نیتن یاہو کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ پھر سے شروع

 صیہونی میڈیا نے اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف ان کی رہائش گاہ کے قریب مظاہروں کے ایک نئے دور کی اطلاع دی۔

ولایت پورٹل:صہیونی نیوز ذرائع نے ہفتہ کی رات اطلاع دی ہے  کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیا مین نیتن یاھو کے خلاف ایک احتجاج کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے، نیوز ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف مظاہرین مشرقی یروشلم کے قریب رحافیا علاقہ  میں واقع نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے قریب بالفور اسٹریٹ کے مشہور پیرس اسکوائر میں جمع ہوئے، مظاہرے سے جاری ہونے والی تصاویر میں مظاہرین نیتن یاہو کی تصویروں اور ان پر تنقید پر مشتمل پلے کارڈ اٹھائے ہوئے ہیں،واضح رہے کہ  یہ اسرائیلی وزیر اعظم کی بدعنوانی اور مقبوضہ فلسطین میں کوروناوائرس کا مقابلہ کرنے میں کیے جانے والے اقدامات سے عدم اطمینان کے خلاف ملک گیر احتجاج کا 35 واں ہفتہ ہے۔
 واضح رہے کہ اپوزیشن گروپوں نے کرونا کے مقابلہ میں ناقص حکمرانی ،بدعنوانی ، رشوت  اور دھوکہ دہی کی وجہ سے نیتن یاہو سے سبکدوش ہونے کا مطالبہ کیا، یادرہے کہ سیاہ پرچم نامی تحریک احتجاج کی بنیاد رکھنے والی ہے،قابل ذکر ہے کہ  اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف گذشتہ ہفتے کے مظاہرے میں ، نیتن یاھو کے حامیوں نے سیاہ پرچم لیے  مظاہرین پر پتھراؤ بھی کیا ۔
واضح رہے کہ صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بدعنوانی سمیت متعدد کیسوں کا سامنا ہے جس کی بنا پر وہ کئی بار عدالت میں بھی پیش ہو چکے ہیں،پوری دنیا کو اپنا غلام بنانے کے خواب دیکھنے ولے صیہونی اپنی مختصر سی آبادی کو تو کنٹرول کر نہیں سکتے ہیں جہاں صیہونیوں شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کا ہر حکمراں بدعنوان ہے  اور اس میں انتظامی امور کی صلاحیت نہیں ہے جس کو لے کر یہاں کے عوام آئے دن مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین