Code : 1429 264 Hit

امریکی جنگی بیڑے کا ۳۰ کروڑ ڈالر کیرایہ ریاض و ابوظبی نے مشترکہ طور پر امریکہ کوپہلے ہی ادا کردیا: قطری اخبار

اس اخبار نے دعوا کیا ہے کہ یہ بیڑا سعودی عرب اور امارات کے خرچ پر امریکہ سے چل کر خلیج فارس میں آیا ہے تاکہ ایران، امریکہ سے مرعوب ہوجائے اور اس سے ڈر کر اس کے سارے مطالبات تسلیم کرلے کہ جس کا براہ راست سعودی عرب اور امارات کو بھی فائدہ پہونچنے والا ہے لہذا انہوں نے پہلے ہی ۳۰ کروڑ ڈالر امریکہ کو دیکر اس بیڑے کو یہاں بلوایا ہے۔

ولایت پورٹل: قطر کے مشہور اخبارالشرق نے حال ہی میں رونما ہوئے ایک حادثے سے پردہ اٹھاتے ہوئے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔وہ یہ کہ جب سے امریکہ و ایران کے درمیان لفظی جنگ کا آغاز ہوا اور امریکہ نے ایران کے تیل کو صفر تک پہونچانے کے لئے ایڑی چوٹی کے زور لگایا اسی وقت سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی دل خواہش یہ تھی کہ ایران و امریکہ کے درمیان ایک فیزیکلی جنگ ہوجائے ۔
جس کے لئے الفیجیرہ میں سعودی عرب اور امارات نے اپنی کشتیوں کو خود نقصان پہونچوا کر اس کا الزام ایران کے ذمہ سر تھونپ دیا تاکہ کسی صورت امریکہ کو جنگ کرنے پر راضی کرلیں۔آخر کار امریکہ جگ پر راضی تو نہ ہوا لیکن اس نے اپنا سب سے بڑا جنگی بیڑا ان دونوں کے کہنے پر خلیج فارس میں بھیج دیا ۔اس اخبار نے دعوا کیا ہے کہ یہ بیڑا سعودی عرب اور امارات کے خرچ پر امریکہ سے چل کر خلیج فارس میں آیا ہے تاکہ ایران، امریکہ سے مرعوب ہوجائے اور اس سے ڈر کر اس کے سارے مطالبات تسلیم کرلے کہ جس کا براہ راست سعودی عرب اور امارات کو بھی فائدہ پہونچنے والا ہے لہذا انہوں نے پہلے ہی ۳۰ کروڑ ڈالر امریکہ کو دیکر اس بیڑے کو یہاں بلوایا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اپنی خاندانی آمریت بچانے کے لئے ہر لمحہ امریکہ جیسے تنکوں کی ضرورت پڑتی رہے گی اور جب تک انہیں اپنی ظالم حکومتیں بچانا ہے انہیں ویسے ہی باج دیتے رہنا ہوگا جسیا کہ وہ پہلے بھی دے چکے ہیں کہ جب ٹرمپ نے سعودی عرب کو ایک دودھ دیتی گائے سے تعبیر کیا تھا۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम