Code : 1456 72 Hit

شب قدر کے مخفی رہنے کا راز اور اس کی فضیلت

شاید اس رات کو مخفی رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالٰی کی عبادت و بندگی کرنے کے معاملہ میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرے اور تینوں راتوں کو بیدار رہ کر عبادت و ریاضت کرے اوران میں غفران و رحمت الہی کو درک کرنے کی طمع زیادہ پیدا ہوجائے اس وجہ سے اس رات کو مخفی رکھا گیا ہے اور اسے معین نہیں کیا گیا ہے۔ اور صرف شب قدر کو ہی مخفی نہیں رکھا گیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے دن رات کی نمازوں میں نماز وسطیٰ( درمیانی نماز) کو مخفی رکھا۔اسم اعظم کو اپنے اسماء کے درمیان مخفی رکھا،قبولیت دعا کے وقت کو مخفی رکھا۔پس شب قدر کو بھی مخفی رکھا ہے اور یہ اللہ کی دیرینہ سنت ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔

ولایت پورٹل: قرآن مجید شب قدر میں نازل ہوا ہے اور اللہ نے نزول قرآن کے لئے اپنے رسول حضرت محمد مصطفٰی(ص) کے سینہ اقدس کا انتخاب کیا۔یہ رات عجیب مقام و منزلت کی حامل ہے کہ اللہ تعالٰی اس میں اپنے بندوں کے مقدر تحریر کرتا ہے۔کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے مقدر کے فیصلوں کا اس آسمانی کتاب’’قرآن مجید‘‘ کے ساتھ گہرا رابطہ ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کی معنوی حیات ہی نہیں بلکہ مادی زندگی کا بھی قرآن مجید کے ساتھ ایک عمیق تعلق ہے؟ غرض! دشمنوں پر آپ کی کامیابی،آپ کے عزت و وقار میں اضافہ، آپ کا استقلال و آزادی،آپ کے شہروں کا آباد ہونا وغیرہ یہ سب چیزیں قرآن مجید سے مربوط ہیں۔پس یاد رکھئے آپ کے مقدر بھی اسی رات میں تحریر کئے جارہے ہیں جس میں قرآن نازل ہوا ہے۔(تفسیر نمونہ، ج21، ص 156)
شب قدر نزول قرآن کی رات
قرآن مجید کی متعدد آیات وضاحت کررہی ہیں کہ یہ کتاب رمضان المبارک میں نازل ہوئی:’’شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِی أُنْزِلَ فِیهِ الْقُرْآنُ‌‘‘۔ اور اس تعبیر سے ظاہر یہی ہے کہ اس میں صرف قرآن مجید کے نزول کا آغاز نہیں ہوا ہے بلکہ مکمل قرآن اسی مہینہ میں نازل ہوا جیسا کہ سورہ قدر کی ابتدائی آیت میں ارشاد ہورہا ہے:’’إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ‘‘۔ہم نے اس کتاب کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور پھر لوگوں کے مقدر کا بھی اسی رات میں سنورنا یا بگڑنا اس امر پر دلیل ہے کہ قرآن مجید ایک مقدر ساز کتاب ہے۔
بہر کیف آیات قرآنی سے یہ بات تو سمجھ میں آگئی کہ شب قدر ایک اہم اور با عظمت شب ہے لیکن  ان آیات سے یہ معلوم نہیں ہوپاتا کہ یہ کونسی رات ہے؟ البتہ روایات و احادیث میں اس تعلق سے کافی گفتگو موجود ہے کہ رمضان کی کون سی رات شب قدر ہے؟
اس سوال کے جواب کا تعلق قرآن مجید کی مکمل تاریخ نزول سے جڑا ہوا ہے یعنی پورا قرآن مجید رسول اللہ(ص) کی مکمل تبلیغی زندگی میں نازل ہوا یعنی آپ نے دین کی تبلیغ مکمل ۲۳ برس انجام دی۔ اور محققین کے بقول قرآن مجید کے دو نزول تھے۔
۱۔ دفعی نزول
۲۔ تدریجی نزول
دفعی نزول کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید بیت معمور یا لوح محفوظ سے قلب پیغمبر اکرم(ص) پر صرف ایک رات میں پورا کا پورا نازل ہوگیا تھا۔جبکہ تدریجی نزول کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید حالات، واقعات اور تقاضوں کے پیش نظر دھیرے دھیرے اس کا کچھ حصہ رسول(ص) پر نازل ہوتا تھا اور اس طرح پورا قرآن مجید نازل ہوتے ہوتے۲۳ برس لگ گئے۔(رجوع کیجئے:تفسیر نمونہ ، ج‌27، ص 181-182 ) لہذا بہت سے علماء، رسول اللہ(ص) ۲۳ برس کی تبلیغی زندگی سے استعارہ لیتے ہوئے شب قدر کو رمضان المبارک کی ۲۳ویں شب میں مانتے ہیں۔
شب قدر انسان کامل کی شب
ایک بہت اہم سوال جو اکثر مؤمنین کے ذہنوں میں آتا ہے وہ یہ کہ:وہ شب قدر کہ جو ہزار مہینوں سے افضل ہے یہ صرف وہی ایک مخصوص رات تھی جس میں قرآن مجید قلب نبی(ص) پر نازل ہوا تھا اور اس کے بعد کوئی بھی رات شب قدر نہیں ہوگی(یعنی شب قدر صرف ایک رات تھی اور بس)؟ جیسا کہ کچھ اہل سنت علماء کا یہی ماننا ہے۔
جبکہ علماء اہل سنت کا ایک دیگر گروہ کہتا ہے کہ شب قدر صرف وہی رات نہیں تھی کہ جس میں قرآن نازل ہوا تھا بلکہ شب قدرجب تک رسول اکرم(ص) حیات رہے تب تک ہر رمضان میں آتی رہی۔ اور جب رسول خدا(ص) کا وصال ہوگیا تو شب قدر بھی ختم گئی۔
اب اس نظریہ کی بنیاد پر تو صرف شب قدر حضور اکرم(ص) کی ظاہری حیات سے مخصوص تھی جب تک آپ(ص) حیات تھے شب قدر موجود تھی جب آپ کا وصال ہوا شب قدر بھی ختم ہوگئی۔ جبکہ خود سرکار ختمی مرتبت(ص) سے سوال کیا گیا: یا رسول اللہ(ص) کیا آپ سے پہلے بھی شب قدر موجود تھی؟ فرمایا:ہر پیغمبر کے زمانے میں شب قدر تھی ۔
البتہ تخلیق انسان سے پہلے اگر یہ مان لیا جائے کہ دن اور رات خلق ہوگئے تھے تو ایسی صورت میں شب قدر کا موجود ہونا بعید معلوم ہوتا ہے۔چونکہ شب قدر اس رات کو کہتے ہیں جس میں آسمان سے فرشتے  انسان کامل کی بارگاہ میں نازل ہوتے ہیں پس جب تک روئے زمین پر انسان کامل ہوگا یہ رات ہوگی۔( مجموعه آثار شهید مطهری،آشنایى با قرآن(10 - 14)، ج‌28، ص 691-692)
مذکورہ بیان سے یہ بات بھی روشن ہوگئی کہ شب قدر صرف وہی رات نہیں تھی کہ جس میں قرآن مجید نازل ہوا تھا ۔البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید شب قدر میں ہی نازل ہوا تھا۔ بلکہ جب سے روئے زمین پر اللہ کی حجت موجود ہے اس وقت سے شب قدر ہے اور جب تک حجت خدا روئے زمین پر رہے گی شب قدر آتی رہے گی۔
سورہ مبارکہ دخان میں جس رات قرآن مجید نازل ہوا اسے شب قدر کہا گیا ہے اور شاید قدر سے مراد وہی تقدیر اور قسمت کے فیصلوں والی رات ہو۔
اس حساب سے شب قدر تقدیر لکھنے کی رات ہوئی ایسی رات جس میں پورے سال کے تمام حادثات اور واقعات،زندگی،موت،رزق ،سعادت، شقاوت وغیرہ وغیرہ تحریر کئے جاتے ہیں۔پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ شب قدر ہر سال تکرار ہوتی ہے۔ البتہ جس شب قدر میں قرآن نازل ہوا تھا اس میں یہ تو ممکن ہے کہ پورا قرآن ایک ہی مرتبہ قلب رسول(ص) پر نازل ہوا ہو لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ رات میں تمام گذشتہ اور آنے والے صدیوں اور زمانوں کی قسمت تحریر کردی گئی ہو۔(طباطبائی، تفسیر المیزان، 1378ش، ج20، ص 561 )
شب قدر کے مخفی رہنے کا راز اور اس کی فضیلت
ان تمام چیزوں کے باوجود کہ روئے زمین پر اللہ کی سب سے پہلی حجت سے لیکر آخری حجت تک ہر سال رمضان المبارک میں شب قدر دہرائی جائے گی اور رہتی دنیا تک اسی رات میں لوگوں کی تقدیروں کو تحریر کیا جاتا رہے گا۔لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ پھر لوگوں کے لئے شب قدر معین کیوں نہیں ہے؟ کیوں شب قدر کو مخفی رکھا گیا؟ چونکہ کچھ روایات کی روشنی میں ۱۹ کی شب، کچھ میں ۲۱ کی شب اور کچھ میں ۲۳ کی شب کو شب قدر بتلایا گیا ہے۔
شاید اس رات کو مخفی رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالٰی کی عبادت و بندگی کرنے کے معاملہ میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرے اور تینوں راتوں کو بیدار رہ کر عبادت و ریاضت کرے اوران میں غفران و رحمت الہی کو درک کرنے کی طمع زیادہ پیدا ہوجائے  اس وجہ سے اس رات کو مخفی رکھا گیا ہے اور اسے معین نہیں کیا گیا ہے۔ اور صرف شب قدر کو ہی مخفی نہیں رکھا گیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے دن رات کی نمازوں میں نماز وسطیٰ( درمیانی نماز) کو مخفی رکھا۔اسم اعظم کو اپنے اسماء کے درمیان مخفی رکھا،قبولیت دعا کے وقت کو مخفی رکھا۔پس شب قدر کو بھی مخفی رکھا ہے اور یہ سنت الہی میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔لہذا شب قدر کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی بندگی میں بسر کرنا چاہیئے چنانچہ پیغمر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:’’جو شب قدر کو ایمان و یقین کے ساتھ بیدار رہ کر عبادت کرے اس کے گذشتہ و آئندہ کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘۔(مجمع البیان فی تفسیر القرآن،ج27، ص 196)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
1 - مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، ایران، تهران، انتشارات دارالکتب الإسلامیة، چاپ سی و دوم، 1374ش.
2 - مطهری، مرتضی، مجموعه آثار شهید مطهری (آشنایى با قرآن(10 - 14))، ایران، تهران – قم، انتشارات صدرا، چاپ هشتم، 1377ش.
3 - طباطبائی، موسوی همدانی، ترجمه تفسیر المیزان، ایران، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابسته به جامعه مدرسین حوزه علمیه قم،چاپ یازدهم، 1378ش.
4 - طبرسی، مترجمان، ترجمه مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ایران، تهران، انتشارات فراهانی، چاپ اول،1360ش.


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम