Code : 4363 11 Hit

مطالبات کربلا

اگر عزاداران کربلا پیغامات کربلا پر توجہ کرہں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرکے ایک سچے حسینی کی مثال پیش کریں تو زمانے کی دوریاں کربلا اور عاشقان کربلا کے درمیان فاصلہ نہ پیدا کر سکیں گی اور آج سیکڑوں سال بعد ہمارا کردار اس لائق ہوسکے گا کہ ہم بھی شہداء کربلا کے غلاموں میں شامل ہو سکیں۔

ولایت پورٹل: محرم سن ۱۴۴۱ ہجری کے آغاز سے واقعہ کربلا کو گذرے ہوئے تیرہ سواکیاسی سال ہو گئے گویا اب تک تیرہ سو اکیاسی مرتبہ محرم آیا اور اتنی ہی مرتبہ اس واقعہ کی یاد منائی گئی۔
آئمہ معصومین(ع)کے دورحضور سے لے کر آج تک ہر سال واقعہ کربلاکی یاد ایک نئے جو ش اور ولولہ کے ساتھ منائی جاتی ہے اور اس عظیم حوصلہ آفریں واقعہ کے تئیں ایک طرح سے تجدید عہد کیا جاتا ہے۔
واضح ہے کہ کربلا کے مصائب و آلام پر آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ کربلا کے پیغامات اور اس کے تقاضوں پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے جو کربلا کی یا د منانے کا اصل مقصد ہے جس طرح واقعہ کربلا نے اسلام اور اس کے پیغام کو ایک نئی حیات بخشی ہے اسی طرح کربلا کے ذکر اور اس کی یاد کو بھی اس اہم فریضہ کی ادائیگی میں اہم کردار اداکرنا چاہئے ۔یعنی ذکر کربلا کے ساتھ اسلامی احکام و قوانین اور انسانی اقدار کو عملی طور پر نئی زندگی ملنا چاہئے جس طرح کربلا والوں کی زندگی اور ان کے جملہ اعمال و کردار اسلامی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر تھے اسی طرح کربلا کی یاد منانے والوں کی بھی کوشش ہونی چاہئے کہ یاد مناتے وقت کربلا کے کرداروں کی طرح اسلامی زندگی کا نمونہ پیش کریں سن ١۶ھ میں کربلا کے میدان پر فرزند رسول(ص)نے صدائے استغاثہ بلند کر کے نصرت اسلام کے لئے ہر باشعور دیندار انسان کو دعوت عمل دی تھی آج تقریباً چودہ صدیوں سے ساری دنیا کے عاشقان حسین(ع) اس صدائے استغاثہ پر لبیک کہنے کے لئے بے تاب ہیں یہی وجہ ہے کہ یوں توسال بھر، لیکن خاص طور پر محرم کے ایام میں امام حسین(ع) اور ان کے ساتھیوں کی قربانی اور مظلومیت پر آنسو بہائے جاتے ہیں عاشقان حسینی کے یہ آنسو جہاں کربلا والوں کی مظلومیت پر بہتے ہیں وہیں اس مصیبت کی گھڑی میں آپ کی نصرت نہ کر پانے کی حسرت میں بھی ۔اکثر اوقات ان کی یہ حسرت ان کی زبان پر بھی آجاتی ہے ۔’’یالیتنی کنت معکم فافوزاً فوزا عظیماً‘‘ ’’کاش! آپ کے ساتھ ہوتے تو ہم بھی عظیم کامیابی حاصل کرتے یہ حسرت بھرے الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے دل میں کربلا کے اس عظیم کردار سے ہماہنگی پائی جاتی ہے جس نے اسلامی تعلیمات کو زندگی عطا کرنے کے لئے ہر بڑی سے بڑی مصیبت اٹھائی ہمارے یہ الفاظ انشاء اللہ بارگاہ الٰہی میں شرف قبولیت حاصل کر لیں گے اور ہمارا حشر کربلا والوں کے ساتھ ہوگا لیکن یہ الفاظ ہمیں اس بات کی دعوت بھی دیتے ہیں کہ ہم سوچیں کہ کربلا میں امام حسین(ع) اور ان کے ساتھیوں کا کردار کیا تھا اور الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کردار کو اپنانے کی عملی کوشش بھی کریں۔
کربلا ظلم کے خلاف جہاد ،بے دینی کے خلاف جنگ ،خدا سے غفلت کے خلاف لڑائی ،غرض کہ ہربرائی کے خلاف ایک پیکار مسلسل ہے اور یہ تسلسل آج تیرہ سواکیاسی سال سے اسی ذکر کربلا کے ذریعہ قائم ہے ۔
کربلا جس طرح برائیوں کے خلاف ایک مسلسل جہاد ہے اسی طرح نیکیوں کے انتخاب کے لئے بھی ایک مسلسل مہم ،یزید اور یزیدی برائیوں کے خلاف امام حسین(ع) اور ان کے ساتھیوں کی جنگ جہان یزیدیت سے نفرت اور بیزاری کامطالبہ کرتی ہے وہیں حسینی کردار کو اپنانے کا درس عمل بھی دیتی ہے امام حسین(ع) امام معصوم اور جملہ فضائل و کمالات انسانی کا مجموعہ تھے توآپ کے گرد اکٹھا ہونے والے آپ کے منتخب اصحاب و انصار بھی اس آفتاب فضائل و کمالات سے روشنی حاصل کرتے ہوئے چاند اور ستارے تھے ۔جنہوں نے نور امامت سے اس طرح کسب فیض کیا تھا کہ ہر اایک اپنے وجود مبارک میں امام حسین(ع)کی تصویر نظر آرہا تھا ان پاکیزہ افراد نے صرف زبانی دعوائے نصرت نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات میں سرکار سیدالشہداء(ع)کا بھر پور ساتھ دیا۔ اور اس کے لئے کردار حسینی میں ڈھل جانا ضروری سمجھا۔ یہ حسینی کردار میں ڈھلنا ہی تھا کہ برستے ہوئے تیروں میں اس نماز کو یاد کیا جن کے بارے میں امام حسین(ع)کا ارشاد ہے ’’انی احب الصلاۃ‘‘ میں نماز سے محبت کرتا ہوں حسینی کردار سے ہماہنگی کی نہ جانے ایسی کتنی مثالیں  ہیں جنہیں مختلف واقعات کے ضمن میں تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ظلم سے نفرت ،گناہوں سے بیزاری اپنے مالک کے تئیں عجز و انکساری اپنے آقا کی اطاعت اور اس کی رضا کا مکمل پاس و لحاظ ،جرأت و شجاعت ہمت وجواں مردی ،حمایت مذہب پاسبانی ٔ شریعت ،عزت نفس کا خیال ،ذلت سے دوری جیسے کربلا کے نہ جانے کتنے مطالبات ہیں  جنہیں پورا کرنا کربلا سے وابستہ ہر حسینی کی ذمہ داری ہے  ۔
کربلا کے ان مطالبات کو امام حسین(ع)کے اصحاب وانصار کے اقوال و ارشادات ان کی سیرت و کردار اور کربلا سے متعلق معتبر منابع میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔
امام حسین(ع)نے شب عاشورارشاد فرمایاتھا!’’ آگاہ رہو کہ دنیا کی شیرینی اور تلخی دونوں ایک خواب غفلت ہیں حقیقت و بیداری صرف آخرت میں ہے ۔اصلی کامیاب وہ ہے جو آخرت میں کامیاب رہا اور اصلی بدبخت وہ ہے جو آخرت میں بدبخت رہا‘‘۔
امام حسین(ع)نے کوفہ کی راہ میں حر کے لشکر کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا :’’ اے لوگو! تقویٰ اختیار کرو اور حق والوں کے حق کو پہچانو تو خدا تم سے راضی ہوگا ہم اہل بیت پیغمبر(ص) تم لوگوں پر حکومت اور ولایت کے ان لوگوں سے زیادہ حقدار ہیں جو(ناحق )مدعی حکومت ہیں اور زور و زیادتی کے ساتھ حکومت کرتے ہیں۔
امام(ع)نے اپنے ان دونوں پیغامات میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو اصلی قرار د تقویٰ اختیار کرتے رہو آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرنے والے اصلی ذرائع (ائمہ طاہرین (ع))سے وابستہ رہو ۔
اس کے علاوہ ایک اور مقام پر آپ(ع)ارشاد فرماتے ہیں کہ’’ تمہیں کتاب خدا اور سنت نبی (ص) کی طرف دعوت دیتا ہوں اس لئے کہ سنتیں مردہ ہو رہیں ہیں اور بدعتوں کو زندہ کیا  جا رہا ہے ۔‘‘ گویا آخرت میں کامیابی کا اصلی ذریعہ کتاب خدا اور سنت نبوت ہے جو اس کے واقعی وارثوں (اہلبیت (ع)نبوت)سے ہی مل سکتی ہے ۔
اپنے ساتھ آنے والوں سے مخاطب ہو کر ایک اور منزل پر آپ نے ارشاد فرمایا ’’جو تلوار کی دھار اور نیزے کی انی کی تکلیف برداشت کر سکتا ہو وہ میرے ساتھ قیام کرے اور جو ایسا نہ کر سکتا ہو وہ مجھے چھوڑ کر چلا جائے ۔‘‘ گویا جانثاری کی بنیادی شرط ہرطرح کے مصائب و آلام پر صبر و شجاعت ہے ۔
عزت و حرمت کی پاسداری کے سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں ’’ خدا وندعالم نے مومن کو ہر شی کا اختیار دیا ہے لیکن خود کو ذلیل کرنے کا اختیار نہیں دیا ہے‘‘ ۔
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ’’عزت کی راہ میں آنے والی موت حیات جاوید ہے ۔‘‘
آپ(ع) کا یہ پیغام محدود حیات کے مالک انسان کو دائمی حیات حاصل کرنے کا ہنر سکھاتا ہے ۔
مسلمانوں کے حالات سے غفلت برتنے کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا ’’جو شخص مسلمانوں سے فریاد رسی کر نے والے کی فریاد سنے اور اس کا جواب نہ دے وہ مسلمان نہیں‘‘۔
امام(ع)کے ارشادات اور آپ(ع)کے عملی اقدامات کو دیکھنے کے بعد مطالبات کربلا کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
اگر عزاداران کربلا پیغامات کربلا پر توجہ کرہں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرکے ایک سچے حسینی کی مثال پیش کریں تو زمانے کی دوریاں کربلا اور عاشقان کربلا کے درمیان فاصلہ نہ پیدا کر سکیں گی اور آج سیکڑوں سال بعد ہمارا کردار اس لائق ہوسکے گا کہ ہم بھی شہداء کربلا کے غلاموں میں شامل ہو سکیں۔
 اس سال کرونا وبا کی وجہ سے عزاداری کے محدود ہوجانے کی بنا پر ہمارے لیے عملی عزادار بننے کا بہترین موقعہ لہذا سراکار سید الشہدا امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب وانصار پر گریہ کرنے کے ساتھ ساتھ انکے پیغامات پر عمل ہماری عزاداری کو بارگاہ الٰہی میں شرف قبولیت حاصل کرنے کے لائق بنائے گااور اس طرح ہماری عزا امام حسین(ع) اور ان کے اصحاب و انصار کی خوشنودی کا ذریعہ قرار پائے گی۔


تحریر: سید حمیدالحسن زیدی (مدیر الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور)


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین