Code : 3792 7 Hit

ایتھوپیا میں فسادات؛81 افراد ہلاک

ایتھوپیا کے دارالحکومت میں ہونے والے فسادات میں 80 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد اس ملک کے وزیر اعظم نے کچھ غیر ملکی طاقتوں پر النہضہ ڈیم منصوبے کو متاثر کرکے ملک میں فسادات کرانے کا الزام عائدکیا ہے۔

ولایت پورٹل:الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق ایتھوپیا کے مشہور گلوکار اور سیاسی کارکن ہاشلو ہونڈیسہ کے قتل کے ساتھ ہی اس ملک میں تنازعات اور تشدد کی آگ بھڑک اٹھی ، جس کی وجہ سے اب تک 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ بدھ (کل) سے دارالحکومت کے کچھ حصوں میں فوجی دستے موجود ہیں اور کچھ رہائشی علاقوں میں فائرنگ کی آواز سنی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق  یورومو قبیلے کے نوجوانوں اور اس میں شامل نسلی گروہوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں ہیں۔
یادرہے کہ پیر کی رات مقبول گلوکار اور سیاسی کارکن ہاشلو ہونڈیسہ کے قتل کے بعد مظاہرے اور جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
اس کے بعد ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں تین دھماکوں کے بعد تشدد کا آغاز مزید بھڑک اٹھا جس میں ایک پولیس افسر سمیت متعدد افراد ہلاک ہوگئے  اوردیکھتے ہی دیکھتے فسادات کی آگ نے ملک کے دوسرے حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ارمیہ پولیس نے بتایا کہ فسادات میں اب تک تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت 81 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
دوسری طرف پولیس نے مخالفین کے لیڈر بکلی جریبا اورسیاسی کارکن جوہر محمد کو حراست میں لے لیا جس سے فسادات کو مزید ہوا ملی۔
یادرہے کہ پیر کو قتل ہونے والےہونڈیسہ ران مظاہرین میں شامل تھے جنہوں نے ایتھوپیا کے موجودہ وزیر اعظم  ابی احمد کی اس عہدہ تک پہنچنے کے لیے زمینہ فراہم کیا تھا۔
اس سلسلے میں  ابی احمد نے کچھ غیر ملکی اور مقامی جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ ایتھوپیا کو غیر مستحکم کرنے اور النہضہ ڈیم منصوبے کی تکمیل کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین