Code : 3873 7 Hit

امریکہ میں ایک اور سیاہ فام کا قتل؛احتجاجی مظاہروں کی نئی لہر

امریکی پولیس کےہاتھوں ایک اور سیاہ فام شخص کے قتل نے امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی آگ کو پھر سے بھڑکا دیا ہے۔

ولایت پورٹل:امریکہ میں جون کے آغاز میں پولیس کے ہاتھوں ایک  سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد نسل پرستی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج میں اس وقت مزید شدت پیدا ہوگئی جب امریکی پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام شہری کا قتل ہوگیا۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق  ہفتے کے روزامریکہ کے شہر ڈیٹروائٹ میں پولیس نے ایک سیاہ فام امریکی شہری کو ہلاک کردیا جس کے بعد نسل پرستی کے خلاف ہونے والے مظاہرے سئے سرے سے شروع گئے ، ڈیٹرائٹ پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص پر پولیس نے حملہ کیا تھا، ڈیٹرایٹ میں اس سیاہ فام شخص کے قتل کے بعد ، شہر کے مغربی حصے میں مظاہرین نے جائے وقوع کے قریب مظاہرہ کیا جہاں ڈیٹرائٹ پولیس نے 19 سالہ حکیم لٹلٹن کو نشانہ بنایا اور ایک اور کو گرفتار کرلیا، واضح رہے کہ ڈیٹرایٹ میں اتوار کو نسل پرستی کے خلاف مظاہرے ہونے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی دھائی دینے والے اور اپنے آپ کو دنیا کا چودھری سمجھے والے امریکہ میں نسلی امتیاز اتنا عروج پر ہے کہ سیاہ فاموں کو انسان  بھی نہیں سمجھا جاتا اور پولیس نہایت آسانی کے ساتھ انسان کا گلے دبا کر اس کو قتل کر دیتی ہے  پھر اس نسل پرستانہ قتل کے خلاف مظاہرے کرنے والوں کو اس ملک کا سب سے بڑا عہدہ دار دہشت گرد کہہ کر خطاب کرتا ہے اور ان کے خلاف مجرموں کا سلوک کرنے کی دھمکی دیتا ہے یہی وجہ ہے پولیس کو شئے ملتی ہے اور وہ اپنی نسل پرستی پر مبنی کاروائیوں سے باز نہیں آتی  جس کے نتیجہ میں ؤئے دن سیاہ فام شہری قتل ہورہے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین