صیہونیوں کے ساتھ تعلقات کی گاڑی بحرین اسٹیشن پر

صیہونیوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی شطرنج بازی میں سعودی عرب نے اپنے نااہل کارندے میدان میں اتارے ہیں تاکہ اگر حالات اجازت دیں تووہ اسرائیل کے ساتھ اپنےتعلقات ہونے کا اعلان کرے۔

ولایت پورٹل:جیسا کہ پہلے ہی معلوم تھا صیہونیوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے یا زیادہ واضح طور پر کہا جائےکہ غیر قانونی صیہونی حکومت کو تسلیم کرنے کی ٹرین بحرین اسٹیشن پر پہنچ چکی ہے ، البتہ بحرین نے دوسرے عرب ممالک کے مقابلے میں اور ان سے آگے بڑھ کر یہ راستہ اختیار کیا  ہے وہ بھی ایسے وقت میں جب صدی ڈیل پلان پر عمل درآمد کے لئے پہلا قدم اسی ملک میں اٹھایا گیا تھا ، بحرین میں صدی ڈیل کے اقتصادی سربراہی اجلاس کا انعقاد ، جو مہینوں قبل ہوا تھا ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بحرین خلیج فارس میں اپنے دوسرے عرب دوستوں سے یقینا اس سمت سے الگ نہیں ہے۔
لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والے پہلے ممالک کے طور پر متحدہ عرب امارات اور بحرین کو منتخب کرنے کی وجہ کا خلاصہ ان ممالک کے اجزائی ڈھانچے اور صیہونی حکومت پر عرب آمروں کے انحصار کے تناظر میں کیا جاسکتاہے،ان ممالک کی آمرانہ حکومتیں جو صہیونی حکومت کی رضا مندی میں اپنا استحکام اور سیاسی زندگی کی ضمانت دیکھتی ہیں ، ان میں سے کچھ برطانوی یا امریکی معاہدے پر مبنی ہیں ، ان آمرانہ حکومتوں میں سے کچھ کے پاس سیاسی آزادی اور عوامی حمایت کا بھی فقدان ہے، ان میں سے بحرین کو سعودی عرب سے وابستہ ایک فرسودہ سیاسی ماڈل کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے جس میں قومی آزادی اور عوامی حمایت کا فقدان ہے ، اس ملک کے لیےسعودی پیڈاک کی اصطلاح مناسب ہوسکتی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین