آل سعود کے معاشی منصوبوں کی ناکامی کی وجوہات(ایک تجزیہ)

محمد بن سلمان کے وژن 2030 منصوبوں پر عمل درآمد میں سعودی عرب کو اب تک جن ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ان کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ وہ ان منصوبوں سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔

ولایت پورٹل:2030 وژن سے پہلے 2006 میں سعودی عرب نے اکنامک شہر نامی پروگرام کا اعلان کیا جس کا ہدف معیشت کو متنوع بنانے کے علاوہ 2020 تک 4.5 ملین افراد کو ایڈجسٹ کرنا تھا لیکن آج اس پلان میں صرف 4 ہزار لوگ ہیں۔
خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنے اور غیر ملکیوں کو راغب کرنے کے مقصد سے سعودی عرب کی طرف سے اعلان کردہ دیگر منصوبوں کی ناکامی کے علاوہ یہ ملک دوسرے بڑے منصوبوں میں ناکامی کی تاریخ رکھتا ہے جن کے لیے اربوں ڈالر کا انفراسٹرکچر سرمایہ خرچ کیا گیا جس کے بعد یہ بالکل حیران کن نہیں ہے کہ خیالی شہر "نیوم" ناکامی کا باعث بنے گا اس لیے کہ آل سعود کے منصوبوں کی ناکامی "تخیل سے ماوراء" منصوبوں کا اعلان کرنے کی خواہش کا نتیجہ ہے۔
طے پایا ہے کہ نیوم سٹی میں فلائنگ ٹیکسیاں، روبوٹک ہاؤس کیپرز، تھیم یا جراسک پارکوں پر مشتمل ہوگا لیکن سعودی عرب میں سیاسی ہنگامہ آرائی نے نیوم پراجیکٹ کے ناکام ہونے کا یقین بڑھا دیا ہے، اس منصوبے کو سعودی نقاد، صحافی جمال خاشقجی کے قتل، یمن میں جنگ اور بدوئی قبیلے کی بے دخلی نے متاثر کیا ہے، اس کے علاوہ جدہ ٹاور کی تعمیر چار سال سے رکی ہوئی ہے کیونکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے شروع کی جانے والی انسداد بدعنوانی مہم کے بعد اس کے اہم حمایتی جیل میں ہیں۔
کنگ عبداللہ فنانشل زون کی تعمیر روک دی گئی ہے،اس علاقے کا کل رقبہ 1.6 ملین مربع میٹر اور درجنوں فلک بوس عمارتوں پر مشتمل ہے، اس میں بہت سے پارکس اور سبزہ زار شامل ہوں گے نیز اس کے علاوہ اس میں مساجد، دکانیں اور چھوٹے تفریحی مقامات بھی شامل ہوں گے، یہ علاقہ بحیرہ احمر کے ساحل پر ایک شہر کی تعمیر کا ایک بہت بڑا اقتصادی منصوبہ ہے ،اسے سعودی عرب کی معیشت کے لیے اہم بستی کے طور پر جانا جاتا ہے جو تین براعظموں ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان رابطے کے لیے گیٹ وے کا کام کرے گا۔
 ان فلک بوس عمارتوں کی معطلی اس لیے ہے کہ ریاض غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مقام نہیں ہے لیکن یہ بات بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے کہ سعودی عرب غیر ملکی بینکروں اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے الکحل کے مشروبات کے استعمال کو آزاد کرنے جا رہا ہے،آل سعود کے پاس انتہائی لگژری ریزورٹس کے بھی بڑے منصوبے ہیں،یہ سیاحتی علاقے الگ الگ ہوائی اڈوں سے مکمل ہوتے ہیں۔
ریاض سیزن جشن جس پر بہت سے سعودیوں اور علماء کا ردعمل بھی دیکھنے کو ملا ہے،  کو لباس، تفریح اور الکحل مشروبات پر پابندیوں کو کم کرنے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار مڈل ایسٹ اسٹڈیز کا خیال ہے کہ یہ عارضی سماجی اصلاحات سعودی عرب کی حکومت پر دباؤ ڈالیں گی کیونکہ اس طرح سعودی معاشرہ اجنبیت کی طرف بڑھے گا اور اس سے قدامت پسند سعودی شہریوں کا عدم اطمینان اور غصہ بڑھے گا جس سے معاشرے میں خلیج پیدا ہوگی، تاہم حالیہ برسوں میں بن سلمان کی کوششوں کے باوجود سعودی عرب میں سرمایہ کاری کی کشش اب بھی بہت کم ہے جبکہ بین الاقوامی کمپنیاں ٹیکس بلوں کی شکایت بھی کرتی ہیں۔
خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ اقتصادی مقابلہ
متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب اس وقت متحدہ عرب امارات کے ساتھ شدید اقتصادی مقابلے میں مصروف ہے،خلیج فارس تعاون کونسل میں بڑے مالیاتی اور سیاحتی منصوبوں میں شدید مقابلہ ہے جہاں متحدہ عرب امارات سعودی عرب کا پہلا حریف ہے، ریاض خطے کا مالیاتی مرکز بننے کی کوشش کر رہا ہے جس کی واضح مثال سعودی عرب کا جدہ ٹاور ہے جس کا مقصد برج خلیفہ کو دنیا کی بلند ترین عمارت کے طور پر پیچھے چھوڑنا ہے۔
سعودی عرب میں جدہ ٹاور کی تعمیر کا آغاز دبئی میں "خور" ٹاور کی تعمیر کے آغاز کے ساتھ ہوا، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کی بلند ترین فلک بوس عمارت ہے۔ دبئی کے برج خوڑ کو جدہ ٹاور کے فوراً بعد روک دیا گیا تھا جس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ تعمیر صرف جدہ ٹاور کو دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز برقرار رکھنے کے لیے عالمی ریکارڈ سے مسترد کرنے کے لیے ہے۔
درایں اثنا میڈیا نے اعلان کیا کہ سعودی حکومتی ایجنسیاں 2024 کے آغاز سے سعودی عرب سے باہر علاقائی ہیڈ کوارٹر قائم کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بند کر دیں گی، مبصرین نے اس اقدام کو ظالمانہ اور متحدہ عرب امارات سے کاروبار کو سعودی عرب منتقل کرنے کی مایوس کن کوشش قرار دیا ہے، یہ مسئلہ اس مقابلے کی ایک اور مثال ہے،ماہرین اقتصادیات اکثر اسے سعودی سیاست کی عدم استحکام سے تعبیر کرتے ہیں، جس کی خصوصیت یہ ہے اس میں اچانک اور مبہم حکومتی اعلانات  ہوتے ہیں جن کی حقیقی پالیسیوں کی حمایت نہیں ہوتی۔
واضح رہے کہ نیوم  سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع طائف کے علاقے میں ایک میگا سٹی بنانے کا منصوبہ ہے، جس کا پہلا مرحلہ 2025 تک کھولا جانا ہے، ایک شہر جس کا رقبہ 26500 مربع کلومیٹر بتایا جاتا ہےیعنی نیویارک سٹی سے 33 گنا اور قطر سے تین گنا بڑا، نیوم شہر کی تعمیراتی لاگت کا تخمینہ 500 بلین ڈالر ہے اور رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے دوران فرانسیسی کمپنیاں 1000 کلومیٹر طویل سولر روڈ بنانا شروع کریں گی جبکہ برطانوی کمپنیاں ونڈ پاور بھی تیار کریں گی اور کروز جہاز بھی بنائیں گی نیز ڈچ کمپنیاں مکمل طور پر جدید پل بنا کر بڑی اور اونچی عمارتوں کو آپس میں جوڑیں گی۔
قابل ذکر  ہے کہ نیوم جسے سعودی حکام نے دنیا کا سب سے پرجوش منصوبہ  اور سعودی ولی عہد کے تیل کی آمدنی پر سعودیوں کا انحصار ختم کرنے کے منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے، یاد رہے کہ نیوم پراجیکٹ جس جگہ پر عمل درآمد ہونے جا رہا ہے اس کا ایک حصہ وہ جگہ ہے جہاں " الحویطات" قبیلے کے لوگ رہتے ہیں، جو کئی نسلوں سے سعودی عرب، اردن اور جزیرہ نما اردن میں مقیم ہیں نیز ان کا شجرہ نسب سعودی عرب کے قیام سے پہلے تک جاتا ہے۔
اس حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں نیوم پراجیکٹ پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوئی اور یہ منصوبہ منصوبہ بندی کی سطح پر برقرار ہے،اس کے علاوہ اس شہر میں بہت سے بنیادی منصوبوں نے ابھی تک آپریشنل مرحلہ شروع نہیں کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ کاغذوں پر بھی ناکام نظر آتا ہے  لہذا یہ صرف مشہوری کے سوا کچھ نہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین