صیہونیوں کی غزہ کے خلاف جارحیت کی وجوہات

حماس کو تنازعہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مصر کی ثالثی کی اسرائیل کی کوششیں ناکام نظر آتی ہیں اور اب اسے مقبوضہ فلسطین میں ایک متحد مزاحمتی قوت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ولایت پورٹل:5 اگست 2022 بروز جمعہ کو علاقائی ذرائع ابلاغ نے غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے فائر اسکواڈ کے حملے کی خبر دی  جس کے بعد صیہونی خبر رساں ایجنسیوں نے دعویٰ کیا کہ 170 سیکنڈز کے دوران کیے گئے لڑاکا طیاروں  کے اس فضائی حملے میں 9 افراد  ہلاک ہوئے  جبکہ غیر سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حملے میں 15 افراد شہید اور 44 افراد زخمی ہوئے۔
اس حملے میں جہاد اسلامی تحریک کے فوجی کمانڈروں میں سے ایک تیسیر محمود الجبری بھی شہید ہو گئے نیز بعض ذرائع نے غزہ پٹی کے رفح شہر پر صیہونی حکومت کے ایک اور حملے کی خبر دی، جہاد اسلامی تحریک کے سکریٹری جنرل زیاد نخالہ نے غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے حملے کے بعد اعلان کیا کہ یہ گروہ تل ابیب کو نشانہ بنائے گا۔ اس دھمکی کے بعد صیہونی حکومت نے تمام پناہ گاہوں کو دوبارہ کھول دیا اور مقبوضہ علاقوں میں دفاعی نظام کو فعال کر دیا نیز بن گورین ہوائی اڈے پر طیاروں کی پرواز کا راستہ شمال کی طرف تبدیل کر دیا گیا۔
 صورتحال ایسی ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک اور صیہونی حکومت کے درمیان قریب آنے والی جنگ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تاہم اہم سوال یہ ہے کہ صیہونی حکومت نے غزہ پر حملہ کیوں کیا؟ 2 اگست بروز منگل صہیونی فوج نے جنین کیمپ پر حملہ کرکے مزاحمت کے سینیئر کمانڈروں میں سے ایک بسام السعدی کو گرفتار کر لیا، اس حملے کے دوران انہوں نے ایک فلسطینی شہری کو شہید کر دیا جس کے بعد سرایا القدس گروپ نے اعلان کیا کہ السعدی کی زندگی کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کا مطلب قابض حکومت کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز ہوگا، اس واقعے کے بعد صیہونی حکومت نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر کے اس علاقے میں تمام اقتصادی گزرگاہوں کو بند کر دیا نیز مسلح اسرائیلی ڈرون مزاحمت کی دفاعی صلاحیتوں کا مشاہدہ کرنے اور اس علاقے میں گھس کر انہیں تباہ کرنے کے درپے ہیں۔
اس کے علاوہ، جمعرات کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے غزہ کی سرحد کے قریب لاجسٹک، پیادہ، بکتر بند اور خصوصی دستے تعینات کر دیے ہیں،اسرائیل کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ نے بینی گانٹز کے ساتھ صیہونی فوج سے کہا کہ وہ ممکنہ جنگ کے لیے اپنی جارحانہ اور انٹیلی جنس تیاری کو برقرار رکھیں اور مضبوط کریں۔
یاد رہے کہ غزہ کی پٹی کے خلاف حملوں کے نئے دور کو سیف القدس جنگ میں شریک مزاحمت کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، اس جنگ میں مزاحمت  کی جانب سے مقبوضہ علاقوں کی جانب فائر کیے گئے 400000 راکٹوں اور صیہونی آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا، تاہم اس حقیقت کے باوجود تھا کہ 50 روزہ جنگ کے دوران مقبوضہ علاقوں پر 5000 ہزار راکٹ فائر کیے گئے ان اعداد و شمار کا موازنہ صہیونی دشمن پر حملہ کرنے کے لیے مزاحمت کی قدم بہ قدم پیشرفت کو ظاہر کرتا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین