Code : 969 59 Hit

کیا ولادت علی(ع) کے موقع پر خانہ کعبہ کی دیوار کا شق ہونا تاریخی اسناد سے ثابت ہے؟

جناب فاطمہ بنت اسد(س) نے بتایا:میں جیسے ہی اللہ کے گھر میں داخل ہوئی میں نے بہشتی پھل اور نعمتیں کھائیں اور جب میں باہر نکلنا چاہتی تھی تو ہاتف غیبی نے مجھ سے کہا: اے فاطمہ! اس مولود کا نام علی رکھنا! چونکہ یہ بہت بلند مرتبہ ہے اور اللہ تعالٰی نے کہا ہے کہ میں نے اس کے نام کو اپنے نام اعلیٰ سے مشتق کیا ہے اور میں نے اسے اپنے خاص اخلاق و آداب سے مزین کیا ہے اور اپنے پیچیدہ علوم سے آگاہ کیا اور یہ وہی بچہ ہے جو میرے گھر کے بتوں کو توڑے گا اور میرے گھر کی چھت پر اذان دے گا اور مجھے عظمت و بزرگواری کے ساتھ یاد کرے گا۔اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس سے محبت اور اس کی اطاعت کریں گے اور وائے ہو ان لوگوں پر جو اس سے دشمنی کریں گے اور اس کے نافرمان ہوں گے۔

ولایت پورٹل: عالم اسلام کے مشہور و معروف مؤرخین و محدثین کی نقل کردہ روایات و واقعات کی رو سے 13 رجب سن 30 عام الفیل کو عین خانہ کعبہ کے وسط میں حضرت علی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ چنانچہ علماء نے اس واقعہ کو اس طرح نقل کیا ہے: یزید بن قعنب کا بیان ہے کہ:میں اور عباس بن عبد المطلب(حضرت علی(ع) کے چچا) اور عبد العزی قبیلہ کے کچھ لوگ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہم نے فاطمہ بنت اسد(حضرت علی(ع) کی والدہ ماجدہ) کو ایک خاص حالت میں بیت اللہ کے قریب آتے دیکھا کہ جو اس حاملہ تھیں۔اور ان کو پورے 9 مہینہ گذر چکے تھے۔وہ آئیں اور اللہ کی بارگاہ میں دعا کرنے لگیں: یا اللہ! میں تجھ پر اور تیرے بھیجے ہوئے انبیاء اورتیری نازل کردہ کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔اور اپنے جد  حضرت ابراہیم خلیل کہ جنہوں نے اس عظیم المرتبت گھر کو تعمیر کیا ہے، کے پیغامات کی تصدیق کرتی ہوں اور ان پر یقین کامل رکھتی ہوں۔میں تجھے اس بچے کا واسطہ دیتی ہوں جو میرے شکم میں ہے میری وضع حمل کی مشکل کو آسان کردے۔
یزید بن قعنب کا بیان ہے: ہم نے اسی درمیان دیکھا کہ خانہ کعبہ کی پچھلی دیوار شگافتہ ہوئی اور فاطمہ کعبہ میں داخل ہوگئیں اور ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوگئی اور دیوار پھر سے آپس میں مل گئی۔
ہم لوگ کھڑے ہوئے کہ خانہ کعبہ کے تالے کو کھول کر دیکھیں کہ ماجرا کیا ہے،ہم سے تالہ نہ کھل سکا لہذا ہم نے سمجھ لیا کہ اس روداد کے پیچھے ضرور فرمان الہی کارفرما ہے۔
مکمل 4 دن گذرنے کے بعد ابو طالب کی زوجہ فاطمہ بنت اسد جب خانہ کعبہ سے باہر نکلیں تو ان کی آغوش میں ایک نو مولود بچہ(علی) تھا انہوں نے کہا:مجھے اللہ نے تاریخ کی سابق خواتین پر برتری و کرامت عطا کی ہے۔چونکہ آسیہ بنت مزاحم،ایک ایسی مخفی جگہ پر اللہ کی عبادت کرتی تھیں کہ جہاں مجبوری کے علاوہ عبادت کرنی مناسب نہیں تھی۔اور مریم بنت عمران نے اپنے ہاتھ سے کھجور کی سوکھی ٹہنی کو ہلایا تو اس سے تازہ کھجور گرے اور مریم نے انہیں کھایا۔
لیکن میں جیسے ہی اللہ کے گھر میں داخل ہوئی میں نے بہشتی پھل اور نعمتیں کھائیں اور جب میں باہر نکلنا چاہتی تھی تو ہاتف غیبی نے مجھ سے کہا: اے فاطمہ! اس مولود کا نام علی رکھنا! چونکہ یہ بہت بلند مرتبہ ہے اور اللہ تعالٰی نے کہا ہے کہ میں نے اس کے نام کو اپنے نام اعلیٰ سے مشتق کیا ہے اور میں نے اسے اپنے خاص اخلاق و آداب سے مزین کیا ہے اور اپنے پیچیدہ علوم سے آگاہ کیا اور یہ وہی بچہ ہے جو میرے گھر کے بتوں کو توڑے گا اور میرے گھر کی چھت پر اذان دے گا اور مجھے عظمت و بزرگواری کے ساتھ یاد کرے گا۔اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس سے محبت اور اس کی اطاعت کریں گے اور وائے ہو ان لوگوں پر جو اس سے دشمنی کریں گے  اور اس کے نافرمان ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
1۔روضة الواعظین، ج1، ص76۔
2۔کشف الغمه ج1، ص59۔
3۔امالی، ص80۔
4۔علل الشرایع،ص56۔
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین