Code : 1315 62 Hit

رمضان المبارک،قرآن سے مانوس ہوکر اپنے وجود کو معرفت کی دولت سے مالا مال کرنے کا مہینہ ہے: آیت اللہ خامنہ ای

اگر قرآن کی آیتوں پر غور کریں گے تو ہمارا ارادہ اور استقامت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط و مستحکم ہوگا۔ انہی قرآنی آیات کا کرشمہ تھا کہ ایک زمانے میں ایسے انسانوں کی تربیت عمل میں آئی کہ جنہوں نے عالم کفر و ظلمات سے مقابلہ کیا، انہی عظیم معارف نے ہماری عظیم قوم کو آمادہ کیا کہ جدید اور ماڈرن عالم جاہلیت سے جو کہ بیسویں صدی کی جاہلیت ہے، مقابلہ کرے! مجھے توقع ہے کہ ہماری قوم دن بدن قرآن اور قرآنی حقائق سے قریب تر ہوتی جائے گی۔

ولایت پورٹل: یہ مہینہ(رمضان المبارک) اسی طرح بہار قرآن سے بھی موسوم ہے، قرآن سے انس اختیار کرنے سے ہمارے ذہنوں میں اسلامی معرفت کو مضبوطی اور گہرائی حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی معاشروں کی بدقسمتی، ان کے قرآن اور اس کے معارف و حقائق سے دوری اختیار کرنے کی خاطر ہے۔ مسلمانوںکا وہ گروہ جو کہ قرآن کے مفہوم و معنی کو نہیں سمجھتا ہے اور اس سے انسیت نہیں رکھتا ہے اس کاحال بخوبی معلوم ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جن کی زبان بھی، قرآن کی زبان (عربی) ہے وہ اسے سمجھتے تو ہیں لیکن قرآنی آیات پرغوروفکر نہ کرنے کی وجہ سے وہ قرآنی حقائق سے آشنا و واقف نہیں ہوپاتے اور اس سے انسیت اختیار نہیںکرتے ہیں۔ آپ مشاہدہ کرتے ہیں کہ:’’وَلَن یَّجْعَلَ اللَّٰہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا‘‘۔(سورۂ نساء، آیت:۱۴۱)
یعنی خداوند عالم نے مؤمنین کو کافروں کے تحت تسلط و ذلت قرار نہیں دیا ہے، یہ آیت عرب ملکوں میں عرب زبان لوگوں کے ذریعہ دنیا میں پڑھی جاتی ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا ہے قرآن کی آیتوں پر غور و فکر اور توجہ نہیں دی جاتی ہے، اس لئے اسلامی ممالک پسماندہ اور پچھڑے ہوئے ہیں۔
قرآن سے لگاؤ رکھنا یعنی قرآن کو باربار اور لگاتار پڑھنا اور قرآن کے مفہوم ومعنی کو سمجھنا اور اس پر غورکرنا۔ فارسی داں حضرات، قرآن کے ترجمہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تقریبی طور پر قرآن کے کلمات کو سمجھ کر آیتوں کے مضامین کو سمجھ کر اس پر غور و فکر کرسکتے ہیں۔
اگر قرآن کی آیتوں پر غور کریں گے تو ہمارا ارادہ اور استقامت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط و مستحکم ہوگا۔ انہی قرآنی آیات کا کرشمہ تھا کہ ایک زمانے میں ایسے انسانوں کی تربیت عمل میں آئی کہ جنہوں نے عالم کفر و ظلمات سے مقابلہ کیا، انہی عظیم معارف نے ہماری عظیم قوم کو آمادہ کیا کہ جدید اور ماڈرن عالم جاہلیت سے جو کہ بیسویں صدی کی جاہلیت ہے، مقابلہ کرے! مجھے توقع ہے کہ ہماری قوم دن بدن قرآن اور قرآنی حقائق سے قریب تر ہوتی جائے گی۔

تہران کی نماز جمعہ میں خطاب: ۱۰؍۰۱؍۱۳۶۹ہجری شمسی۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम