ہمارے7000 قیدیوں کو رہا کرؤ تین ماہ کے لیے جنگ بندی کرلیں گے؛طالبان کی پیش کش

کابل حکومت کے ایک مذاکرات کار نے کہا کہ ایک طرف طالبان عسکریت پسند گروپ نے پورے افغانستان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف انھوں نے 7000 قید عسکریت پسندوں کی رہائی کے بدلے میں تین ماہ کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔

ولایت پورٹل:اے ایف پی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کابل حکومت کے مذاکرات کار نادر نادری نے کہا  ہے کہ طالبان کی جانب سے 7000قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں تین ماہ کی جنگ بندی کی پیش کش  ، ایک بڑا مطالبہ ہے، طالبان عسکریت پسندوں نے اس گروپ کے رہنماؤں کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے ہٹانے کا  بھی مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے سرحدی محافظوں نے بارڈر کراسنگ کے ذریعے افغانستان میں دراندازی کی کوشش کرنے والے سیکڑوں افراد کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس فائر کی،افغان طالبان کے ہاتھوں اسپن بلداک کے علاقے میں بارڈر کراسنگ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد پاکستان نے بدھ کے روز سرحد بند کردی،درایں اثناچمن بارڈر پر ایک پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ 400 افراد نے زبردستی عبور کرنے اور افغانستان میں داخل ہونے کی کوشش کی نیز  انہوں نے پتھراؤ کیا اور اس کی وجہ سے ہمیں آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہاکہ بدھ سے لے کر اب تک تقریبا 1500 افراد اس بارڈر پر جمع ہوئے ہیں اور اس کراسنگ کو عبور کرنے کے منتظر ہیں،افغان طالبان کے ایک ذرائع نے بتایا کہ سیکڑوں افراد پاکستان میں داخل ہونے کے ہونے کے افغان سرحد پر جمع ہوئے ہیں،تاہم  ہم پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ یہ سرحد جلد ہی کھول دی جائے گی۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین