Code : 2450 94 Hit

بولیویا میں بغاوت،ٹرمپ بہت خوش

امریکی صدر نے بولیویا کے صدر کے مستعفی ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وینزویلا اور نکاراگوا کی حکومتوں کو بھی اسی طرح کی بغاوت کی دھمکی دی ہے۔

ولایت پورٹل:رائٹر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی شام بولیویا کے صدر ایو مورالس کے استعفیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اشاروں اشاروں میں وینزویلا اور نکاراگوا میں بھی اسی طرح کی بغاوت کا مطالبہ کیا ہے،ٹرمپ نے نیکلاس مادرورو کی سربراہی میں چلنے والی وینزویلا اور ڈنیل اورٹگا کی سربراہی میں قائم  نکاراگوا  کی حکومتوں کے دعوؤں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ  مورالس کا استعفی ان دونوں حکومتوں کے لیے خطرہ کی گھنٹی ہے،انھوں نے مزید کہا کہ کل صدر ایو مورالس کا استعفیٰ مغربی نصف کرہ میں جمہوریت کے لئے ایک اہم لمحہ تھا نیز ان پیشرفتوں نے وینزویلا اور نکاراگوا میں غیر قانونی  حکومتوں کو پیغام دیا ہے کہ عوام کی مرضی ہمیشہ ہی غالب رہتی ہے،امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلی عہدہ دار نے بھی خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی بولیویا  کے ملکی مسائل میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس ملک  کی پارلیمنٹ سے جلد از جلد اجلاس کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ  مورالس کے استعفیٰ کو قبول کرتے ہوئے عبوری حکومت کے قیام اور خالی آسامی کو پورا کرنے کے لئےلازمی  شرائط پوری کی جائیں،یاد رہے کہ حال ہی میں بولیویا  کے صدر منتخب ہونے والے مورالس ملک میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے پیش نظر ایتوار کو اپنے عہدہ سے مستعفی ہوگئے ہیں تاکہ ملک کو آشوب سے بچایا جاسکے،کیوبا اور وینزویلا نے مورالس کے استعفے کو ان کے خلاف بغاوت قرار دیا ہے اور بین الاقوامی برادی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ملک کے منتخب صدر کی حمایت کریں،ادھر کل رات  میکسیکو کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا  ہے کہ ان کے ملک نے ایوو مورالس کو سیاسی پناہ دے دی ہے۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम