Code : 911 20 Hit

معصومین(ع) کے اقوال کی روشنی میں ماہ رجب کی فضیلت

ماہ رجب میں روزہ رکھنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے جیساکہ روایت ہوئی ہے اگر کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو وہ ہر روز سو مرتبہ یہ تسبیحات پڑھے اسے روزہ رکھنے کا ثواب حاصل ہوگا:’’سُبْحانَ الْلہ الْجَلِیلِ سُبْحانَ مَنْ لاَ یَنْبَغِی التَّسْبِیحُ إِلاَّ لَہُ سُبْحانَ الْاَعَزِّ الْاَکْرَمِ سُبْحانَ مَن لَبِسَ الْعِزَّ وَھُوَ لَہُ أَھْلٌ‘‘۔پاک ہے وہ معبود جو بڑی شان والا ہے پاک ہے وہ کہ جس کے سوا کوئی لائق تسبیح نہیں پاک ہے وہ جو بڑا عزت والا اور بزرگی والا ہے پاک ہے وہ جو لباس عزت میں ملبوس ہے اور وہی اس کا اہل ہے۔

ولایت پورٹل: ماہ رجب، شعبان اور رمضان بڑی عظمت اور فضیلت کے حامل ہیں اور بہت سی روایات ان کی فضیلت میں بیان ہوئی ہے۔ جیسا کہ خود سرکار ختمی مرتبت حضرت محمد مصفطفٰی(ص)کا ارشاد ہے:’’ماہ رجب خداکے نزدیک بہت زیادہ بزرگی کا حامل ہے۔ کوئی بھی مہینہ حرمت و فضیلت میں اس کا ہم پلہ نہیں اور اس مہینے میں کافروں سے جنگ و جدال کرنا حرام ہے۔آگاہ رہو رجب خدا کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ رجب میں ایک روزہ رکھنے والے کو خدا کی عظیم خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ غضب الہی اس سے دور ہوجاتا ہے اور جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اس پر بند ہوجاتا ہے‘‘۔
امام موسیٰ کاظم (ع)فرماتے ہیں کہ:’’ماہ رجب میں ایک روزہ رکھنے سے جہنم کی آگ ایک سال کی مسافت تک دور ہوجاتی ہے اور جو شخص اس ماہ میں تین دن کے روزے رکھے تو اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔‘‘ نیز حضرت فرماتے ہیں:’’رجب بہشت میں ایک نہر ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے اور جو شخص اس ماہ میں ایک دن کا روزہ رکھے تو وہ اس نہر سے سیراب ہوگا‘‘۔
چھٹے امام  حضرت جعفر صادق(ع) سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم(ص) نے فرمایا:’’رجب میری امت کے لئے استغفار کامہینہ ہے۔ پس اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ طلب مغفرت کرو کہ خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔ رجب کو ’’اصبّ ‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس ماہ میں میری امت پر خدا کی رحمت بہت زیادہ برستی ہے۔ پس اس ماہ میں باکثرت کہا کرو:’’اَسْتَغْفِرُ الله وَ اَسْئَلُہُ التَّوْبَةَ‘‘۔میں خدا سے بخشش چاہتا ہوں اور اس سے توبہ کی توفیق مانگتا ہوں۔
ابن بابویہ نے معتبر سند کے ساتھ سالم سے روایت کی ہے کہ:’’میں  رجب المرجب کے آخری دنوں میں امام جعفر صادق(ع)کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت(ع) نے میری طرف دیکھتے ہوئے فرمایا:’’ کیا تم نے اس مہینے میں روزہ رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: فرزند رسول ! والله نہیں! تب فرمایا کہ تم اس قدر ثواب سے محروم رہے ہو کہ جسکی مقدار سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جسکی فضیلت تمام مہینوں سے زیادہ اور حرمت عظیم ہے اور خدا نے اس میں روزہ رکھنے والے کا احترام اپنے اوپرلازم کیا ہے‘‘۔ میں نے عرض کیا:فرزند رسول! اگرمیں اسکے باقی ماندہ دنوں میں روزہ رکھوں توکیا مجھے وہ ثواب مل جائیگا؟آپ نے فرمایا: اے سالم! جو شخص آخر رجب میں ایک روزہ رکھے تو خدا اسکو موت کی سختیوں اور اس کے بعد کی ہولناکی اور عذاب قبر سے محفوظ رکھے گا۔جوشخص آخر ماہ میں دو روزے رکھے وہ پل صراط سے آسانی کے ساتھ گزرجائے گا اور جو آخر رجب میں تین روزے رکھے اسے قیامت میں سخت ترین خوف،تنگی اورہولناکی سے محفوظ رکھا جائے گا اور اس کوجہنم کی آگ سے آزادی کاپروانہ عطا ہوگا۔
واضح ہوکہ ماہ رجب میں روزہ رکھنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے جیساکہ روایت ہوئی ہے اگر کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو وہ ہر روز سو مرتبہ یہ تسبیحات پڑھے  اسے  روزہ رکھنے کا ثواب حاصل ہوگا:’’سُبْحانَ الْلہ الْجَلِیلِ سُبْحانَ مَنْ لاَ یَنْبَغِی التَّسْبِیحُ إِلاَّ لَہُ سُبْحانَ الْاَعَزِّ الْاَکْرَمِ سُبْحانَ مَن لَبِسَ الْعِزَّ وَھُوَ لَہُ أَھْلٌ‘‘۔پاک ہے وہ معبود جو بڑی شان والا ہے پاک ہے وہ کہ جس کے سوا کوئی لائق تسبیح نہیں پاک ہے وہ جو بڑا عزت والا اور بزرگی والا ہے پاک ہے وہ جو لباس عزت میں ملبوس ہے اور وہی اس کا اہل ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम