Code : 4056 4 Hit

یمن کو تقسیم کرنے پر مبنی آل سعود کی حکمت عملی کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر

منظر عام پر آنے والی خفیہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب یمن کی علاقائی سالمیت کی حمایت کے اپنے دعوؤں کے باوجود اس ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور 2011 سے یمن کو موجودہ حالت تک پہنچانےلئے کوشاں ہے۔

ولایت پورٹل:قطری چینل الجزیرہ نے ایک 162 صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویز شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کی حکمت عملی ہمیشہ مخصوص پارٹیوں کی حمایت کے ذریعہ ملک کی تقسیم پر مبنی رہی ہے  نہ کہ یمنی حکومت کی حمایت پر ،تاکہ ان پارٹیوں کو دباؤ میں لا کر یمن میں اپنا اثر ورسوخ بڑھایا جا سکے، ان دستاویزات میں سے کچھ میں جنوبی یمن میں علیحدگی پسند شخصیات اور جماعتوں کے لئے ریاض کی حمایت ظاہر کی گئی ہے اور انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب سن 2011 سے یمن کو اس وقت کی حالت کی طرف دھکیل رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے جنوبی یمن کی علیحدگی کو 'جنوبی مسئلے' کی حیثیت سے حل کرنے کے لئے ایک کلیدی آپشن سمجھا ہے اور اس نے جنوبی یمن کی صورتحال کو اپنے مفادات کے مطابق  حل کرنے کی کوشش کی ہے،الجزیرہ نے دعوی کیا ہے کہ ریاض 2014 میں انصار اللہ کے صنعا پر کنڑول حاصل کرنے سے دو سال پہلے سے اس تنظیم کی نقل وحرکت سے آگاہ تھا لیکن اس نے کوئی کاروائی نہیں کی تاکہ یمن پر حملہ اور وہاں کی حکومت کو ختم کرنے کا بہانہ ہاتھ سے نہ چلا جائے ۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے جنوبی یمن میں بین الاقوامی کمیٹی کی زیر نگرانی ہونے والی کچھ میٹنگوں کی جاسوسی کا بھی حکم دیا تھا اور اس کے لیے رپورٹنگ کے لئے موجود کچھ افراد کی خدمات حاصل کی تھیں،  رپورٹ کے مطابق  ریاض نے عبد ربہ منصور ہادی کی سربراہی میں یمن کی اس وقت کی حکومت کی طرف سے مدد کی درخواست کو نظرانداز کیالیکن  اپنےکچھ منصوبوں کو انجام دینے کے لئے کچھ قبائلی شیخوں کو بھاری رقم ادا کی۔
 



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین