Code : 3741 7 Hit

سعودی عرب جیلوں میں خواتین کے حقوق کی کارکنوں پر تشدد اور ہراسانی بند کرے:ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ جیلوں میں خواتین کارکنوں کے ساتھ ہونے والے تشدد اور دیگر ناروا سلوک کو بندکرے۔

ولایت پورٹل:اناتولی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آج (جمعرات کو) سعودی عرب میں خواتین کے حقوق  کی کارکنوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ  لائسنس دینےکی اجازت کی دوسری سالگرہ کے موقع پر اپنے جاری کردہ بیان میں  سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیلوں میں خواتین کے حقوق کی کارکنوں پر ہونے والے تشدد اور ہراسانی کو ختم کرے۔
یادرہے کہ لجین الھذول ، ایمان النفجان اور عذیر الیوسف کے علاوہ متعدد دیگر خواتین کو بغیر کسی عدالتی کاروائی  کے گذشتہ دو سالوں سے مرد اور خواتین کے مساوی حقوق کے مطالبے کے جرم میں قید میں رکھا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ متعدد خواتین کارکنوں کو جیلوں میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے یا وہ ایک طویل عرصے سے قید تنہائی میں ہیں اور انہیں اس دوران کسی وکیل تک رسائی یا ان کے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں گئی ہے۔
مذکورہ تنظیم کا کہنا ہے کہ  سعودی رہنمااپنی مبینہ اصلاحات  کی آڑ میں "انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں" اور انسانی حقوق کے کارکنوں پرکیے جانے والے "وحشیانہ جبر" پر پردہ نہیں ڈال سکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ مئی 2018 میں سعودی سکیورٹی فورسز نے متعدد سعودی خواتین کارکنوں کو گرفتار کیا تھا تاہم ابھی تک ان کے خلاف ابھی تک کوئی فرد جرم عائد نہیں کیا گئی ہےاور نہ ہی انھی عدالت میں پیش کیا گیا ہے جس کے بعد سے اس ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے درمیان خوف وہراس پایا جاتا ہے۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین