Code : 2294 142 Hit

زیارت امام حسین(ع) پر خرچ ہونے والے ہر درہم کا اجر

ثواب کا الگ الگ ہونا درحقیقت زائر کی معرفت کے درجات پر موقوف ہے جتنی جس کی معرفت اتنا ہی اسے اجر ملے گا اسی لئے آئمہ علیہم السلام کی احادیث میں زائر کے لئے سب سے اہم عنصر اور شرط یہی بتلائی گئی ہے کہ وہ اپنی معرفت میں اضافہ کرے اور بامعرفت بن کر امام حسین(ع) کے حضور پہونچے تاکہ اسے اجر عظیم سے نوازا جاسکے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم لوگ آہستہ آہستہ حضرت امام حسین(ع) کے چہلم سے قریب ہورہے ہیں اور آج کل پوری دنیا سے کروڑوں زائرین امام علیہ السلام کے عشق کی حرارت لئے ہوئے قدم بہ قدم کربلا کی جانب رواں دواں ہیں۔اور چہلم کے دن انشاء اللہ یہ کروڑوں زائرین اپنے مولا کی زیارت کا شرف حاصل کریں گے اور اس قافلہ عشق کا حصہ بننے کی سعادت انہیں نصیب ہوگی جو عنقریب حضرت حجت(عج) کے لشکر کا ہراول دستہ ہوگا۔ظاہر ہے دنیا کے سارے شیعہ اور مولا کے چاہنے والے تو ایک ساتھ اور ایک کربلا نہیں پہونچ سکتے لہذا پوری دنیا میں امام مظلوم علیہ السلام کا چہلم بڑے خلوص و عقیدت سے منایا جاتا ہے اور لوگ اس امر میں جان مال تک کو قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں لہذا اسی مناسبت کے پیش نظر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو زائر امام عالی مقام(ع) کی زیارت کا شوق دل میں لئے رخت سفر باندھتا ہے اور ہزاروں روپیئے خرچ کرتا ہے ان کے لئے معصومین(ع) کی احادیث میں کیا شرف اور فضیلت ملتی ہے:
1۔عبد اللہ بن سنان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: فرزند رسول! آپ کے بابا حضرت باقر علیہ السلام فرماتے تھے:’’ حج پر جانے والے کا خرچ ہونے والا ہر درہم، اللہ کے یہاں ہزار درہم کے برابر حساب ہوتا ہے ! اب یہ بتائیے کہ وہ شخص  جو آپ کے جد امام حسین(ع) کی زیارت پر جانے کے لئے خرچ کرے اسے اللہ کی طرف سے کتنا ملے گا؟تو حضرت امام صادق علیہ السلام  نے فرمایا: میرے جد امام حسین(ع) کی  زیارت پر خرچ کیا جانے والے ہر درہم ہزار، ہزار درہم(اس طرح آپ نے 10 مرتبہ تکرار فرمایا) کا انفاق لکھ دیا جائے گا،اور اسی طرح اس کے مراتب بڑھتے جائیں گے لیکن اس کے حصہ میں آنے والی اللہ رسول(ص) علی و فاطمہ(س) کی خوشنودی و رضا ان سب سے بہتر ہے‘‘۔(کامل الزیارات:128)
2۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’امام حسین علیہ السلام کی زیارت زائر کے رزق میں برکت کا سبب ہوتی ہے اور جو کچھ اس نے اس راہ میں خرچ کیا ہے وہ باقی رہتا ہے اور ہر درہم کے مقابل اسے 10 ہزار درہم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کی طرح اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی نظر رحمت سے دیکھے گا‘‘۔(کامل الزیارات:128)
3۔ایک شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوا اور حضرت کی بارگاہ میں عرض کیا:’’اے رسول اللہ(ص) کے بیٹے! جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت پر جانے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور آپ(ع) کے قبر کے نزدیک انفاق کرتا ہے اس کا اجر و ثواب کتنا ہوگا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا:’’ہر درہم کے مقابل جو اس راہ میں خرچ کیا ہے 1000 درہم لکھ دیئے جائیں گے’’۔(کامل الزیارات:128)
4۔حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو بھی امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے جائے جو اس نے درہم خرچ کیا ہے اللہ تعالیٰ بہشت میں 10 ہزار شہر اس کو اجر کے طور پر عطا کئے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی حوائج اور ضرورتیں پورا فرمائے گا۔(کامل الزیارات:ص127)
5۔حضرت امام باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جو کوئی اپنے وطن سے کسی ایسے امام کی زیارت کا قصد کرکے نکلے جس کی اطاعت اللہ کی طرف سے واجب و لازم ہے اور اس راستے میں صرف ایک درہم خرچ کرتا ہے تو  اللہ تعالیٰ اس کے لئے 70 ہزار نیکیا درج کرتا ہے اور اس کے نامہ اعمال سے 70 ہزار برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے نام کو صدیقین و شہداء کے دیوان میں لکھ دیتا ہے اب یہ فرق نہیں کرتا کہ اس نے اس راہ میں اسراف سے کام لیا ہے یا نہیں‘‘۔(بحار الانوار،ج100، ص 124)
قارئین کرام! اگر کتب احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں امام حسین(ع) کی زیارت کرنے والوں کے ثواب کے متعلق متعدد و مختلف بیانات کا تذکرہ ملتا ہے اور اسی طرح زیارت امام عالی مقام(ع) میں خرچ ہونے والے کے سلسلہ سے متعدد اجر و ثواب کا تذکرہ ملتا ہے۔ لیکن کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ معاذ اللہ ان تمام احادیث کے درمیان تضاد یا کسی قسم کا ٹکراؤ پایا جاتا ہے؟ نہیں ! بلکہ ثواب کا الگ الگ ہونا درحقیقت زائر کی معرفت کے درجات پر موقوف ہے جتنی جس کی معرفت اتنا ہی اسے اجر ملے گا اسی لئے آئمہ علیہم السلام کی احادیث میں زائر کے لئے سب سے اہم عنصر اور شرط یہی بتلائی گئی ہے کہ وہ اپنی معرفت میں اضافہ کرے اور بامعرفت بن کر امام حسین(ع) کے حضور پہونچے تاکہ اسے اجر عظیم سے نوازا جاسکے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम