Code : 4119 12 Hit

لبنان میں جاری مظاہرے حزب اللہ کے اسلحہ کے خلاف ہیں یا بدعنوانیوں کے؟ ایک تجزیہ

اس وقت لبنانی عوام کچھ دھڑوں کی منظم بدعنوانیوں کے خلاف احتجاج کرنے سڑکوں پر نکل رہے ہیں لیکن عربی اور مغربی فریق اس داستان کو "حزب اللہ کے اسلحے" کے خلاف احتجاج کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ولایت پورٹل:بیروت کو "مغربی ایشیاء کی دلہن" کے نام سے جانا جاتا ہے شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جانا جاتا تھا لیکن بیروت کی بندرگاہ میں واقع امونیم نائٹریٹ ڈپو میں گذشتہ ہفتے ہونے والے دھماکے نے خوبصورت دلہن کے چہرے پر تیزاب چھڑکنے کا کام کیا ہے،دوسری طرف لبنان کے حکومتی اداروں میں منصوبہ بندی کے ساتھ کی جانے والی بد عنوانیوں نے اس ملک کی حکومت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے، اس زوال کی ایک علامت شہر کے کونے کونے میں کام کرنے والے جنریٹروں کی آواز میں سنی جا سکتی ہے، مغربی ایشیاء کا بظاہر دلکش دارالحکومت ، حالیہ مہینوں میں اس شہر میں دن میں صرف دو گھنٹے بجلی  رہتی تھی، اور بجلی کی فراہمی کا کام نجی الیکٹرک موٹروں کی ذمہ داری تھی جو بیروت کے مختلف علاقوں میں مشروم کی طرح اگی ہوئی ہیں۔
لبنان کے انتظامی نظام میں نا اہلی کے مسئلے کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے یہ بتانا کافی ہے کہ پچھلے 10 سالوں میں لبنان کے بجلی گرڈ پر تقریبا$ 47 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں جبکہ یہ  ایک بہت کم آبادی والا ملک ہے لیکن ابھی تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے جبکہ  گذشتہ 30 سالوں میں ایران کے 90000 میگاواٹ قومی بجلی کے گرڈ کی تیاری کے لئے قریب 45 ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں، اس مایوسی کی عکاسی کا ایک حصہ بیروت کی سڑکوں پر جاری احتجاج ہےلیکن کچھ سیاسی دھارے سے وابستہ کچھ عناصر کی طرف سے فوری طور پر اس کو پر تشدد بنا دیا جاتا ہے۔
اس دوران ، فسادات کے درمیان جو کچھ نظرانداز کیا گیا ہے وہ ہے احتجاج کی نوعیت اور لوگوں کی باتیں جن کی زندگی معاشی بدعنوانی اور نا اہلی کی وجہ سے بیروت کی سڑکوں پر کھو گئی ہے۔
تاہم الحدث اور العربیہ سعودی چینل ان اعتراضات کا رخ حزب اللہ کے ہتھیاروں کی طرف موڑنے کی کوشش کرر ہےہیں جس کے تحت انہوں نے بیروت کی سڑکوں سے اپنے صارفین تک حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کی توہین کی منتخب تصاویر نشر کی ہیں جبکہ اس ملک ملک میں سرگرم سیاسی دھاروں میں سےپارلیمنٹ اور حکومت میں حزب اللہ کا سب سے کم حصہ ہے اور بنیادی طور پر  حزب اللہ کا نظریہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں سنجیدگی سے داخل ہونا نہیں ہے اور اس تنظیم کے رہنماؤں کی خواہش یہ ہے کہ صہیونی حکومت کے توسیع پسندانہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی سرگرمیوں کو سماجی ، ثقافتی ، فنکارانہ شعبوں کے ساتھ ساتھ فوجی اور سکیورٹی کی تربیت پر ہی مرکوز رکھیں۔
لبنانی عوام کے غم و غصے کی وجوہات اور مظاہروں کی سمت کو سمجھنے کے لیےخاص طور پر بیروت دھماکے کے بعد ، ہمیں دھماکے سے قبل ان مظاہروں کی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا جب ملک کی ادائیگیوں کے توازن میں سنگین بحران کی وجہ سے لبنانی قومی کرنسی کی قدر آزادانہ طور پر گرنا شروع ہوئی اور لبنانی لیرا نے ڈالر کے مقابلے میں ایک تہائی سے بھی کم کمی کی تو اس کے نتیجہ میں اعدادوشمار کے مطابق ، 2019 میں لبنان کا تجارتی خسارہ 4 بلین ڈالر تک جا پہنچا ۔
چونکہ لبنان ایک ایسا ملک ہے جو ایندھن سے لے کر اشیائے خوردونوش تک اپنی تقریبا تمام ضروریات درآمد کرتا ہے ، اس کمی کا یہ مطلب ہے کہ بیرون ملک سے ڈالروں کی آمد کے بغیر ، لبنانیوں میں جلد ہی کھانا اور دوا خریدنے کے لئےبھی رقم نہیں ہوگی، کرنسی کی قدر میں کمی نے لوگوں کی عام ضرورتوں پر فوری طور پر اپنا اثر ظاہر کیا اور مثال کے طور پر گوشت کی قیمت اس حد تک بڑھ گئی جہاں یہ افواہ پھیلی کہ لبنانی فوج اور لبنانی سکیورٹی ایجنسیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ فوجیوں کے کھانے میں گوشت نہیں ڈالیں گے اور یہ کھانا مکمل طور پر سبزی خور پکایا جائے گا،اسی طرح ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے نجی جنریٹروں کے لئے بھی بجلی کی قیمت کو اتنا بڑھاوا دیا ہے کہ دن میں 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی لبنانی بہت سے خاندانوں کے لئے خواب بن چکا ہے۔
لبنان میں پیش آنے والی صورتحال کے اصل مجرموں کی شناخت کیے بغیر لبنان میں ہونے والے احتجاج کی حقیقت کو سمجھنا ناممکن ہے، کچھ عرب ذرائع ابلاغ نے اس صورتحال کے لئے حزب اللہ کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی ہے ، لیکن سب جانتے ہیں کہ لبنان میں حزب اللہ کا لبنانی بینکاری نظام میں کوئی کردار نہیں ہے ، اور لبنانی بینکوں کا کنٹرول کچھ سیاست دانوں اور بینکاروں کے ہاتھ میں ہے جو حریری خاندان کے قریبی دوست ہیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین