Code : 2383 70 Hit

رسول اللہ(ص) کی وفات پر علی(ع) کا مرثیہ

جب علی(ع) رسول اللہ(ص) کو غسل دے رہے تھے اور دفن کرنے کے لئے تیار کررہے تھے تو فرماتے جارہے تھے: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان،آپ کے مرنے سے تو وہ سلسلہ منقطع ہوگیا جو کسی کے مرنے سے نہیں ہوا اور وہ ہے آسمانی خبروں اور وحی کا سلسلہ۔

ولایت پورٹل: پیغمبر اکرم(ص) نے 28 صفر سن 11 ہجری کو اس حالت میں اس دار فانی سے رحلت فرمائی کہ آپ کا سر اقدس علی(ع) کے دامن میں تھا اور اس کے بعد پھر کبھی اہل بیت عصمت و طہارت کے آنسو خشک نہ ہوئے بلکہ اس وقت سے لیکر آج تک اہل بیت(ع) اور آپ کے چاہنے والوں پر مصائب و مشکلات کا طویل عرصہ گذر گیا۔
اور جب علی(ع) رسول اللہ(ص) کو غسل دے رہے تھے اور دفن کرنے کے لئے تیار کررہے تھے تو فرماتے جارہے تھے: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان،آپ کے مرنے سے تو وہ سلسلہ منقطع ہوگیا جو کسی کے مرنے سے نہیں ہوا اور وہ ہے آسمانی خبروں اور وحی کا سلسلہ۔
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے 226 نمبر خطبہ میں رسول اللہ(ص) کی رحلت کے سلسلہ سے فرماتے ہیں: وَ لَوْ لَا أَنَّکَ أَمَرْتَ بِالصَّبْرِ وَ نَهَیْتَ عَنِ الْجَزَعِ لَأَنْفَدْنَا عَلَیْکَ مَاءَ الشُّئُونِ وَ لَکَانَ الدَّاءُ مُمَاطِلًا وَ الْکَمَدُ مُحَالِفاً وَ قَلَّا لَکَ وَ لَکِنَّهُ مَا لَا یُمْلَکُ رَدُّهُ وَ لَا یُسْتَطَاعُ دَفْعُهُ بِأَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی اذْکُرْنَا عِنْدَ رَبِّکَ وَ اجْعَلْنَا مِنْ بَالِکَ‘‘۔
اگر آپ نے مجھے صبر کی تلقین نہ کی ہوتی اور جزع فزع سے منع نہ کیا ہوتا میں اس قدر گریہ کرتا کہ میرے آنسو خشک ہوجاتے اور یہ درد رنج و حزن میرے لئے ہمیشہ تازہ اور دائمی رہتا ، لیکن افسوس ہے کہ موت کو لوٹایا نہیں جاسکتا ۔میرے ماں باپ آپ پر قربان ! آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہمیں یاد کیجئے گا اور ہمیں مت بھولئے گا۔
حضرت علی علیہ السلام ہمیشہ رسول اللہ(ص) کے سب سے نزدیک تھے۔ حضرت امیرالمؤمنین(ع) رسول اللہ سے اپنی قربت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ جب رسول اللہ(ص) پر پہلی وحی نازل ہوئی تو میں نے شیطان کے نالے سنے اور رسول اللہ(ص) سے عرض کیا: یا رسول اللہ(ص) یہ کس کے رونے کی آواز ہے؟ فرمایا: یہ شیطان کی آواز ہے جو آج مایوس ہوچکا ہے کہ اب اس کی اطاعت نہیں ہوگی لہذا وہ پھوٹ پھوٹ کر گریہ کررہا ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ(ص) نے حضرت علی(ع) سے فرمایا: اے علی! تم وہی سنتے ہو جو میں سنتا ہوں اور وہی دیکھتے ہو جو میں دیکھتا ہوں بس فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو بلکہ تم میرے وزیر اور میرے مددگار ہو اور کبھی خیر سے جدا نہیں ہونگے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम