Code : 1576 76 Hit

قرآن و حدیث کی روشنی میں رزق میں وسعت و برکت کے اسباب(2)

پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:زنا کرنے سے 6 طرح کی آفتیں زانی کے دامن گیر ہوتی ہیں۔ ان میں سے 3 آفتیں اسے دنیا میں پیش آتی ہیں اور 3 آفتیں آخرت میں اس کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہیں۔وہ 3 آفتیں جو زنا کے سبب زناکار کو دنیا میں پیش آتی ہیں وہ یہ ہیں: اس کی عزت و آبرو ختم ہوجاتی ہے۔اسے جلد موت آجاتی ہے۔اس کا رزق تنگ ہوجاتا ہے۔ اور وہ آفتیں جو زناکار کے لئے آخرت میں وبال جان بن جاتی ہیں وہ یہ ہیں:اس سے اعمال کا سخت حساب لیا جاتا ہے،اللہ تعالٰی کا غضب اس کے شامل حال ہوتا ہے اور آخر میں اسے جہنم روانہ کردیا جاتا ہے جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ قہر خدا کی آگ میں جلتا رہے گا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جیسا کہ ہم نے گذشتہ مقالہ میں عرض کیا تھا کہ قرآن مجید اور روایات معصومین(ع) کی روشنی میں رزق میں برکت و وسعت کا تعلق صرف زیادہ کمانے اور محنت کرنے سے نہیں ہے بلکہ کمانے اور محنت کرنے کے ساتھ ساتھ اور بھی کچھ ایسی چیزیں ہیں جن سے رزق میں برکت و وسعت پیدا ہوتی ہے۔
گذشتہ مقالہ کے لئے یہاں کلک کیجئے:
قرآن و حدیث کی روشنی میں رزق میں وسعت و برکت کے اسباب(1)
آئیے گذشتہ سلسلہ سے متصل ہوتے ہوئے ہم سب سے پہلے ایک اہم برکتی چیز کا ذکر کررہے ہیں اور وہ ہے اپنے اہل و عیال( یعنی اپنے بیوی بچوں) کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا۔چنانچہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا ایک ایسی صفت ہے جس سے تمام انبیائے کرام اور آئمہ معصومین(ع) پہلے مرحلے میں خود مزین تھے اور ان حضرات سے وارد ہونے والی احادیث میں اہل و عیال کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آنے  کو رزق میں برکت و وسعت کا ایک اہم سبب قرار دیا ہے چنانچہ امام جعفر صادق(ع) رزق میں برکت کے لئے اس عمل کو بے حد تأثیر گذار مانتے ہیں:’’مَنْ‏ حَسُنَ‏ بِرُّهُ‏ بِأَهْلِ‏ بَيْتِهِ‏ زِيدَ فِي رِزْقِهِ‘‘۔(بحار الأنوار، ج‏71، ص 104) جو شخص اپنے اہل و عیال کے ساتھ زیادہ نیکی کرتا ہے اس کا رزق زیادہ ہوجاتا ہے۔  اور ایک دیگر حدیث میں فرمایا کہ اپنے اہل عیال کے ساتھ نیکی کرنے سے صرف یہی نہیں کہ رزق میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عمر میں بھی برکت ہوتی ہے:’’مَنْ‏ حَسُنَ‏ بِرُّهُ‏ بِأَهْلِ‏ بَيْتِهِ‏ مُدَّ لَهُ فِي عُمُرِهِ‘‘۔(وسائل‌الشيعة، ج‏12، ص162) جو اپنے اہل عیال سے اچھا سلوک روا رکھے اس کی عمر لمبی ہوتی ہے۔
اسی طرح قرآن و روایات کی روشنی میں ایک اہم چیز جو رزق میں وسعت اور گھر میں برکت کا سبب بنتی ہے وہ اللہ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کرنا اور اپنی کوتاہیوں کی مغفرت طلب کرنا ہے۔
اپنے گناہوں سے توبہ کرنے میں جلدی کرنا عقلاً و شرعاً ایک مطلوب امر ہے چونکہ جس طرح استغفار کرنے سے انسان کا نفس گناہ کی تیرگی سے صاف ہوتا ہے اسی طرح رزق میں برکت و وسعت بھی استغفار کے ثمرات میں سے ایک ہے لہذا حضرت امیر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’الِاسْتِغْفَارُ يَزِيدُ فِي‏ الرِّزْق‘‘۔(الخصال، ج‏2، ص 505) اسغفار رزق کو زیادہ کردیتا ہے۔
قارئین یہ بھی ملحوظ رہے کہ گناہ کی دو قسمیں ہوتی ہیں کچھ وہ گناہ ہیں کہ انسان جن کا ارتکاب  اللہ کے حق کو پامال کرکے کرتا ہے اور کچھ وہ گناہ ہیں جو بندگان حقوق کو پامال کرکے انجام دیئے جاتے ہیں:
الف)حق اللہ  وہ گناہ ہے جو صرف اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنے سے بخش دیا جاتا ہے جیسا کہ نماز کو سبک شمار کرنا یا روزہ نہ رکھنا وغیرہ۔
ب) حق الناس وہ گناہ ہوتے ہیں جو اللہ کی بارگاہ میں صرف توبہ کرنے سے معاف نہیں ہوتے بلکہ ایسے گناہوں کے متعلق توبہ کرنے کے علاوہ خود اس شخص سے معافی طلب کرنا پڑتی ہے جس کی حق تلفی ہوئی ہے جیسا کہ مال یتیم کو کھانا۔ یہ ایک سنگین گناہ ہے اگر خود اس شخص نے معاف نہیں کیا تو اللہ بھی کبھی معاف نہیں کرے گا۔
بہر کیف جن چیزوں سے انسان کے رزق میں برکت آتی ہے ان میں ایک لالچ کو ترک کرنا بھی ہے۔ اگرچہ لوگوں کا عام تصور یہ ہے کہ جتنا لالچ کریں گے اتنا رزق بچے گا جبکہ علمائے اخلاق نے لالچ کو ایک رذیل صفت قرار دیا ہے اور روایات کی روشنی میں جو شخص لالچ کو ترک کرے اسی کے رزق میں برکت ہوگی جیسا کہ امیرالمؤمنین(ع) کا ارشاد گرامی ہے:’’ترْكُ الْحِرْصِ يَزِيدُ فِي الرِّزْق‘‘۔(سابق حوالہ، ج2، ص505)۔
دینی تعلیمات کی روشنی میں جس طرح صلہ رحم کرنے سے  آپشی رشتے و تعلقات مضبوط ہوتے ہیں ویسے ہی اس کے سبب رزق میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ حضرت علی(ع) نے ارشاد فرمایا:’’صِلَةُ الرَّحِمِ تَزِيدُ فِي الرِّزْقِ‘‘۔(علی بن حسن طبرسی، مشكاۃ الأنوار في غررالأخبار، ص  129)۔ صلہ رحم کرنے سے رزق زیادہ ہوتا ہے۔
صلہ رحم کرنے کے ذریعہ رزق میں برکت ہونے کے متعلق سرکار ختمی مرتبت(ص) کا ارشاد ہے:’’مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوَسَّعَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَجَلِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ‘‘۔سابق حوالہ:ص166)۔جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا رزق وسیع ہو اور دیر سے موت آئے اسے صلہ رحم کرنا چاہیئے۔
جن چیزوں سے رزق میں برکت ہوتی ہے ایک فقراء و مساکین اور نادار لوگوں کے اخراجات برداشت کرنا اور ان کو کھانا کھلانا بھی ہے۔ اور بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی فقیر و مسکین کو کھانا کھلانے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنا رزق میں برکت کے لئے ایک اکسیر چیز ہے چنانچہ رسالتمآب(ص) کا ارشاد ہے:’’الرِّزْقُ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُطْعِمُ الطَّعَامَ مِنَ السِّكِّينِ فِي السَّنَامِ‘‘۔(الكافي، ج‏4، ص 51) جو شخص کسی کو کھانا کھلاتا ہے اس کی طرف رزق اونٹ کی کوہان میں چھری پیوست کرنے سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ آتا ہے۔
رسول اللہ(ص) کی یہ عجیب تعبیر ہے چونکہ اونٹ کے کوہان میں گوشت نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف چربی کا ایک بڑا لوتھڑا ہوتا ہے جس میں کوئی بھی دھار دار و نکیلی چیز بڑی آسانی اور تیزی کے ساتھ پیوست ہوجاتی ہے۔
رزق میں بے برکتی کے اسباب
جیسا کہ ہم نے گذشتہ مقالہ کے آغاز میں ہی عرض کیا تھا کہ اس دنیا میں کوئی معلول بھی کسی علت و سبب کے بغیر وجود نہیں پاتا اور جس طرح ہم نے یہ بیان کیا کہ ظاہری محنت و مشقت کے علاوہ بھی رزق میں برکت و وسعت کے بہت سے اسباب ہیں اور ہم نے فہرست وار ان سب کا تذکرہ کیا اب آئیے اختتام سے پہلے کچھ ان چیزوں کا ذکر بھی کردیں جنہیں قرآن و حدیث میں رزق کے اندر بے برکتی کے اسباب کے طور پر شمار کیا گیا ہے۔ اور یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جن چیزوں کے سبب رزق سے برکت ختم ہوجاتی ہے ان کا تعلق گناہ سے ہے اگرچہ گناہوں کی فہرست تو بہت طویل ہے لیکن ہم صرف ان گناہوں کے بیان پر اکتفاء کریں گے جنہیں قرآن و حدیث میں رزق کے کم کرنے کا سبب بتلایا ہے۔
قرآن و روایات کی روشنی میں جس گناہ کو رزق میں بے برکتی کا سب سے بڑا سبب شمار کیا ہے وہ زنا ہے۔ زنا بذات خود ایسا گناہ ہے جس کے مرتکب ہونے والے کو عذاب جہنم کا وعدہ دیا گیا ہے۔چنانچہ قرآن مجید زنا کی سزا کے لئے فرماتا ہے:’’ الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ‘‘۔(سورہ نور:2) زناکار عورت اور زنا کار مرد دونوں کو سو سوکوڑے لگاؤ اور خبردار دین خدا کے معاملہ میں کسی مروت کا شکار نہ ہوجانا اگر تمہارا ایمان اللہ اور روزآخرت پر ہے اور اس سزا کے وقت مؤمنین کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہئے۔
زنا جہاں بے عزتی و بے آبروئی کا سبب ہوتا ہے اور انسان کو معاشرے میں ذلیل رسوا کردیتا ہے وہیں اس کے رزق اور اس کی عمر سے برکت کے ختم ہوجانے کا سبب بھی ہوتا ہے چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:’’في الزِّنَا سِتُّ خِصَالٍ‏ ثَلَاثٌ مِنْهَا فِي الدُّنْيَا وَ ثَلَاثٌ مِنْهَا فِي الْآخِرَةِ فَأَمَّا الَّتِي فِي الدُّنْيَا فَيَذْهَبُ بِالْبَهَاءِ وَ يُعَجِّلُ الْفَنَاءَ وَ يَقْطَعُ الرِّزْقَ وَ أَمَّا الَّتِي فِي الْآخِرَةِ فَسُوءُ الْحِسَابِ وَ سَخَطُ الرَّحْمَنِ وَ خُلُودٌ فِي النَّار‘‘۔(من لايحضره الفقيه، ج‏4، ص 367) زنا کرنے سے 6 طرح کی آفتیں زانی کے دامن گیر ہوتی ہیں۔ ان میں سے 3 آفتیں اسے دنیا میں پیش آتی ہیں اور 3 آفتیں آخرت میں اس کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہیں۔وہ 3 آفتیں جو زنا کے سبب زناکار کو دنیا میں پیش آتی ہیں وہ یہ ہیں: اس کی عزت و آبرو ختم ہوجاتی ہے۔اسے جلد موت آجاتی ہے۔اس کا رزق تنگ ہوجاتا ہے۔ اور وہ آفتیں جو زناکار کے لئے آخرت میں وبال جان بن جاتی ہیں وہ یہ ہیں:اس سے اعمال کا سخت حساب لیا جاتا ہے،اللہ تعالٰی کا غضب اس کے شامل حال ہوتا ہے اور آخر میں اسے جہنم روانہ کردیا جاتا ہے جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ قہر خدا کی آگ میں جلتا رہے گا۔
اسی طرح ایک وہ گناہ جس کے ذریعہ رزق میں کمی واقع ہوتی ہے وہ جھوٹ بولنا ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ بولتے وقت انسان اس کی سنگینی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا جبکہ یہ ایسا گناہ کبیرہ ہے جس پر عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے اور اس سے انسان کے رزق سے برکت اٹھ جاتی ہے چنانچہ رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے:’’الكذب ينقص الرّزق‘‘۔(ابوالقاسم پاینده، نهج الفصاحه، ص 372) جھوٹ سے رزق میں کمی واقع ہوتی ہے۔
جس طرح زنا اور جھوٹ کے سبب رزق سے برکت اٹھ جاتی ہے اسی طرح مال حرام کھانے سے بھی انسان کا رزق کم ہوجاتا ہے۔حرام خوری کے جہاں تکلیفی اثرات ہیں وہیں اس کے وضعی اثرات بھی انسان کی روح پر مترتب ہوتے ہیں۔ جیسا کہ انسان اچھے اور نیک کام کرنے سے رک جاتا ہے اور اس سے نیکیوں کی توفیق سلب ہوجاتی ہے اسی طرح اس کے وضعی اثرات میں سے ایک رزق کا کم ہوجانا بھی ہے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’کَثْرَةُ السُّحْتِ يَمْحَقُ الرِّزْقَ‘‘۔(حسن بن علی بن شعبه حرانی، تحف العقول، ص372)۔ زیادہ حرام خوری رزق کو ختم کردیتی ہے۔
ایک وہ گناہ جو ہمارے یہاں بہت رائج ہے اور جس کے سبب رزق سے برکت اٹھ جاتی ہے وہ زکات و صدقات کا ادا نہ کرنا ہے۔ چونکہ جب وہ چیزیں کہ جن پر شریعت نے زکات رکھی ہے وہ حد نصاب کو پہونچ جائیں تو ان پر زکات ادا کرنا واجب ہے اور اگر کوئی شخص یہ فکر کرے کہ زکات دینے سے تو میرا مال کم ہوجائے گا اس کی یہ فکر محض گمان ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے:’’إِذَا مَنَعُوا الزَّكَاۃ، مَنَعَتِ الْأَرْضُ‏ بَرَكَتَهَا مِنَ الزَّرْعِ وَ الثِّمَارِ وَ الْمَعَادِنِ كُلَّهَا‘‘۔(محمد بن علی بن بابویه، علل‌الشرائع، ج 2، ص 584) جب لوگ اپنی زکات ادا کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو زمین کھیتی، پھلوں کی پیداوار اور معدنیا سے اپنی برکت  سے ہاتھ کھینچ لیتی ہے۔
بس آخر میں ایک مزید ایسے گناہ کا تذکرہ کررہے ہیں جس کے کرنے سے قرآن مجید اور سنت قطعیہ میں منع کیا گیا ہے اور جس کے سبب رزق سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ اور وہ ہے امانت میں خیانت کرنا۔ چنانچہ یہ بھی گناہ کبیرہ ہے اور اللہ نے امانت کی ادائیگی کا قرآن مجید میں اس طرح حکم دیا ہے:’’إِنَ‏ اللَّهَ‏ يَأْمُرُكُمْ‏ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَماناتِ إِلی ‏أَهْلِها‘‘۔(نساء : 58) بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پہنچا دو۔
جہاں امانت میں خیانت کرنے کے بہت سے دیگر آثار انسان کی زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں وہیں اس کا ایک قبیح اثر انسان کے رزق سے برکت کا اٹھ جانا بھی ہے لہذا پیغمبر اکرم(ص) سے منقول حدیث میں آیا ہے:’’الْأَمَانَةُ تَجْلِبُ الرِّزْقَ وَ الْخِيَانَةُ تَجْلِبُ الْفَقْرَ‘‘۔حسین بروجردی، جامع أحادیث الشیعه،ج 23، ص 1152) امانت داری رزق میں وسعت و برکت کو اپنی طرف کھینچتی ہے  اور خیانت فقر و تنگدستی کا سبب  بنتی ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम