Code : 1340 73 Hit

ماہ رمضان انسان کے معنوی و روحانی پہلوؤں کے اجاگر کرنے کا بہترین موقع ہے: آیت اللہ خامنہ ای

الحمد للہ آپ لوگ روزے رکھ رہے ہیں اور پوری توجہ و انہماک کے ساتھ نمازیں پڑھ رہے ہیں اور دعائیں کررہے ہیں، یقیناً یہ آپ کے وجود کو بابرکت بنائے گا، بس ہماری کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ اس محصول اور ماحصل کی حفاظت عمل میں لائیں کیونکہ یہ ماحصل بہت ہی قیمتی ہے۔ اگر لوگ پوری توجہ، آگاہی اور ہوشیاری کے ساتھ نماز روزہ اور ذکر انجام دیں تو ایسے مسلمان بن جائیں گے جو دن بدن اسلامی مقاصد کے قریب ہوتا جاتا ہے۔

ولایت پورٹل: بغیر ورزش کے آدمی کا جسم نحیف و کمزور اور کھوکھلا ہوجاتا ہے۔ کوئی بھی ہو، چاہے جتنا بھی مضبوط اور قوی ہیکل کیوں نہ ہو، اگر وہ ورزش نہیں کرے گا، صرف کھانے اور سونے پر اکتفا کرے گا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ورزش نہ کرنے کی صورت میں آپ کے جسم کو وہ ضروری رشد و نمو حاصل نہ ہوگی، کچھ ایسی رعنائیاں بھی ہیں جو ورزش کرنے سے میسر ہوتی ہیں اور وہ بغیر ورزش کئے آشکارا نہیں ہوسکتی ہیں۔آپ کی روح و نفس کا بھی یہی حال ہے، بغیر ورزش اور مشق و ریاضت کے آپ کا مضبوط ہونا ممکن نہیں ہے۔
ہوسکتا ہے کہ کچھ ایسے لوگ ہوں جو مضبوط اورخوبصورت جسم کے مالک ہوں لیکن روحانی اور نفسیاتی طور پر نحیف و لاغر اور کمزور و ناتواں ہوں جو کہ کسی کام کا نہیں ہے۔ ساری عبادتیں اس لئے ہیں کہ ہم ورزش کریں، خود کی تربیت کریں اور آگے بڑھتے رہیں، البتہ ان عبادتوں کو پہچاننے کی ضرورت ہے، عبادات کے بھی جسم و روح ہوا کرتی ہے۔صرف عبادت کا جسم کافی نہیں ہے۔ اگر کوئی نماز پڑھے لیکن ذکر پر توجہ نہ دے، یہ توجہ نہ دے کہ کیا کہہ رہا ہے اور کس سے باتیں کررہا ہے، نماز کے مضامین کو بالکل ہی غفلت اور انجانے پن کی حالت میں انجام دے تو یہ نماز بالکل ہی بے سود ہوگی۔
البتہ جو لوگ عربی نہ پڑھے ہوں اور ان جملوں کا مفہوم نہ سمجھتے ہوں پھر بھی نماز کی حالت میں بس اتنا غور کریں کہ وہ اپنے خدا سے مخاطب ہیں اور خدا کی یاد میں سرگرم ہیں تو یہ بھی ایک فائدہ ہے۔ لیکن نماز کے مفہوم کو جاننے کی کوشش کریں، نماز کا مفہوم سمجھنا بہت ہی آسان ہے۔ ان چند جملوں کا ترجمہ بہت جلدی سیکھ سکتے ہیں۔نماز کو اس کا مفہوم سمجھتے ہوئے پڑھیں۔ یہ نماز ہے جو ’’اَلصَّلٰوۃُ قُربَانُ کُلِّ تَقِیٍّ‘‘۔(۱) ۔کا مصداق قرار پاسکتی ہے۔ نماز، انسان کو خدا سے قریب کرنے والی ہے۔ لیکن صاحب تقویٰ انسان کو قریب کرنے والی ہے۔
روزہ تقویٰ کا موجب اور اس کو وجود میں لانے والا ہوتا ہے، لیکن وہ روزہ جو توجہ کے ساتھ رکھا جائے۔ ان جلسوں کی ابتدائی نشست میں، میں نے روزہ کی روایت کی جانب اشارہ کیا تھا۔ بعض دیگر حضرات جو یہاں آئے ہیں اور انہوں نے فیض اٹھایا ہے، انہوں نے اشارہ کیا کہ روزہ صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی کھانا نہ کھائے اور پانی نہ پئے، بلکہ روزہ ایک قسم کی روحانی تربیت ہے، آپ اپنے جسمانی اعضاء کی روزہ کے ذریعہ پرورش کرکے پاک و پاکیزہ ہوکر طہارت حاصل کرسکتے ہیں۔زکات اور انفاق بھی ایک عظیم عبادت شمار کی جاتی ہے، اس کے بھی جسم و روح ہیں:’’وَمَنْ یُوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَأُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘۔(۲)
اس زکات کے ذریعہ ہماری اندرونی لالچ اور بخل کا خاتمہ ہوجاتا ہے، اس سے دنیاوی مال و دولت سے لگاؤ کا خاتمہ ہوجاتا ہے، لہٰذا، یہ زکات، بڑی اچھی چیز ہے۔
الحمد للہ آپ لوگ روزے رکھ رہے ہیں اور پوری توجہ و انہماک کے ساتھ نمازیں پڑھ رہے ہیں اور دعائیں کررہے ہیں، یقیناً یہ آپ کے وجود کو بابرکت بنائے گا، بس ہماری کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ اس محصول اور ماحصل کی حفاظت عمل میں لائیں کیونکہ یہ ماحصل بہت ہی قیمتی ہے۔ اگر لوگ پوری توجہ، آگاہی اور ہوشیاری کے ساتھ نماز روزہ اور ذکر انجام دیں تو ایسے مسلمان بن جائیں گے جو دن بدن اسلامی مقاصد کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ اگر آپ اسلامی معاشروں میں اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ کچھ ایسے مسلمان تھے یا ہیں جو کہ اسلامی مقاصد کے قریب نہ ہوسکے یا ان سے دور ہوگئے تو ان کی ایک برائی یا کمی یہی امر تھی۔ البتہ ممکن ہے کہ کچھ اور کمی پائی جاتی ہو تاہم ان میں سے ایک یہی کمی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ نہج البلاغہ،کلمات قصار،ش:۱۳۶۔
۲۔سورہ ٔحشر،آیت:۹۔

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम