Code : 2456 122 Hit

رسول رحمت(ص) اور جوان

رسول اللہ(ص) نے جوانوں کی طاقت کا اصلی معیار بتلاتے ہوئے فرمایا: تم میں سب سے زیادہ طاقتور وہ ہے کہ اگر وہ کسی چیز سے راضی اور خوش ہوجائے تو اسے یہ خوشی باطل کی طرف نہ کھینچ کر لے جائے اور اگر وہ کسی چیز پر ناراض ہو تو اس کا غصہ اسے حق سے دور نہ کردے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! رسول اللہ(ص) کی کامیابی اور اسلام کی ترقی کا ایک اہم راز یہ تھا کہ سرکار(ص) نے معاشرے کے ہر طبقہ اور خاص طور سے جوانوں کے دلوں کو اپنی محبت و رأفت سے تسخیر کرلیا تھا چونکہ آپ نے یہ طریقہ بذریعہ وحی سیکھا تھا اور آپ حد درجہ جوانوں کی طرف متوجہ تھے اور موقع موقع پر ان کے حال چال دریافت فرمایا کرتے تھے۔
کبھی آپ کسی جوان کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور کبھی ان کے ساتھ بیٹھ کر ان سے میٹھی میٹھی اور اخلاقی باتیں کیا کرتے تھے اور کبھی انہیں محبت و رحمت بھری زبان سے نصیحت فرماتے تھے یہی پیغمبر اکرم(ص) کی منفرد خصوصیت تھی جس کے سبب جوان رسول اللہ(ص) سے عشق کی حد تک محبت کرتے تھے اور ہر وقت آپ پر جاں نثار کرنے کو تیار رہتے تھے۔
اور بہت سی جنگوں میں یہی جوان تھے کہ جن کے ہاتھوں میں اسلام کے لشکر کی سپہ سالاری اور پرچمداری رہتی تھی اور انہیں سے رسول اللہ(ص) مشورہ کیا کرتے تھے اور کبھی یہی جوان رسول اللہ(ص) کے نمائندے بن کر لوگوں میں جاتے اور انہیں دین و شریعت کی طرف دعوت دیتے تھے۔آئیے ہم مقالہ حاضر میں رسول اللہ(ص) کے ساتھ جوانوں کی کچھ ملاقاتوں اور نشستوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
1۔ جوانوں کے درمیان قرآن مجید کی تلاوت
حضرت امام جعفر صادق(ع) نے ارشاد فرمایا:ایک دن پیغمبر اکرم(ص) نے انصار کے کچھ جوانوں کی تعریف کی اور فرمایا: میں تمہارے سامنے قرآن مجید کی کچھ آیتوں کی تلاوت کرنا چاہتا ہوں پس جس نے بھی آیتوں کو سن کر گریہ کیا بہشت اس پر واجب ہوجائے گی چنانچہ اس کے بعد آپ نے سورہ زمر کی آخری آیات کی تلاوت کرنا شروع کردیا’’وَسِیقَ الَّذِینَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتَّى إِذَا جَاؤُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا ‏أَلَمْ یَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ یَتْلُونَ عَلَیْكُمْ آیَاتِ رَبِّكُمْ وَ یُنذِرُونَكُمْ لِقَاء یَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوا بَلَى وَلَكِنْ حَقَّتْ ‏كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِینَ ‘‘۔(1) اور کفر اختیار کرنے والوں کو گروہ در گروہ جہّنم کی طرف ہنکایا جائے گا یہاں تک کہ اس کے سامنے پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے خازن سوال کریں گے کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے جو تمہارے سامنے تمہارے رب کی آیتوں کی تلاوت کرتے اور تمہیں آج کے دن کی ملاقات سے ڈراتے تو سب کہیں گے کہ بیشک رسول آئے تھے لیکن کافرین کے حق میں کلمئہ عذاب بہرحال ثابت ہوچکا ہے۔
زبان رسالتمآب(ص) سے جب ان آیتوں کو سنا تو ایک کے علاوہ سارے جوانوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔اس جوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ(ص)! میرا دل تو رونے کو بہت کررہا تھا لیکن میری آنکھ سے کوئی آنسو کا قطرہ نہ ٹپکا۔
سرکار ختمی مرتبت(ص) نے فرمایا: میں دوبارہ اس آیت کو تمہارے لئے تلاوت کرتا ہوں جس نے بھی اپنا رونے جیسا منھ بنا لیا بہشت اس پر واجب ہوجائے گی اور پھر اسی آیت کو تلاوت فرمایا پھر سب جوان رونے لگے لیکن اس جوان نے کوشش تو کی لیکن اس کا کوئی آنسو جاری نہ ہوسکا ۔بہر حال اس نے اپنی رونے جیسی حالت کرلی اور رسول اللہ (ص) کے فرمان کی روشنی میں سارے جوان بہشت کے حقدار ہوگئے۔(2)
2۔جوانوں کو کھیل کود کے دوران نصیحت
ابن فتال نیشاپوری نے امام جعفر صادق(ع) سے نقل کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ(ص) کا گذر کچھ ایسے جوانوں کے قریب سے ہوا جو بڑے بڑے پتھر اٹھا کر زور آزمائی کررہے تھے یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ(ص) رک گئے آپ نے فرمایا: جوانوں تم یہ سب کیوں کررہے ہو؟ ‏
‏انہوں نے جواب میں کہا:یا رسول اللہ(ص)! ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم میں سے زیادہ طاقتور کون ہے؟
رسول اللہ(ص) نے ان کی نیت و ارادہ دیکھ کر فرمایا: کیا میں تمہیں یہ بتاؤں کہ تم میں سب سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ عرض کیا: ہاں! یا رسول اللہ(ص)۔
آپ نے ارشاد فرمایا: تم میں سب سے زیادہ طاقتور وہ ہے کہ اگر وہ کسی چیز سے راضی اور خوش ہوجائے تو اسے یہ خوشی باطل کی طرف نہ کھینچ کر لے جائے اور اگر وہ کسی چیز پر ناراض ہو تو اس کا غصہ اسے حق سے دور نہ کردے۔(3)
3۔نوجوانوں کو مقابلہ کی دعوت
امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں: جب مسلمان جنگ تبوک سے واپس لوٹ کر مدینہ آئے تو آپ نے حکم دیا کہ اونٹوں کی دوڑ کا انعقاد کیا جائے اور جس کا اونٹ جلد منزل تک پہونچے گا وہی اس دوڑ کا فاتح ہوگا۔ چنانچہ اونٹ کی دوڑ کا مقابلہ شروع ہوا اوررسول اللہ(ص) کا اونٹ جیت گیا کہ جس پر اسامہ بیٹھے ہوئے تھے جو ابھی 17 برس کے جوان تھے۔
سب لوگ با آواز بلند یہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ(ص) اس مقابلہ کے فاتح ہیں لیکن سرکار ختمی مرتبت(ص) نے فرمایا: اسامہ اس دوڑ کے فاتح ہیں۔(4ٌ)
‏4۔ جوانوں کو ڈھارس بندھانا
پورے دوران نبوت رسول اللہْ(ص) کا جوانوں سے گہرا رابطہ اور تعلق تھا چاہے آپ کا مکی دور ہو ایا مدنی زمانہ ، بلکہ بہت سے غیر مسلم جوانوں کے ساتھ بھی آپ کا رویہ نہایت کریمانہ اور مہربانہ تھا اور اس طرح آپ انہیں اسلام کی طرف رہنمائی کرتے تھے اور کبھی تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ جب وہ جوان نہیں ملتا تھا تو آپ اس کو تلاش کرنے کے لئے نکل جاتے تھے۔
چنانچہ نقل ہوا ہے کہ مدینہ میں ایک یہودی جوان اکثر رسول اللہ(ص) کی خدمت میں شرفیاب ہوتا تھا اس حد تک کہ آپ اسے کبھی کبھی اپنا کوئی پیغام لیکر اطراف میں بھیج دیا کرتے تھے ۔چنانچہ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ وہ جوان کئی دن تک آپ کو نظر نہیں آیا آپ نے اصحاب سے اس کے بارے میں دریافت و استفسار فرمایا ،ایک نے جواب دیا: یا رسول اللہ(ص) وہ جوان بستر مرگ پر ہے اور شاید آج کے بعد وہ اس دنیا میں نہ رہے۔
یہ سن کر رسول اللہ(ص) اپنے کچھ اصحاب کو لیکر اس کے گھر تشریف لے گئے اور اسے بیہوش پایا، اور یہ سرکار(ص) کا ایک معجزہ تھا کہ آپ جب بھی کسی کو آواز دیتے تو وہ ضرور بولتا تھا(سوائے منافق  اور ضدی کافر کے) یہاں تک کہ اگر کوئی بیہوش بھی ہوتا تو وہ بھی آپ کی آواز سن کر ہوش میں آجاتا تھا۔
رسول اللہ(ص) نے اسے آواز دی وہ جوان ہوش میں آگیا، اس نے اپنی آنکھیں کھولیں،اور عرض کیا: لبیک یا ابا القاسم، حضرت نے اس سے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور میری رسالت کی گواہی دو
نوجوان نے اپنے باپ کی طر دیکھا جو ایک طرف گوشے میں کھڑا تھا اور اپنے باپ کی شرم کرتے ہوئے کچھ نہ کہہ سکا۔
پھر رسول اللہ(ص) نے دوبارہ اسے اللہ کی توحید اور اپنی رسالت کے اقرار کی طرف دعوت دی لیکن پھر اس نے کوئی جواب نہ دیا اور جب تیسری مرتبہ سرکار(ص) نے فرمایا: تو قریب میں کھڑے یہودی باپ نے ہی کہہ دیا :بیٹا! تم مکمل اختیار رکھتے ہو تم جو چاہے کہو۔
اسی وقت وہ جوان اس طرح گویا ہوا:اشهد ان لا اله الا الله و اشهد انك رسول الله‘‘۔ اور یہ کہتے ہی روح قفس عنصر سے پرواز کرگئی۔
رسول اللہ(ص) نے اس کے باپ سے یہ چاہا کہ آپ(ص) ہی اس کے غسل و کفن و دفن کا بندوبست کریں گے اور اس کے بعد آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: اس جوان کو غسل و کفن دے کر تیار کردو ۔ چنانچہ اصحاب غسل و کفن دے کر جنازے کو رسول اللہ(ص) کی خدمت میں لے آئے۔
رسول اللہ(ص) نے اس تازہ مسلمان کے جنازے پر نماز پڑھی اور پھر دفن کردیا اور رسول اللہ(ص) دفن کے بعد جب گھر لوٹ رہے تھے تو آپ راستہ میں یہ جملہ ارشاد فرمایا:’’ الحمد لله الذی انجا بی الیوم نسمة من النار‘‘۔(5)
اس اللہ کی حمد ہے کہ جس نے میرے سبب ایک انسان کو دوزخ کی آگ سے نجات دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
‏1- سوره زمر: آیه 71 ۔
‏2- سفینة البحار، ج 2، ص 94.۔
‏3- روضة الواعظین، ج 2، ص 379، مشكاة الانوار، ص 32 ۔
‏4- وسائل الشیعه، ج 13، ص 351۔
‏5- داستان دوستان ج 3، ص 323، مشكاة الانوار، ص 392‏۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम