Code : 4153 27 Hit

سورہ دہر کا نزول

علامہ طباطبائی (رح) اس سورہ کی تفسیر کے ذیل میں رقمطراز ہیں:’’ یہ سورہ مدنی ہے اس کا مطلب یہ کہ یا یہ پورا سورہ مدینہ میں نازل ہوا یا اس کا پہلا حصہ جو ۲۲ آیات پر مشتمل ہے مدینہ میں نازل ہوا ۔ نیز اہل بیت(ع) سے منقول روایات بھی اس امر پر شاہد ہیں کہ یہ سورہ مدنی ہے نیز اس سورہ میں اسیر کا لفظ بھی اس امر پر دلیل ہے کہ یہ سورہ مدینہ میں ہی نازل ہوا چونکہ مسلمانوں کے یہاں مکہ میں تو کوئی اسیر نہیں تھا جس کو اہل بیت(ع) اطعام کرتے ۔

ولایت پورٹل: ذی الحجہ کے مہینہ میں جہاں بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں وہیں اس مبارک و حرمت والے مہینہ میں سورہ دہر کا نزول بھی ہوا ہے ۔ اس سورہ کو دہر کے علاوہ، سورہ انسان، ھل اتی اور ابرار کے نام سے  بھی یاد کیا جاتا ہے اور یہ اہل بیت رسالت(ص) کی شأن و منزلت پر قرآن مجید کی ایک محکم دلیل ہے ۔اگرچہ ہمارا مقصد سورہ دہر کی تفسیر بیان کرنا نہیں ہے بس  ہم یہاں اس عظیم سورہ کا مختصر تعارف پیش کرنے پر اکتفاء کریں گے۔
اس سورہ کی فضیلت
اس سورہ کی فضیلت تلاوت میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں چنانچہ ایک حدیث میں رسول اللہ(ص) سے نقل ہوا ہے :’’منْ قَرَأَ سُورَةَ هَلْ أَتَی کَانَ جَزَاؤُهُ عَلَی اللَّهِ جَنَّةً وَ حَرِیراً وَ مَنْ اَدْمَنَ قِرَاءَتَهَا قَوِیَتْ نَفْسَهُ الضَّعِیْفَةُ وَ...؛۔ (۱) جو شخص سورہ ھل اتی کی تلاوت کرے اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر جنت اور بہشتی لباس ہیں اور جو کوئی اس سورہ کو پابندی سے تلاوت کرے گا اس کا ضعیف نفس قوی ہوجائے گا ۔
امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو سورہ ھل اتی کو ہر جمعرات کی صبح کو تلاوت کرے گا خداوند عالم کئی حوروں سے اس کا عقد کرے گا نیز وہ قیامت میں پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ ہوگا ۔(۲)
سورہ دہر کا شأن نزول
شیخ طوسی (رح) نے ’’ ابرار‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے اس سورہ کے آغاز میں بیان کیا ہے کہ شیعہ اور اہل سنت دونوں کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیات حضرت علی، فاطمہ، حسن و حسین(ع) کے لئے نازل ہوئیں کہ جب ان حضرات نے تین دن تک اپنی افطار کو ضرورتمندوں کو عنایت کردیا تھا ۔(۳)
نیز اسی طرح کا مضمون شیخ طبرسی نے بھی نقل کیا ہے ۔(۴) ظاہر سی بات ہے کہ شیعہ اور سنی علماء کا یہ اعتراف کہ ’’ آیات ابرار‘‘ کا نزول پنجتن پاک کے لئے ہوا ، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سورہ اور خاص طور پر اس کی یہ آیات مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں ۔(۵)
علامہ طباطبائی (رح) اس سورہ کی تفسیر کے ذیل میں رقمطراز ہیں:’’ یہ سورہ مدنی ہے اس کا مطلب یہ کہ یا یہ پورا سورہ مدینہ میں نازل ہوا یا اس کا پہلا حصہ جو ۲۲ آیات پر مشتمل ہے مدینہ میں نازل ہوا ۔ نیز اہل بیت(ع) سے منقول روایات بھی اس امر پر شاہد ہیں کہ یہ سورہ مدنی ہے نیز اس سورہ میں اسیر کا لفظ بھی اس امر پر دلیل ہے کہ یہ سورہ مدینہ میں ہی نازل ہوا چونکہ مسلمانوں کے یہاں مکہ میں تو کوئی اسیر نہیں تھا جس کو اہل بیت(ع) اطعام کرتے ۔(۶)
اس سورہ کے شأن نزول کے متعلق شیعہ و سنی مفسرین نے بہت سے واقعات نقل کئے ہیں جن میں سے ایک اہم واقعہ اس طرح نقل ہوا ہے کہ ابن عباس بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حسن و حسین(ع) بیمار ہوئے پیغمبر اکرم(ص) اپنے کچھ اصحاب کے ہمراہ ان دونوں بچوں کی عیادت کو تشریف لائے ۔ آپ نے علی(ع) سے فرمایا : یا ابو الحسن(ع) کتنا اچھا ہوتا جو تم اپنے بچوں کی صحت اور شفا کے لئے نذر کر لیتے ۔چنانچہ سرکار رسالت(ص) کی تلقین کے بموجب علی(ع) فاطمہ (س) اور گھر کی کنیز فضہ نے نذر کر لی کہ اگر دونوں بچے صحت مند ہوگئے تو وہ تین دن روزہ رکھیں گے ۔ جبکہ کچھ روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ بچوں نے بھی اپنے والدین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے کی نذر کر لی ۔
ابھی کچھ دن بھی نہ گذرے تھے کہ دونوں بچے صحت مند ہوگئے اگرچہ ان کے پاس گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا ۔ امام علی(ع) نے ۳ من جو قرض لیا حضرت فاطمہ(س) نے اس میں سے ایک تہائی کا آٹا پیس کر روٹیاں تیار کیں ۔ اب جیسے ہی افطار کے لئے بیٹھے ایک سائل دروازے پر آیا اور کہا :’’السَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَهْلَ بَیْتِ مُحَمَّدٍ»؛ اے محمد(ص) کے اہل بیت ! آپ پر سلام ہو میں ایک لاچار و ضرورتمند مسلمان ہوں مجھے کھانے کے لئے کچھ دیدو ۔ اللہ آپ کو بہشتی غذا سے سیر کرے گا ان سب نے وہ کھانا مسکین کو دیدیا اور اس رات صرف پانی پی کر سو گئے ۔
اگلے دن پھر اپنی مانی ہوئی نذر کے باعث روزہ رکھا ، افطار کے وقت جیسے ہی کھانا تیار ہوا دروازے پر ایک یتیم نے آکر دستک دی اور سوال کیا سبھی نے پھر اپنی اپنی روٹیاں اٹھا کر یتیم کو دیدیں ۔اور پانی سے افطار کر کے سو گئے ۔
تیسرے دن جب پھر افطار کا وقت آیا کسی نے دق الباب کیا اور کہا میں اسیر ہوں اور بھوکا ہوں سب نے پھر اپنا اپنا حصہ اٹھا کر اس کے حوالہ کردیا  اور پھر پانی کے پی لینے پر اکتفاء کیا ۔ جب اگلی صبح نمودار ہوئی علی(ع) نے اس حال میں کہ حسن و حسین(ع) کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، خدمت پیغمبر(ص) میں حاضر ہوئے ۔ جیسے ہی سرکار نے ان کو دیکھا کہ بچے بھوک کی شدت سے لرز رہے ہیں ۔ فرمایا : میں تمہیں کس حالت میں دیکھ رہا ہوں  مجھ سے تمہارا یہ حال دیکھا نہیں جارہا ہے آپ اپنی جگہ سے اٹھے فاطمہ(س) کے بیت الشرف میں تشریف لائے دیکھا بی بی محراب عبادت میں مشغول عبادت ہیں اور آپ کا شکم مبارک کمر سے چسپاں ہے اور آنکھوں میں گڑھے پڑ چکے ہیں حضرت بڑے رنجیدہ ہوئے اسی وقت جبرئیل امین نازل ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ(ص)  خداوند عالم آپ کے اس خاندان کے باعث ملائکہ پر افتخار کررہا ہے اور اس کی جزا کے طور پر سورہ دہر کی تلاوت کرنا شروع کردی ۔۔ جبکہ کچھ مفسرین کا ماننا ہے کہ اس سورہ مبارکہ کی ۱۸ ابتدائی آیات کی تلاوت کی ۔(۷)
مذکورہ شأن نزول کو شیعہ علماء کے علاوہ سنی علماء نے بھی نقل کیا ہے بلکہ پنجتن پاک کے لئے اس سورہ کا نزول تواتر کی حد تک ثابت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات :
۱۔البرهان‌، سید‌ هاشم بحرانی، بیناد بـعثت، تـهران، چـاپ‌ اول، 1416‌ق،‌ ج‌‌‌5، ص‌‌543، ح 2؛ نور الثقلین، عروسی حویزی‌، ج‌‌‌5، ص‌467، ح 3؛ مجمع البیان، طبرسی، ج‌‌10، ص ‌608۔
۲۔البرهان، سید هاشم بحرانی‌، ج‌‌‌5، ص‌543، ح 1؛ نور الثقلین، عروسی‌ حویزی‌، ج‌‌‌5، ص‌467، ح 1 و 2؛ مجمع‌ البیان‌، طبرسی، ج‌‌10، ص‌‌608‌۔
۳۔نور الثقلین، عروسی حویزی، ج‌‌5، ص‌467، ح 4، و ص‌480، ح 42۔
۴۔مجمع البیان، طبرسی، ج‌‌10، ص‌608۔
۵۔مجمع البیان، مرحوم طبرسی، ج‌‌10، ص‌‌‌‌613‌۔
۶۔التـبیان، شـیخ طوسی، ج‌‌10، ص‌211۔
۷۔الغدیر، علامه‌ امینی، مکتبة امیر المؤمنین العـامه، (فـرع تـهران)، چاپ چهارم، 1396‌ق،‌ ج‌‌3، ص‌111؛ تفسیر نمونه، ناصر مکارم و جمعی از نویسندگان، ج‌‌25، ص‌344 و 345۔

 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین