مزاحمت ہمارا فطری اور قانونی حق ہے: جہاد اسلامی فلسطین

جہاد اسلامی فلسطین موومنٹ کے سکریٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ تل ابیب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں عرب حکومتوں کی حمایت کرتا ہے۔

ولایت پورٹل:فلسطین ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق  جہاد اسلامی فلسطین تحریک کے سکریٹری جنرل  زیاد النخالہ نے کہا ہے کہ امریکہ صہیونی حکومت کا ایک بہت بڑا حامی ہے اور وہ اب بھی صیہونیوں کو گلے لگانے کے لیے عرب حکومتوں کی حمایت کرتا ہے اور انھیں ترغیب بھی دلاتا ہے،النخالہ نے مزید کہا کہ فلسطینی گروپوں کے درمیان ہونے والے قاہرہ اجلاس کے بارے میں میں یہ کہنا ضرور سمجھتا ہوں  کہ نئی امریکی انتظامیہ پر غور کرتے ہوئے فلسطینیوں کے پاس اتحاد اور متفقہ فیصلے کے ساتھ کسی جگہ تک پہنچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
 انہوں نے مزید کہاکہ صیہونی جانتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی تل ابیب کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر غور کیے بغیر فیصلہ نہیں کر سکے گی، النخالہ نے زور دے کر کہاکہ جب تک فلسطینی اتھارٹی اوسلو معاہدوں سے دستبردار نہیں ہوجاتی ، ہم اس کے کسی حصے میں موجود نہیں ہوں گے ، کیونکہ یہ تنظیم فلسطینی عوام کی امنگوں سے پیدا نہیں ہوئی ہے۔
 انہوں نے یہ بھی کہا کہ مزاحمت کو روکنا فلسطینی عوام کے قانونی اور فطری حقوق کی خلاف ورزی ہے، ہم مزاحمت ترک نہیں کریں گے، اگر ہم ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو ہمیں بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی،یادرہے کہ صیہونیوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ فلسطینی تنظیموں کو آپس میں لڑا کرمزاحمتی تحریک کو کمزور کر دیا جائے ،تاہم فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے پورے خطہ میں مزاحمتی تحریک کو کافی مضبوط کیا ہے لیکن فلسطین میں انھوں نے اس درخت کی سینچائی کی ہے  او ر ہمیں پتھروں سے اٹھا کر راکٹوں تک لے آئے ہیں کبھی ہم پتھر مارتے تھے لیکن اب ہم راکٹ برساتے ہیں جس سے صیہونیوں کے دلوں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین