امریکہ میں نسل پرستی اور پولیس تشدد کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری

امریکہ میں نسلی امتیازی سلوک اور تشدد کے خلاف کئی مہینوں سے احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ولایت پورٹل:امریکی ریاست ویسکانسن کے شہر کنوشا میں سیاہ فام امریکی شہری پر پولیس کی فائرنگ کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے تیسرے دن بھی جاری ہیں،منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہونے والے ایک مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے اور وہ پولیس کے تشدد کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے آنسو گیس کے گولے پھینکے بعد ازاں ربر کی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
یہ مظاہرے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ جاری ہونے کے بعد شروع ہوئے ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سیاہ فام امریکی شہری پر پولیس نے سات راؤنڈ فائر کئے ہیں،نسلی امتیازی سلوک اور تشدد کے خلاف پورے امریکہ میں کئی مہینے سے احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے،امریکی پولیس سیاہ فام شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے اور شہر مینیاپولیس میں پچیس مئی کو سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں جارج فلائیڈ نامی ایک سیاہ فام امریکی شہری کے قتل کے بعد وسیع پیمانے پر نسل پرستی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور احتجاج کا یہ سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے۔

سحر

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین