Code : 3024 25 Hit

امریکہ اور روس کے درمیان چوہے بلی کا کھیل

روسی سینٹر برائے بین الاقوامی مطالعات کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلاناچاہتا ہے اور وسطی ایشیا میں اپنے فوجی انفراسٹرکچر کی منتقلی کے لئے بھی بات چیت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

ولایت پورٹل:ماسکو کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ریلیشنز انسٹی ٹیوٹ کے انٹرنیشنل اسٹڈیز سینٹر ، کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ امریکہ کے لئے وسطی ایشیا میں روس اور چین سے مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا  کہ  وسطی ایشیاء میں امریکہ کی نئی حکمت عملی پچھلی حکمت عملی سے کوئی  زیادہ مختلف نہیں ہے بلکہ  واشنگٹن اب بھی پرانے مقاصد پر عمل پیرا ہے۔
انھوں نے  مزید کہا کہ امریکہ پچھلے پانچ سالوں سےیوکرائن میں تنازعات کے حل کے لئے مصروف ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن نے وسطی ایشیاء پر زیادہ توجہ نہیں دی لیکن آج بین الاقوامی صورتحال بدل چکی ہے اور سپر پاورز کی سیاست میں وسطی ایشیائی ممالک کا کردار مزید واضح ہوچکا ہے۔
گزینسیف نے مزید کہا کہ امریکہ وسطی ایشیا میں چین اور روس سے لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے لہذا واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین اختلافات کا خطے کے اندرونی معاملات پر گہرا اثر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانا چاہتا ہے نیز وسطی ایشیا میں امریکی فوجی انفراسٹرکچر کو منتقل کرنے کے لئے بات چیت جاری ہے۔
روسی ماہر نے یاددلایا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ قزاقستان اور ازبکستان میں چینی سفارت خانے نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے وسطی ایشیائی ممالک کے دورے پر شدید تنقید کی۔
گزینسیف نے کہا یہ خطے میں بین الاقوامی صورتحال کی عکاس ہے اور چین وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لئے سخت جدوجہد کرنے کو تیار ہے  جبکہ روس  کی زیادہ تر توجہ یوکرائن سمیت یورپ میں اپنے مسائل حل کرنے پر مرکوز ہے۔







0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम