Code : 1417 99 Hit

صلح امام حسن(ع) سے حاصل شدہ نتائج

امیرالمؤمنین(ع) کی شہادت کے بعد اچانک حالات اتنے بگڑے کہ اسلام پر ایک طرف تو خارجی دشمن حملہ کردینا چاہتا تھا تو دوسری طرف خود مسلمانوں کی صفوں میں موجود منافقین کا ایک بڑا اور قوی ٹولہ تھا اور چونکہ امام معصوم کا سب سے بنیادی فریضہ اسلام کی حفاظت اور شریعیت کی پاسداری ہوتا ہے لہذا امام حسن(ع) نے پسر ہندہ سے صلح کرکے اسلام کے سر سے تمام خطرات ٹال دئیے اور اسلام کی بقا اور اس کی تحفظ کی تقدیر کو بصورت دستاویز صلح تحریر کردیا۔

ولایت پورٹل: امام حسن مجتبٰی(ع) کی زندگی بابرکت کے واقعات میں سے ایک اہم اور تاریخی واقعہ  آپ کا معاویہ بن ابوسفیان کے ساتھ صلح کرنا ہے۔ایسی صلح کہ جسے تاریخ میں امام حسن(ع) کے سبز انقلاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور دشمن کے مقابل اقدار ، اخلاق و دین کے تحفظ کے لئے امامت کی جنگ بندی کا نام دیا جاسکتا ہے ۔اگرچہ امام مجتبٰی علیہ السلام کی صلح سخت حالات میں حقیقی مسلمانوں کے لئے بڑی صبر آزما اور تلخ تھی لیکن اس صلح کے اپنے بہت سے فوائد اور برکات بھی عالم اسلام کو نصیب ہوئے جنہیں ہم اختصار کے ساتھ ذیل میں بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں:
1۔ اسلام کی حفاظت: امیرالمؤمنین(ع) کی شہادت کے بعد اچانک حالات اتنے بگڑے کہ اسلام پر ایک طرف تو خارجی دشمن حملہ کردینا چاہتا تھا تو دوسری طرف خود مسلمانوں کی صفوں میں موجود منافقین کا ایک بڑا اور قوی ٹولہ تھا اور چونکہ امام معصوم کا سب سے بنیادی فریضہ اسلام کی حفاظت اور شریعیت کی پاسداری ہوتا ہے لہذا امام حسن(ع) نے پسر ہندہ سے صلح کرکے اسلام کے سر سے تمام خطرات ٹال دئیے اور اسلام کی بقا اور اس کی تحفظ کی تقدیر کو بصورت دستاویز صلح تحریر کردیا۔
اسی بنا پر خود امام حسن علیہ السلام نے صلح کرنے کے دلائل میں سے ایک اسلام کی بقا کو قرار دیا ہے: مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں روئے زمین سے سچے مسلمانوں کا خاتمہ نہ ہوجائے اور کوئی ان میں سے باقی نہ بچے ۔لہذا میں نے صلح کرکے دین خدا کو بچانے کی کوشش کی ہے۔(1)
2۔قتل و غارتگری سے  سے گریز:جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں جب کسی علاقہ میں جنگ ہوتی ہے تو وہاں کے باشندوں کو بہت سی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پس اگر جنگ ایک خاص مقصد کے حصول کے لئے ہو اور جنگ سے وہ مطلوبہ مقصد حاصل بھی ہورہا ہو تو ان تمام سختیوں اور مصائب کو برداشت کرنا اہمیت رکھتا ہے۔لیکن ایسی جنگ کہ جس سے مقصد حاصل نہ ہو اور صرف جس سے معاشرے میں مسائل و مشکلات میں اضافہ ہی ہو تو اس سے ہر سجھدار اور ہمدرد حکمراں کے لئے کنارہ کش ہونا ہی بہتر ہے اور اس زمانے میں معاویہ سے جنگ کی بھی یہی کیفیت تھی یعنی اگر معاویہ سے جنگ جاری رہتی تو اس سے مقصد کو کسی صورت حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ خود امام حسن علیہ السلام معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کی غرض کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’میں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ معاویہ کے ساتھ صلح کرلوں اور جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو ٹھنڈا کردوں اور اس کا مقصد تمہاری بھلائی اور خیر خواہی کے کچھ اور نہ تھا۔(2)
3۔سرکش معاویہ کو مہار کرنا: صلح کے تمام شرائط اس امر کے غماز تھے کہ معاویہ حکومت کرنے کے سلسلہ میں امام حسن علیہ السلام کی تأئید کا محتاج ہے اور یہ صلح معاویہ کو اس چیز کا پایبند بناتی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرے اور حدود الہی سے تجاوز نہ کرنے دے۔
اسی چیز کی جانب امام محمد باقر علیہ السلام اشارہ فرماتے ہیں جب آپ سے کسی صحابی نے سوال کیا: کہ کیسے امام حسن(ع) کے پاس مقام پیغمبر و علی(ع) ہے جبکہ انہوں نے خلافت کو معاویہ کے سپرد کردیا تھا؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:خاموش ہوجاؤ! چونکہ امام مجتبٰی علیہ السلام خود بہتر طور پر جانتے تھے کہ کیا کرنا ہے۔اگر امام حسن علیہ السلام صلح نہ کرتے تو اسلام میں بہت عظیم و خطرناک امر ظاہر ہوجاتا۔(3)
4۔لوگوں کے سامنے معاویہ کی حقیقت سے پردہ اٹھانا:معاویہ مکر و فریب اور لوگوں کو دھوکہ دینے میں بہت ماہر تھا اور وہ اپنے مقام و مرتبہ کو لوگوں کی نگاہوں میں بلند دکھانے کے لئے کبھی اپنے  کو رسول اللہ کا سالہ، کبھی شام کی حکومت کا ۲۰ برس کا تجربہ حاکم،کبھی امت کی بھلائی کا ڈھنڈورہ پیٹنے والا بنتا تھا اور ان سب چیزوں سے وہ لوگوں پر یہ عیاں کرنا چاہتا تھا کہ ہم تو پابند  عہد ہیں اور صلح چاہتے ہیں اور حسن صلح سے بھاگ رہے ہیں۔لیکن جیسے ہی صلح ہوئی اور معاویہ نے اپنی اصلیت دکھانا شروع کردی اور لوگوں پر اس کی حقیقت آشکار ہوگئی۔
5۔صلح قیام عاشورا کی تمہید:معاویہ نے اپنے علنی اعتراف اور کردار کے ذریعہ صلح کے بہت سی شرطوں کو پیروں تلے روند دیا تھاچنانچہ معاویہ کی یہ مخالفتیں،اور لوگوں پر ظلم و تعدی سبب بنیں جن کے سبب لوگوں میں ایک بیداری کی لہر دوڑی اور انقلاب کربلا وجود میں آگیا جس کے اثرات اور برکتیں آج بھی عالم اسلام میں مشاہدہ کی جاسکتی ہیں۔
6۔بنی امیہ کا تدریجی زوال:امام حسن علیہ السلام نے صلح کے لئے وہ شرائط رکھے جن کی پابندی کرنا نسل بنی امیہ کی وبال جان بن گیا آخر کار وہ اپنی اصلی چولے سے باہر آنے لگے جس کے سبب عوام بیدار ہونے لگی اور بنی امیہ کی مکاریوں کو سمجھنے لگیں جس کے بعد بنی امیہ کی بساط لپیٹ دی گئی۔
7۔اہل بیت(ع) کی محبوبیت میں اضافہ:امام حسن علیہ السلام نے معاویہ جسیے بد عہد کے ساتھ صلح کر کے اور اس کی پابندی کرکے اہل بیت(ع) کے درمیان مصلح اکبر اور لوگوں اور معاشرہ میں ایک خیرخواہ رہبر اور ہمدرد امام کے طور پر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لی یہی وجہ ہے کہ آج بھی اہل بیت (ع) کے مکتب کو دنیا میں ہدایت و سعادت کا مکتب تصور کیا جاتا ہے جس سے دل آپ حضرات کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔چنانچہ عباسیوں نے لوگوں کے دلوں میں موجود اہل بیت عصمت و طہارت(ع) کی اسی محبت اور اہل بیت کے حق ان تک پہونچانے کا نعرہ لگاکر اپنے قیام کا آغاز کیا اور خاندان رسول اللہ(ص) کی محبوبیت کے سبب کامیاب ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔شریف قرشی، حیاة الحسن، ص۳۵۔
2۔اربلی، کشف الغمه، ج‌۱، ص۵۷۱۔
3۔علل الشرايع/شيخ صدوق/ج1/ص210 ۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम