Code : 2268 129 Hit

عبری عربی ارمانوں پر پھیرا پانی ،عراق میں دھرنے ختم اور امن بحال

موصولہ رپورٹس کے مطابق عراقی حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کو قبول کرتے ہوئے جہاں ایک طرف سامراجی طاقتوں کے ارادوں پر پانی پھیر دیا ہے وہی ملک کے عوام نے بھی استعماری سازشوں کی نقاب ہٹنے کے بعد حکومت اور مرجعیت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دھرنوں کو ختم کردیا ہے۔

ولایت پورٹل: موصولہ رپورٹس کے مطابق عراقی حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کو قبول کرتے ہوئے جہاں ایک طرف سامراجی طاقتوں کے ارادوں پر پانی پھیر دیا ہے وہی ملک کے عوام نے بھی استعماری سازشوں کی نقاب ہٹنے کے بعد حکومت اور مرجعیت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دھرنوں کو ختم کردیا ہے۔
عراق کے وزیر اعظم نے ملک کے عوام کو خطاب کرتے ہوئے ان سازشی دھرنوں میں شریک نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت عوام کے جائز مطالبات کا جواب دینے کی ذمہ دار ہے لیکن احتجاج کے نام پر بد امنی پھیلانے والے عناصر کو چھوڑا نہیں جائے گا۔
دوسری اور کربلا میں آیت اللہ سیستانی(دام ظلہ) کے وکیل نے جمعہ کے خطبے سے احتجاج کرنے والوں کی آڑ میں سرکاری اور عام لوگوں کے اموال کو تاراج کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ان پر سختی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ عراق میں ہوئے دھرنوں کو سعودی عرب اور اسرائیل نیز سامراجی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی طرف سے ہوا دی جارہی تھی اور انہیں ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا تھا۔ عراقی حکومت کے ساتھ ساتھ ان دھرنوں میں مرجعیت اور اربعین کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اس کام کے لئے سعودی عرب اور اسرائیل سے ٹیوٹر کا جم کا استعمال ہوا جس میں 79% ٹویٹ سعودی عرب اور اس کے بعد اسرائیل سے ہوئے۔
ان دھرنوں کی حمایت میں عراق میں صرف 3% ٹیوٹر یوزرس نے ٹویٹ کئے۔
مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے العربیہ چینل نے مرجعیت اور اربعین پیدل مارچ کو متأثر کرنے اور دنیا کے اذہان کو اربعین پیدل مارچ کے بارے میں غلط پروپگنڈے کا شکار بنانے کے لئے بڑے اعلیٰ پیمانے پر شور و غل مچایا تھا جسے وقت پر ہی تدبیر کے ذریعہ خاموش کردیا گیا۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम