اور جب میں نے اس کے کردار کو دیکھا اس کی دعائیں پڑھنے اور مناجات کرنے کو دیکھا تو میرے اندر دین اسلام کے سمجھنے کا مزید شوق پیدا ہوا۔اور یہی تحقیق و مطالعہ آج اس دروازے پر لے آیا کہ جہاں آپ مجھے دیکھ رہے ہیں۔
اس تازہ مسلمان خاتون کا نام’’اوراپان رویامیال‘‘ تھا اور دین اسلام قبول کرکے اس نے اپنا نام مریم رکھ لیا ہے ۔
مریم نے اپنے اسلام لانے کے بارے میں بتلایا کہ میں حق کی تلاش میں کئی سال تک متعدد و مختلف ادیان و فرق کے بارے میں تحقیق و مطالعہ کرتی رہی لیکن کسی بھی دین میں میری روح کی تشنگی اور خستگی کو رفع کرنے کا مداوا نہیں تھا اور میں نے تشیع کا دقیق مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہونچی کہ اسلام ہی سچا دین اور تشیع ہی سچا  مذہب ہے لہذا میں نے اپنے مسلمان ہونے کے اقرار کے لئے حضرت امام ثامن الحجج(ع) کی بارگاہ کا انتخاب اس لئے کیا کہ انشاء اللہ حضرت کے صدقہ میں مجھے منزل بھی ضرور ملے گی۔
اس خاتون نے اپنی تحقیقات کے دوران جالب نظر چیزوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کسی بھی دین یا مذہب کا مطالعہ کیا اس میں پرکندہ و متفرقہ طور پر کچھ اعلٰی مطالب پائے لیکن تشیع ایسا مذہب ہے جس میں زندگی کے بنیادی اور ضروری ترین مسائل کو بڑے دقیق و تفصیلی طور پر بیان کیا گیا ہے۔یہی تشیع کا تمام دیگر مذاہب پر برتری ہے اور اس پر عمل کرکے نیز محنت و مشقت کے ساتھ ایک مسلمان معنویت و کمال تک پہونچ سکتا ہے۔
اس تازہ مسلمان نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ نماز اسلام میں سب سے خوبصورت عبادت ہے کہا: نماز دین اسلام میں ایک با اہمیت عبادت ہے اور جرأت کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نماز سب سے مقدم عبادت ہے۔
رویامیال نے اپنے انٹریو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: کہ میں حلقہ بگوش اسلام ہوکر یہ محسوس کررہی ہوں جیسے میں ابھی ابھی پیدا ہوئی ہوں اور ظاہر ہے انسان کی ولادت کے لئے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہوسکتی ہے کہ بہترین مکان اور بہترین زمانے میں پیدا ہو لہذا میرے مشرف بہ اسلام ہونے کا مکان،اعلٰی و ارفع ہے یعنی امام رضا علیہ السلام کی مقدس بارگاہ اور زمانے کے اعتبار سے ماہ مبارک کے یہ سعادت بھرے لمحات اور مجھے حقیقی خوشی تو اس وقت نصیب ہوگی جب میں اس دین کے حقائق کو حاصل کرکے کمال اور سعادت تک پہونچوں۔
یاد رہے کہ اس اعزازی پروگرام کے اختتام پر آستان قدس رضوی کے غیر ملکی زائرین کے شعبہ کی طرف سے اس تازہ مسلمان خاتون کو انگریزی ترجمہ کے ساتھ ایک قرآن مجید، ایک جانماز،ایک چادر اور کچھ دیگر ثقافتی چیزیں بطور ہدیہ پیش کی گئیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम