Code : 1566 65 Hit

قرآن و حدیث کی روشنی میں رزق میں وسعت و برکت کے اسباب(1)

قرآن مجید کی متعدد آیات میں جہاں کلمہ’’رزق‘‘ آیا ہے وہیں’’أَنْفِقُوا‘‘ یا ’’أَنْفَقُو‘‘ جیسے کلمات بھی آئے ہیں جو اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انفاق کرنے اور راہ خدا میں خرچ کرنے سے مال کم یا ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کا نظام ہے جو اس کی راہ میں خرچ کرے گا اس کے رزق میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

ولایت پورٹل: رزق اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جسے حاصل کرنے کے لئے انسان زندگی بھر کوشش کرتا ہے لہذا اس معیار کی بنیاد پر زندگی کی تمام نعمتوں پر رزق کا اطلاق ہوتا ہے چاہے وہ مال ہو، عزت ہو،خاندان، دوست،علم اور جمال وغیرہ ہوں۔
موجودہ مقالہ میں ہم قرآن مجید اور روایات معصومین(ع) کی روشنی میں یہ بیان کرنے کی کوشش کریں گے کہ رزق کا معنٰی و مفہوم کیا ہے اور کون سی چیزیں رزق میں برکت یا بے برکتی کا سبب بنتی ہیں۔
1۔رزق کسے کہتے ہیں
رزق کا لفظ سنتے ہی سب سے پہلے انسان کا ذہن کھانے پینے کی چیزوں اور غذا کی طرف جاتا ہے چاہے اس کا دینے والا معلوم ہو یا مجہول۔پھر اگلے مرحلے میں اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو انسان تک پہونچتی ہے چاہے وہ کھانے پینے سے متعلق ہوں یا نہ ہوں۔ لہذا اس بنیاد پر رزق کا اطلاق ہر طرح کی عام نعمت جیسا کہ مال،منصب،مقام،خاندان،دوست اور جمال وغیرہ پر ہوتا ہے۔
اور شاید یہ بات بھی لطف سے خالی نہ ہو کہ علامہ طباطبائی نے تفسیر المیزان میں رزق کی دو اقسام بیان کی ہیں:
الف) رزق حسن
ب) رزق غیر حسن
علامہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں رزق حسن سے مراد کسی کو منصب نبوت و امامت سے سرفراز کیا جانا ہے۔( تفسیر المیزان، ج 3، ص 214)
2۔رزق کے اقسام
اگر ہم رزق کو تقسیم کرنا چاہیئں تو عام طور پر اسے 2 اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
الف) مادی رزق: مادی رزق اسے کہتے ہیں جو ظاہری اور دنیاوی زندگی کا لازمہ ہو اور جو انسان اور تمام زندہ موجودات کے لئے اس دنیا میں زندہ رہنے اور بقائے نسل کے لئے ضروری ہو۔ احکام تکلیفی و وضعی کے پیش نظر مادی رزق کی پانچ اقسام ہوتی ہیں:
1۔واجب:رزق کی اس مقدار کو کہا جاتا ہے  جس کا حصول ہر شخص کے لئے ضروری ہو کہ جس سے وہ اپنی اور اپنے زیر کفالت آنے والے افراد کی ضرورتوں کو صحیح راستے اور شرعی طریقہ سے پورا کرسکتا ہو۔
2۔حرام: حرام اس رزق کو کہا جاتا ہے جس پر انسان کا حق نہ ہو اور وہ حرام طریقے سے اسے حاصل کرے جیسا کہ چوری کرے یا کسی کے مال کو غصب کرکے اپنے خاندان کی ضرورتوں کو پورا کرے۔
3۔مستحب: استحباب کے دائرہ میں وہ رزق آتا ہے جسے انسان واجب ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد زندگی میں توسیع  اور آرام کے لئے کماتا اور حاصل کرتا ہے۔
4۔مکروہ:مکروہ رزق و کمائی اسے کہا جاتا ہے جس کا حاصل کرنا اگرچہ حرام نہیں لیکن جسے ایسے طریقہ سے کمایا جائے جسے شریعت نے مکروہ جانا ہے ۔چنانچہ اس کا بیان فقہ کی کتابوں میں تفصیلی طور پر مل جائے گا۔
5۔مباح: مباح اس رزق کو کہا جاتا ہے کہ اپنی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے انسان جس پر موقوف نہ ہو اور جس کا حاصل کرنا و کمانا حرام یا مکروہ بھی نہ ہو جیسا کہ اپنا روزمرہ کا کام جسے انسان بغیر ضرورت کے بھی کرتا ہے۔
ب) معنوی رزق: رزق کی دوسری قسم معنوی رزق ہے یہ ایسا رزق ہے جو انسان کے وجود کو حقیقت میں تبدیل کردیتا ہے اور جو انسان کو اس کے مقصد سے قریب تر کردیتا ہے اور اسے نیک اعمال بجا لاکر اور مستحبات پر عمل کرکے حاصل کیا جاتا ہے اور یہ انسان کی آخرت اور قیامت کا توشہ اور زاد راہ قرار پاتا ہے اسے حاصل کرکے انسان اپنی آخرت کو سنوارتا ہے اور جنت میں اپنے لئے گھر تعمیر کرتا ہے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں بھی دو طرح کے رزق کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جسے ان دونوں اقسام پر منطبق کیا جاسکتا ہے چنانچہ آپ نے فرمایا:’’رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جسے تم تلاش کرتے ہو اور دوسرا وہ جو تمہیں تلاش کرتا ہے‘‘۔(نہج البلاغہ،حکمت 431)
لہذا اس حدیث نورانی سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ انسان جس رزق کی تلاش میں نکلتا ہے وہ مادی بھی ہوسکتا ہے اور معنوی بھی اور اسی طرح وہ رزق جو انسان کی تلاش میں آتا ہے وہ مادی بھی ہوسکتا ہے اور معنوی بھی۔ لیکن اگر انسان صرف و صرف اپنی دنیا کی فکر میں  رہے طبیعتاً وہ اپنی آخرت کی کو بھول جاتا ہے اور اس کی توجہ اس معنوی رزق کی طرف نہیں جاتی جو مطلوب پروردگار اور مقصد تخلیق انسان ہے۔چونکہ ایسے افراد کا مقصد اپنی دنیاوی زندگی کو خوشحال اور خوبصورت بنانا ہوتا ہے لیکن وہ لوگ جن کے پیش نظر مادی دنیا کے علاوہ آخرت بھی ہو وہی لوگ معنوی رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں چونکہ ان کا مقصد مادی دنیا کے اخراجات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ آخرت کی خوشحالی اور وہاں کا آرام بھی ہوتا ہے۔
وہ افراد جو متقی و پرہیزگار ہیں اور ہمیشہ یاد خدا میں رہتے ہیں جو اپنے واجب اعمال پابندی سے ادا کرتے ہیں وہی لوگ معنوی رزق حاصل کرنے کے لئے مستحبات پر بھی عمل کرتے ہیں ایسے افراد مادی رزق کے حصول کا زیادہ جذبہ نہیں رکھتے ایسے ہی لوگوں کے پاس مادی رزق انہیں تلاش کرتا ہوا چلا آتا ہے چاہے وہ اس کی تلاش میں بھی نہ نکلیں۔ البتہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ کوئی مادی رزق کی تلاش میں نہ نکلے اور گھر میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہے۔
قرآن مجید متقی و پرہیزگار لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے:’’مَن يَتَّقِ اللَّهَ يجَعَل لَّهُ مخَرَجًا، وَ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يحَتَسِب‘‘۔(سورہ طلاق:2، 3) اور جو بھی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے۔اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا خیال بھی نہیں ہوتا ہے۔
3۔رزق میں برکت کے اسباب
جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس عالم میں کوئی بھی معلول بغیر علت و سبب کے وجود میں نہیں آتا اور اس عام قانون سے رزق بھی مستثنٰی نہیں ہے۔یہ ایک حقیقت ہے لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی رکھنا چاہیئے کہ ہر علت و سبب اللہ کے حکم اور اس کے اردے کے بغیر کام نہیں کرتا۔ اللہ رزاق مطلق ہے جو سب کو رزق دینے والا ہے۔ جبکہ اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ رزق میں زیادتی اور وسعت کا تعلق زیادہ کمانے سے ہے۔ لیکن تلاش کرنا اور رزق کے حصول کے لئے کوشش کرنا اچھی چیز ہے لیکن یہ محض رزق میں زیادتی اور روزی میں وسعت کا سبب نہیں بن سکتا بلکہ اگر ہم قرآن و روایات معصومین(ع) کی طرف رجوع کریں تو ہمیں کوشش و تلاش کے علاوہ ان چیزوں کا تذکرہ ملتا ہے: تقوا، انفاق،اہل و عیال کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا،گناہوں سے استغفار کرنا،لالچ کو ترک کرنا،صلہ رحم  اور فقراء و مساکین کی کفالت کرنا اور ان کا بوجھ اٹھانا وغیرہ۔
جیسا کہ ارشاد ہوتاہے:’’وَ مَن يَتَّقِ اللَّهَ يجَعَل لَّهُ مخَرَجًاوَ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يحَتَسِبُ‘‘۔(سورہ طلاق:2، 3)۔ اور جو بھی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے۔اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا خیال بھی نہیں ہوتا ہے۔
یا ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:’’ قُلْ‏ إِنَ‏ رَبِّي‏ يَبْسُطُ الرِّزْقَ‏ لِمَنْ‏ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ وَ يَقْدِرُ لَهُ وَ ما أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْ‏ءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَ هُوَ خَيْرُ الرَّازِقين‘‘۔(سورہ سبأ:39)۔ بیشک ہمارا پروردگار اپنے بندوں میں جس کے رزق میں چاہتا ہے وسعت پیدا کرتا ہے اور جس کے رزق میں چاہتا ہے تنگی پیدا کرتا ہے اور جو کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو گے وہ اس کا بدلہ بہرحال عطا کرے گا اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
قارئین کرام! یہ نقطہ بھی قابل ملاحظہ ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں جہاں کلمہ’’رزق‘‘ آیا ہے وہیں’’أَنْفِقُوا‘‘ یا ’’أَنْفَقُو‘‘ جیسے کلمات بھی آئے ہیں جو اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انفاق کرنے اور راہ خدا میں خرچ کرنے سے مال کم یا ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کا نظام ہے جو اس کی راہ میں خرچ کرے گا اس کے رزق میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔


جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम