Code : 3385 49 Hit

رمضان المبارک،قرآن مجید سے آشنائی کے گرانقدر لمحات

بڑے افسوس کی بات ہے کہ قرآن مجید کی نسبت یہ سب تکلفات حقیقت میں ایک دکھاوا ہیں اور جن میں حقیقی،واقعی اور سچے احترام کی دور دور تک بھی جھلک نظر نہیں آتی ہے۔ ہمیں آج یہ اعتراف کرنا چاہیئے کہ جب سے قرآن مجید کے حقیقی احترام کی جگہ دکھاوے نے لی اور تکلفات حقائق کے جاگزین ہوگئے اور ہم نے اس کے زندگی ساز قوانین سے روگردانی برتی ،تب سے ہمارے دشمن ہم پر حاوی ہوگئے ہیں اور اس طرح ہم قرآن مجید سے دور ہوگئے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ماہ رمضان المبارک سن ۱۴۴۱ ہجری کا چاند نمودار ہوچکا ہے اور آج اس کی پہلی تاریخ ہے ہر انسان اس ماہ مبارک میں روزہ رکھنے کو اپنے لئے توفیق اور سعادت سمجھتا ہے یہ مہینہ قرآن مجید کے نزول کا مہینہ ہے اس میں اللہ یہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے زیادہ سے زیادہ اس کی کتاب کی تلاوت کریں اس کے معارف اور تعلیمات سے آشنا ہوں اور اس کتاب حیات کو اپنی زندگی میں اپنائیں۔یہی سب چیزیں نزول قرآن کا ہدف و مقصد ہیں جن کا پورا کرنا ضروری و واجب ہے البتہ ان اہداف کی تکمیل ان لوگوں کے لئے ذرا شاق گذرے گی کہ جو قرآن مجید کے نزول کو صرف یہ جانتے ہیں کہ جب سفر پر جایا جاتا ہے تو گھر کا کوئی شخص اسے دروازے پر اٹھا کر لاتا ہے اور سفر پر جانے والا اس کے نیچے سے گذرتا ہے یا کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن تو صرف جہیز میں دینے یا گھر میں طاق پر سجانے کے لئے ہوتا ہے۔ اور اب تو چھوٹے چھوٹے قرآن گاڑیوں وغیرہ بھی اس وجہ سے لٹکائے جاتے ہیں تاکہ نظر بد سے محفوظ رہا جاسکے ، جب ہم میں سے بہت سے لوگ کوئی نیا گھر خریدتے ہیں اور وہاں شفٹ ہوتے ہیں تو دیگر  سامان سے پہلے ہم قرآن مجید وہاں لے جاتے ہیں اور یہاں تک کہ ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں بھی حق و باطل کے درمیان حق کو ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید کی قسم کھاتے ہیں اپنی خوشی کی تقاریب اور غم کی مجالس کا آغاز بھی عام طور پر تلاوت قرآن سے کرتے ہیں۔
غرض ہم یہ سب کام کرتے ہیں ذرا اس ماہ مبارک رمضان میں، ہمیں یہ فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم نے یہ سب کام کئے لیکن ہم نے قرآن مجید کے معارف اور تعلیمات کو چھوڑ دیا تو کیا ہم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہم نے قرآن مجید کا احترام کیا اور اس کے مقصد نزول کو سمجھا اور اسے درک کیا؟
کیا قرآن مجید کا نزول اس وجہ سے ہوا تھا کہ سفر پہ جانے سے پہلے اس کے سائے سے گذرا جائے ، یا اسے لڑکیوں کے جہیز میں رکھا جائے؟ کیا وہ شخص کہ جو بازار میں اپنے کاروبار پر جانے سے پہلے حسب عادت قرآن مجید کو چومتا ہے لیکن بازار یا دفتر یا کارخانے میں پہونچ کر ربا کھاتا ہے ، اپنے زیر نظر لوگوں کا خون چوستا ہے اپنے جونئر لوگوں کے حقوق کو پامال کرتا ہے اور اسے جب موقع ملتا ہے وہ خیانت اور چوری سے گریز نہیں کرتا تو کیا اس شخص نے قرآن مجید کا احترام کیا ہے اور اس کے مقصد نزول کو سمجھا ہے؟
کیا وہ شخص کہ جو سفر پر جانے سے پہلے قرآن مجید کے سائے سے گذرا ہے اور اس نے اپنے پورے سفر میں کسی عیش و نوش اور حرام کھانے پینے سے پرہیز نہیں کیا ہے تو کیا اسے قرآن مجید کا  سچا اور حقیقی پیروکار کہا جائے گا؟
کیا وہ میاں بیوی کہ جن کے مہر میں قرآن مجید رکھا ہے یا جن کے جہیز کی زینت قرآن مجید تھا لیکن نماز ، روزہ ، پردہ اور بچوں کی تربیت جیسے بہت سے امور میں قرآن مجید کی تعلیمات کی پابندی نہیں کرتے کیا ایسے لوگوں کو قرآن مجید کا دوست اور چاہنے والا کہا جائے گا؟
بڑے افسوس کی بات ہے کہ قرآن مجید کی نسبت یہ سب تکلفات حقیقت میں ایک دکھاوا ہیں اور جن میں حقیقی،واقعی اور سچے احترام کی دور دور تک بھی جھلک نظر نہیں آتی ہے۔ ہمیں آج یہ اعتراف کرنا چاہیئے کہ جب سے قرآن مجید کے حقیقی احترام کی جگہ دکھاوے نے  لی اور تکلفات حقائق کے جاگزین ہوگئے اور ہم نے اس کے زندگی ساز قوانین سے روگردانی  برتی ،تب سے  ہمارے دشمن ہم پر حاوی ہوگئے ہیں اور اس طرح ہم قرآن مجید سے دور ہوگئے ویسے تو کہنے کو باتیں بہت زیادہ ہیں اور اس مختصر تحریر میں ان سب کو بیان نہیں کیا جاسکتا بس یہاں چند چیزوں کے بیان پر اکتفاء کررتے ہیں :
دین اسلام کا اپنے ماننے والوں کو ایک اہم حکم یہ ہے کہ وہ جب بھی قرآن مجید کی تلاوت کریں تو وہ دقت، تفکر و تأمل کے ساتھ اس کی تلاوت کریں:’’و رتل القرآن ترتیلا‘‘ قرآن مجید کو غور فکر کے ساتھ بڑھو! ۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ قرآن مجید کا یہ حکم یعنی قرآن مجید میں تدبر اور غور و خوص کرنے کو ہم نے فراموش کردیا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ تلاوت قرآن مجید بھی ہمارے یہاں کافی حد تک کم ہوچکی ہے یہ وہی چیزیں ہیں جن کی شکایت رسول اللہ (ص) نے رب قرآن کی بارگاہ میں کی تھیں:’’قال الرسول ، یا رب إن قومی اتخدوا هذا القرآن مهجوراً‘‘۔ اے پروردگار! میری قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔
قرآن مجید میں تدبر اور غور و خوص کرنے والے علماء بھی ہمیشہ یہ افسوس کیا کرتے تھے کہ اے کاش ! قرآن مجید پر مزید کام کرسکتے ؟ آئیے ذیل میں کچھ اکابر و بزرگ علماء کی آپ بیتی بیان کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ جب یہ افراد اس قدر اپنے اوپر افسوس کرتے تھے تو ہم لوگوں کو کتنا افسوس کرنا چاہیئے:
۱۔ صدر المتألھین(رح) کہتے ہیں:
میں نے اپنی زندگی کے بہت سے مشہور و معروف فلسفیوں کی کتابوں کا مطالعہ کیا یہاں تک کہ مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ میں بھی کوئی چیز ہوں۔ لیکن جیسے ہی میری کچھ بصیرت بڑھی تو میں نے اپنے آپ کو حقیقی علوم سے بالکل خالی پایا ۔اور عمر کے آخری حصہ میں، تدبر و غور کرنے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ قرآن مجید اور محمد و آل محمد(ص) کی نقل کردہ روایات میں تدبر کرنا چاہیئے اور مجھے یہ یقین ہوگیا کہ میرا گذشتہ کام بے بنیاد تھا چونکہ میں اپنی پوری زندگی کے دوران،  نور کے بجائے سائے میں کھڑا تھا مجھے اپنے آپ پر بہت غصہ آیا اور میرا دل غم سے جل رہا تھا یہاں تک کہ رحمت الہی نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے قرآن مجید کے اسرار سے واقف کردیا اور پھر میں نے قرآن مجید میں تدبر کرنا شروع کردیا۔
۲۔ فیض کاشانی رقمطراز ہیں:
میں نے بہت سی کتابیں اور رسالے تحریر کئے ، بہت سی تحقیقات کیں ، لیکن کسی بھی چیز میں میرے درد کی دوا اور میری تشنگی کی سیرابی کا سامان فراہم نہیں تھا مجھے اپنے اوپر ترس آیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کی ، اس کی بارگاہ مین توبہ و استغفار کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن مجید اور روایات معصومین(ع) میں غور کرنے کی ہدایت فرمائی۔(۱)
۳۔ امام خمینی(رح)
امام خمینی(رح) ہمارے زمانے کی وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں جنہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کرنے اور زمین پر اللہ کے احکام کی حکومت کے لئے اسلامی انقلاب برپا کیا۔ آپ نے اپنی ایک تقریر میں اس چیز کی طرف اشارہ کیا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنی پوری زندگی کو قرآن مجید کے لئے استعمال نہ کیا ، اسی وجہ سے آپ نے حوزہ اور یونیورسٹی سے منسلک اور وابستہ افراد سے خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا کہ قرآن مجید کو متعدد زاویوں سے مطالعہ کیا جائے اور اسے اپنی زندگی کا مقصد قرار دیا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ لوگ بھی میری طرح بڑھاپہ میں افسوس کریں۔(۲)
 قارئین کرام! رمضان المبارک ، قرآن مجید کے نازل ہونے کا مہینہ اور اس کتاب سے لو لگانے کا مہینہ ہے ، مؤمنین کوشش کرتے ہیں کہ اس مہینہ میں ، کم سے کم ایک جزء قرآن ہی پڑھ لیں اور اگر مستقل مزاجی کے ساتھ انسان ایک جزء تلاوت کو اپنا شعار بنا لے تو وہ سال بھر میں کم سے کم ۱۲ مرتبہ پورے قرآن مجید کی تلاوت سے شرفیاب ہوسکتا ہے ۔اور اگر یہ دشوار امر ہو تو  کم سے کم ۵۰ آیات تو ہر شخص کو پڑھنا ہی چاہیئے چونکہ روایت میں نقل ہوا ہے: تم ہر روز ۵۰ آیات قرآنی کی تلاوت کیا کرو اور تمہارا مقصد یہ نہ ہو کہ جلدی جلدی پورا سورہ ہی پڑھ ڈالو بلکہ آہستہ پڑھو اور قرآن کی تلاوت کے سبب اپنے دل کو اللہ کی طرف حرکت دو (۳)
قرآن مجید ہمارے لئے اکسیر ہے ہمیں قرآن مجید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے اور ایک مسلمان و مؤمن کے لئے قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی اور رہنما نہیں ہے یہی تو وجہ ہے کہ اللہ کے رسول (ص) نے ارشاد فرمایا:’’فإذا التبست علیکم الفتن کقطع اللیل المظلم فعلیکم بالقرآن فإنه شافع مشفع و ماحل مصدق و من جعله أمامة قاده إلى الجنة و من جعله خلفه ساقه إلى النار و هو الدلیل یدل على خیر سبیل‘‘۔ (4)
جب فتنے تاریک رات کی مانند تمہیں اپنی گرفت میں لے لیں تو تم قرآن کی طرف چلے آنا ( یعنی اس کی تلاوت کرنا اور اس کے فرامین پر عمل کرنا) چونکہ یہ ایک ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت اللہ کی بارگاہ میں قبول ہے اور جس کے بارے میں یہ گواہی دیگا اس کی تصدیق کی جائے گی، جو اس کو اپنا قائد بنائے گا یہ اسے جنت کی طرف ہدایت کرے گا اور جو اس سے روگردانی کرے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا قرآن ایسا ہادی و رہنما ہے جو بہترین راستوں کی طرف ہدایت کرتا ہے۔
ہم اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کو قرآن مجید کی تلاوت کرنے اور اس کی آیات میں تدبر کرنے نیز اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1. محسن قرائتی، تفسیر نور، ج ۸، ص ۲۴۷.
۲.صحیفه امام، ج ۲۰، ص ۹۳
٣. ابن فهد حلی، عدة الداعی و نجاح الساعی، ص ۲۹۱.
3. سیوطی، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، ج ۶، ص
4. عیاشی، کتاب التفسیر، ج ۱، ص ۲.
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین