بیس سال تک افغان شہریوں کے قتل عام کا جواب دو؛ امریکی پارلیمنٹ ممبرکا مطالبہ

امریکی فوج کی جانب سے اگست میں کابل میں مہلک ڈرون حملے اور 10 افغان شہریوں کی ہلاکت کے اعتراف اور اس  کے لیےمعافی مانگنے کے بعد امریکی کانگریس کی مسلمان رکن ایلہان عمر نے کہاکہ ہمیں معاوضہ دینا چاہیے اور بین الاقوامی تحقیقات کرنی چاہیے۔

ولایت پورٹل:نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست مینیسوٹا کی امریکی کانگریس کی مسلمان رکن ایلہان عمر مزید کہاکہ  گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکی ڈرونز کے خفیہ اور غیر ذمہ دارانہ آپریشن کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں ان حملوں کے ذمہ دارہر کسی کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے اور اس حملے اور ڈرون پروگرام کی مکمل تحقیقات کی درخواست کرنی چاہیے ،صرف معافی کافی نہیں ہے۔
ایلہان نے کہا کہ  ہم متاثرین کے اہل خانہ کے مقروض ہیں  اور ہمیں ان جرائم کو تسلیم کرنا چاہیے نیز متأثرین خاندانوں کو معاوضہ دینا چاہیے اور اس کے لیے بین الاقوامی مجرمانہ تحقیقات کی اجازت دینی چاہیے۔
 ٹیکساس کے ریپبلکن سینٹر ٹیڈ کروز نے بھی کہا کہ افغانستان میں بائیڈن کے ہاتھوں  شروع ہونے والی تباہی بدتر ہو رہی ہےجس سے دو واضح سوالات اٹھتے ہیںکہ  کیا طالبان نے بائیڈن حکومت کو غلط معلومات فراہم کیں جس کے نتیجے میں سات معصوم بچوں سمیت 10 معصوم شہری ہلاک ہوئے؟ اگر ایسا ہے تو بائیڈن کو طالبان پر اعتماد کیوں کرنا چاہیے؟
درایں اثنا ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ میں وائٹ ہاؤس کے سابق ترجمان میک اینانی نےبھی کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کابل میں امریکی ڈرون حملے نے کسی بھی داعشی دہشتگرد کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ 10 معصوم شہریوں کو ہلاک کیا جن میں سات بچے بھی شامل ہیں جو نا قابل یقین ہےنیز اس سے معلوم ہوتا ہے جو بائیڈن کی حکومت عالمی سطح پر ایک افسوسناک ، افراتفری اور بدنام حکومت ہے۔
واضح رہے کہ  امریکی فوج کے کمانڈر جنرل فرینک میک کینزی نے جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق اعتراف کیا کہ گزشتہ ماہ کابل میں 10 شہری اس وقت ہلاک ہوئے جب امریکی افواج نے افغانستان سے فوجیوں کو نکالتے ہوئے ایک ڈرون حملہ کیا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین