Code : 882 56 Hit

امام محمد باقر(ع) کی با مقصد دعوت کی ترویج کا سلسلہ آج تک باقی ہے: رہبر انقلاب

امام محمد باقر(ع) اور ان کے سچے اصحاب کی ابتدائی لمحات سے ہی وسیع اور ہمہ جانبہ کوشش سے ایک با مقصد اور زیر و زبر کرنے والی شیعی دعوت نئے افق پر طلوع ہوئی۔ اس دعوت کا دامن اس قدر وسیع ہے کہ شیعہ نشین علاقوں (مدینہ اور کوفہ) کے علاوہ جدید علاقے بالخصوص اسلامی مملکت کے وہ حصے جو بنی امیہ کے مرکزسے دور ہیں، ان کا بھی شیعی طرزِ تفکر کے قلمرو میں اضافہ ہوا اور خراسان کو اس فہرست میں سب سے اوپر پیش کیا جاسکتا ہے، جس کے لوگوں میں شیعی تبلیغات کے نفوذ کا متعدد روایات میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔

ولایت پورٹل: امام محمد باقرعلیہ السلام کے انیس سالہ دور امامت (سن ۹۵ سے سن ۱۱۴ ہجری تک)کو ایک مختصر مطالعہ میں اس طرح خلاصہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کے والد امام سجاد علیہ السلام نے اپنی عمر کے آخری لمحات میں ان کو شیعوں کا پیشوا اور اپنا جانشین منتخب کیا اور اس منصب کو ان کے لئے اپنے دوسرے بیٹوں اور وابستہ افراد کے سامنے ثبت کیا۔ ایک صندوق جو روایت کی زبان میں علم و دانش سے پُر یا رسول اللہ کے ہتھیار سے بھرا ہوا تھا،کی نشاندہی فرمائی اور فرمایا:’’اے محمد! اس صندوق کو اپنے گھر لے جاؤ‘‘۔
اس کے بعد دوسرے لوگوں سے خطاب کرکے فرمایا:’’اس صندوق میں درہم و دینار میں سے کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ علم سے بھرا ہوا ہے‘‘۔گویا اس طرح سے اور اس زبان میں حاضرین کے سامنے علمی اور فکری رہبری (علم و دانش) اور انقلابی قیادت (پیغمبر کے ہتھیار) کی میراث پانے والے کا تعارف کروایا۔
امام اور ان کے سچے اصحاب کی ابتدائی لمحات سے ہی وسیع اور ہمہ جانبہ کوشش سے ایک با مقصد اور زیر و زبر کرنے والی شیعی دعوت نئے افق پر طلوع ہوئی۔ اس دعوت کا دامن اس قدر وسیع ہے کہ شیعہ نشین علاقوں (مدینہ اور کوفہ) کے علاوہ جدید علاقے بالخصوص اسلامی مملکت کے وہ حصے جو بنی امیہ کے مرکزسے دور ہیں، ان کا بھی شیعی طرزِ تفکر کے قلمرو میں اضافہ ہوا اور خراسان کو اس فہرست میں سب سے اوپر پیش کیا جاسکتا ہے، جس کے لوگوں میں شیعی تبلیغات کے نفوذ کا متعدد روایات میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔
چنانچہ ہم امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانے سے ہی خراسان اور اس کے مضافات میں دین کی دعوت اور تبلیغ کی خوشبوں بعض روایات سے پہچان سکتے ہیں کہ جو بعد میں اسلامی حکومت کا ایک اہم مرکز بنا۔
لہذا اس روایت:’’حَتّٰی اَقْبَلَ اَبُو جَعْفَرٍ وَ حَوْلُہٗ اَھْلُ خَرَاسَانٍ وَ غَیْرُھُمْ یَسْئَلُوْنَہٗ عَنْ مَنَاسِکِ الْحَجِّ‘‘۔ اسی دور میں خراسان کے حالات کی عکاسی کرتی ہے کہ جو خراسان کے ایک عالم کی عمر ابن عبدالعزیز کے ساتھ ایک عبرت انگیز اور سخت گفتگو کا احوال نقل کرتی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम